Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا
    • اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ
    • گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک
    • تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
    • چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال
    • پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ملا محمد جان!
    بلاگ مئی 5, 2025

    ملا محمد جان!

    Facebook Twitter Email
    Pashtuns have always been a subject of interest to me
    امریکہ نے بہت چاہا کہ اس خطے میں پشتونوں کو اسرائیل کی حیثیت دے، مگر آج طالبان کی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی خصوصی تحرير: ۔

    پشتون ہمیشہ سے میرے لیے دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ ایک وجہ تو یقیناً یہ ہے کہ میں خود ایک نجیب الطرفین محمدزئی پشتون ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پشتونوں کے بارے میں جتنا بھی لکھا گیا ہے، کم از کم میں کئی تحقیقی حوالوں سے اسے مستند اور معتبر نہیں سمجھتا۔ پشتونوں کے بارے میں یا خود پشتونوں نے لکھا ہے یا پشتون مخالف تاریخ نویسوں نے۔ جو اپنوں نے لکھا ہے، اس کے مطابق تو ہم واحد انسانی نسل ہیں جو خالق کے محبوب ترین اور اعلیٰ ترین ہیں۔ جو اغیار نے کہا ہے، وہ بھی بغضِ معاویہ میں کہا ہے۔ ہم بہرحال اتنے بُرے بھی نہیں ہیں۔

    پشتونوں کے بارے میں میری تیسری دلچسپی یہ ہے کہ ان کی ذہنی تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دو پشتون لکھاری اور دانشور ایسے ہیں جنہیں میں بہت زیادہ مستند بلکہ اپنا استاد مانتا ہوں۔ سعد اللہ جان برق پشتونوں کی تاریخ اور اصل و نسل کے بارے میں جو کہتے ہیں، وہ پتھر پر لکیر ہوتی ہے۔ افراسیاب خٹک پشتونوں کی سیاست اور سماج پر جو کہتے اور لکھتے ہیں، گویا میرے نزدیک حتمی ہوتا ہے۔

    میں ادبیات کی بات نہیں کر رہا، ورنہ پھر تو میرے اساتذہ، بزرگ اور دوست بے شمار ہیں۔ دوست محمد خان کامل، کاکا جی صنوبر حسین، قلندر مومند، سید تقویم الحق کاکا خیل، پروفیسر ڈاکٹر صاحب شاہ صابر، رحمت شاہ سائل اور کئی دیگر معتبر دوست ہیں۔

    افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ پشتونوں کی تاریخ بڑی شاندار مگر جغرافیہ انتہائی بُرا ہے۔ مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے۔ جغرافیہ ہمارا قیمتی اثاثہ تھا مگر ہم اتنے نااہل تھے کہ اس کو اپنا رِستا ہوا زخم بنا لیا۔ تاریخ اگر ہماری شاندار ہوتی تو آج ہم جغرافیہ سے مستفید ہوتے، اس کا رونا نہ روتے۔

    بعض دوستوں کا خیال ہے کہ پشتون بحیثیت قوم روشن فکر اور ترقی پسند لوگ تھے، مگر سامراجی استعماری قوتوں نے انہیں شدت پسند بنایا۔ میں اس خیال سے بھی متفق نہیں ہوں۔ ہم تھے ہی شدت پسند اور ہم ہیں ہی شدت پسند۔ کسی بھی قوم کو جاننے کے لیے اس کے فولک لٹریچر کو جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔ میں تو خود اس کا بہت زیادہ قائل ہوں۔ ہمارے فولک لور کو دیکھ لیجیے۔ ملا اور طالب کے شعری و نثری مواد سے بھرا ہوا ہے۔ ہزاروں سال کے پشتو عوامی ادب کو آپ مطالعہ کریں گے تو آپ کو طالب اور ملا غالب نظر آئیں گے۔ تو کیا میں یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں ہوں کہ مذہبیت ہمارے ڈی این اے میں ہے؟ ہم واقعی مذہبی جنونیت میں مبتلا قوم ہیں۔

    آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لبرلز، ترقی پسند، قوم پرست اور جمہوریت نواز پشتون سیاسی جماعتوں کو پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب کسی بھی شکل میں ہو، لیکن لوگ مذہبی نعرے کے پیچھے جاتے ہیں۔ وہ نعرہ بھلے عمران خان کا ریاستِ مدینہ کا پُرفریب ڈھکوسلہ کیوں نہ ہو۔ تو یہ سب کیا ہے؟ سوویت یونین نے ترقی پسند پشتونوں کو اقتدار میں لایا تھا۔ کیوں عوام نے انہیں مسترد کیا؟ امریکہ نے بھی تو بیس سال لبرلز اور جمہوریت نوازوں کو پالا پوسا۔ کیوں وہ سب بھاگ گئے؟ آج امریکہ طالبان کو بٹھانے پر کیوں مجبور ہوا؟ آج چین طالبان کا ساتھ کیوں دے رہا ہے؟ روس کیوں طالبان کا سب سے بڑا حامی بنا ہے؟

    جی ہاں، وقت، حالات، تاریخ اور تجربات نے یہی ثابت کیا کہ پشتون یہی ہے جو نظر آ رہا ہے۔۔۔ یہ کبھی ترقی پسند، لبرل اور جمہوریت نواز ہو ہی نہیں سکتا۔ جو پشتون قوم پرست جماعتیں افغان قومی وحدت اور گریٹر پشتونستان کی باتیں کر رہی تھیں، کیا آج تیار ہیں مولوی ہیبت اللہ کی امارت میں پشتونستان بنانے کے لیے؟

    امریکہ نے بہت چاہا کہ اس خطے میں پشتونوں کو اسرائیل کی حیثیت دے، مگر آج طالبان کی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔ پشتونوں کی بچت پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہونے میں ہے۔ آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے حقوق کی جنگ لڑنی ہے۔ آج جو بھی پشتون لکھاری پشتونوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، وہاں عقل سے پیدل پشتون اسے فوراً غدار اور ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں۔ اباسین یوسفزئی کی مثال ابھی تازہ تازہ سب کے سامنے ہے۔ پشتونوں، حقیقت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے آپ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو، اپنی آنے والی نسلوں کی بربادی کا سامان خود اپنے ہاتھوں سے کرتے جا رہے ہو۔

    ہاں، یاد آیا "ملا محمد جان” میرا پسندیدہ گانا ہے، اس لیے بطور ہیڈ لائن لکھا ہے۔ دیکھیے، میرے اندر بھی ایک ننھا منا طالب چھپا بیٹھا ہوا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا میں سيکیورٹی فورسز کی 3 مختلف کارروائیاں، 8 دہشتگرد ہلاک، ایک جوان شہید
    Next Article قومی اسمبلی میں بھارتی اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ

    اکتوبر 21, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.