پشاور (حسن علی شاہ) — خیبرپختونخوا میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد نئی قیادت سے عوام نے جو توقعات وابستہ کی تھیں، وہ تاحال پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں امن و امان، بے گھر افراد کے مسائل اور انتظامی چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔
مبصرین کے مطابق جنوبی اضلاع جیسے اورکزئی، خیبر، کرم، وزیرستان، بنوں، لکی مروت، ہنگو، ٹانک اور درہ آدم خیل میں سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے خلاف سیکیورٹی ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور جرات قابلِ تحسین قرار دی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب تیراہ اور دیگر علاقوں سے بے گھر ہونے والے خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جمرود اور باڑہ میں متاثرہ افراد کھلے آسمان تلے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ امدادی رقوم اور معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح کی قیادت کو خیبرپختونخوا کے مسائل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مشکلات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عوامی مسائل کے حل اور گورننس میں بہتری نہ لائی گئی تو اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

