Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان میں ذیابیطس کا طوفان: ایک میٹھی سازش کی کڑوی حقیقت
    بلاگ اگست 11, 2025

    پاکستان میں ذیابیطس کا طوفان: ایک میٹھی سازش کی کڑوی حقیقت

    Facebook Twitter Email
    Diabetes Storm in Pakistan: The Bitter Truth of a Sweet Conspiracy
    میٹھے مشروبات کی فروخت پر پابندی اور بچوں کے لیے صرف صحت مند خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانا، پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان کی خصوصی تحریر: ۔ 

    تقریباً ساٹھ سال پہلے پاکستان میں دکانوں کے باہر ٹھنڈے مشروبات رکھنے کے لیے بڑے بڑے ٹرنک رکھے جانے لگے ۔ پیپسی اور کوکا کولا جیسی کمپنیاں یہ ٹرنک دکانداروں کو مفت دیتی تھیں ۔ ان میں برف ڈالی جاتی، بوتلیں چمکتی ہوئی قطاروں میں سجی ہوتیں، اور یہ مشروب صرف ایک لذت نہیں بلکہ عیاشی اور سماجی رتبے کی علامت سمجھے جاتے ۔ مہمان آتے تو بچے دوڑ کر ٹھنڈی بوتل لاتے، اور یوں یہ کلچر خوشی اور وقار کا حصہ بن گیا ۔ مگر اس چمکدار شروعات کے پیچھے ایک خاموش کاروباری منصوبہ چھپا تھا، جس کا خمیازہ آج کروڑوں پاکستانی بھگت رہے ہیں ۔

    عالمی ادارہ برائے ذیابیطس کے مطابق آج پاکستان میں بالغ آبادی کا تقریباً 31 فیصد حصہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے، یعنی ساڑھے تین کروڑ سے زائد لوگ، اور یہ تعداد ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 7 کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے ۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 2 کروڑ پاکستانی ایسے ہیں جنہیں علم ہی نہیں کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں، جب تک پیچیدگیاں سامنے نہ آ جائیں ۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کو دنیا میں ذیابیطس کی شرح کے اعتبار سے پہلے نمبر پر لے آئے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں ذیابیطس پر براہِ راست اور بالواسطہ معاشی بوجھ کا تخمینہ 7 ارب امریکی ڈالر سالانہ لگایا جا رہا ہے، جو ہمارے قومی ہیلتھ بجٹ کا بڑا حصہ کھا رہا ہے ۔

    یہ سب محض اتفاق نہیں ۔ پچھلی نصف صدی میں خوراک کی عادات بدلنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی اپنائی گئی ۔ زیادہ شکر والے مشروبات، پراسیسڈ کھانے، اور چکنائی سے بھرے سنیکس عام کیے گئے ۔ مارکیٹنگ نے انہیں خوشی، جوانی اور کامیابی کی علامت بنا دیا ۔ جب لوگ آہستہ آہستہ بیمار ہونے لگے تو وہی ملٹی نیشنل کمپنیاں، جو مٹھاس بیچ کر مرض پھیلاتی تھیں، دوا ساز اداروں کے ساتھ مل کر انسولین، دوائیں اور علاج بیچنے لگیں ۔ یہ ایک ایسا بندوبست ہے جس میں بیماری ایک مستقل کاروبار بن جاتی ہے، پہلے مرض پیدا کرو، پھر علاج بیچو ۔

    یہ حکمت عملی صرف پاکستان میں نہیں اپنائی گئی ۔ میکسیکو میں 1980 کی دہائی میں سافٹ ڈرنکس کے فروغ کے بعد ذیابیطس کی شرح دوگنی ہو گئی ۔ امریکا میں 1960 سے 2020 کے درمیان فی کس چینی کی کھپت میں 300 فیصد اضافہ ہوا اور آج وہاں ذیابیطس پر سالانہ 327 ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں ۔ بھارت میں فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات کی یلغار نے گزشتہ 25 برسوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد چار گنا بڑھا دی ۔

    ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوڈ اینڈ ڈرگ مافیا کی یہ حکمت عملی ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے تحت چلتی ہے، جہاں فوڈ کمپنیاں صحت مند خوراک کے بجائے زیادہ منافع والی خوراک بیچتی ہیں، اور فارما انڈسٹری انہی بیماریوں کو ساری زندگی کا مستقل گاہک بنا لیتی ہے ۔

    ہماری موجودہ نسل اس جال میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔ ہر سال ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کے باعث پاکستان میں دو لاکھ سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ یہ صرف ایک صحت کا بحران نہیں بلکہ معاشی اور سماجی المیہ ہے ۔ علاج کا خرچ، روزگار کا نقصان، اور خاندان پر پڑنے والا نفسیاتی دباؤ، یہ سب ہمارے اجتماعی مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں فی کس شکر کی کھپت تقریباً 24 کلوگرام سالانہ ہے، جو عالمی صحت تنظیم کے تجویز کردہ معیار سے دو گنا زیادہ ہے ۔

    لیکن ابھی بھی وقت ہے کہ ہم راستہ بدل سکیں ۔ ہمیں اپنی غذا میں شکر کی مقدار کم کرنی ہوگی، قدرتی اور مقامی خوراک کو اپنانا ہوگا، اور جسمانی سرگرمی کو زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا ۔ یہ تبدیلی صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحفہ ہوگی ۔ کیونکہ اگر آج ہم نے کچھ نہ کیا تو کل ہمارے بچے بھی انہی بوتلوں کی چمک اور انہی بیماریوں کے اندھیرے میں پلیں گے ۔

    پاکستان میں ہیلتھ پالیسی کی ناکامی اور شوگر ٹیکس کی ضرورت: ۔
    پاکستان کی موجودہ ہیلتھ پالیسی ذیابیطس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ۔ ملک میں نہ تو شکر والے مشروبات پر بھرپور آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کی فروخت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں ۔ دنیا کے کئی ممالک ، جیسے میکسیکو، سعودی عرب، اور برطانیہ، نے شوگر ٹیکس نافذ کر کے شکر والے مشروبات کی کھپت میں نمایاں کمی کی ہے ۔ میکسیکو میں اس ٹیکس کے بعد پہلے ہی سال میں فروخت 12 فیصد کم ہو گئی ۔

    پاکستان میں بھی اگر فی لیٹر کم از کم 20 سے 25 روپے کا شوگر ٹیکس لگایا جائے، اور اس آمدنی کو صحت عامہ کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے، تو اس کے نتیجے میں نہ صرف کھپت کم ہوگی بلکہ حکومت کو اضافی آمدنی بھی حاصل ہوگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں اور عوامی مقامات پر میٹھے مشروبات کی فروخت پر پابندی، اور بچوں کے لیے صرف صحت مند خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانا، پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ۔

    یہ اقدامات وقتی طور پر سخت یا غیر مقبول لگ سکتے ہیں، مگر ان کے بغیر پاکستان آنے والے برسوں میں ذیابیطس کے عالمی دارالحکومت کے طور پر بدنام ہو سکتا ہے ۔ یہ صرف عوامی صحت نہیں بلکہ قومی معیشت اور بقا کا سوال ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے،صدر مملکت آصف علی زرداری
    Next Article ژوب میں آپریشن، مزید 3 دہشتگرد ہلاک، 4 روز میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 50 ہو گئی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.