چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا مؤثر ردعمل دینے پر پاک فوج کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی ۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکوئٹہ کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہیں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال اور اندرونی سلامتی کے جاری آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا، تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جواز کے تحت تشدد اور دہشت گردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
فیلڈ مارشل نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے وطن دشمن سازشوں کو ناکام بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے پر خراجِ تحسین پیش کی۔
ملک کی سلامتی کے حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ بیان کہ’’کوئی دہشتگرد اور سہولت کار نہیں بخشا جائے گا‘‘ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک واضح پالیسی اعلان ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان ایک بار پھر اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کی زد میں ہے، اس قسم کے دوٹوک بیانات ریاستی عزم کی ترجمانی کرتے ہیں اور دشمن عناصر کے لیے ایک کھلا پیغام بھی ہوتے ہیں ۔
گزشتہ چند برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب یہ صرف سرحد پار سے دراندازی یا پہاڑوں میں چھپے گروہوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سہولت کاری، مالی معاونت، خفیہ معلومات کی ترسیل اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے یہ ناسور معاشرے کے اندر تک سرایت کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کارروائی صرف بندوق اٹھانے والے دہشتگرد تک محدود رہے اور سہولت کار محفوظ رہیں تو مسئلہ کبھی جڑ سے ختم نہیں ہو سکتا۔ فیلڈ مارشل کا بیان اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب دائرۂ احتساب وسیع ہو چکا ہے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کئی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز نے دہشتگردوں کی کمر توڑی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ بعض عناصر نے نئے راستے اختیار کر لیے۔ شہری مراکز میں خاموش نیٹ ورکس، جعلی شناختیں اور سہولت کاروں کی مدد سے دوبارہ سر اٹھانے کی کوششیں کی گئیں۔ ایسے حالات میں پاک فوج کے سربراہ چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے یہ اعلان کہ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔
اس بیان کا ایک اور پہلو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال سے بھی جڑا ہے، افغانستان کی صورتحال، سرحدی کشیدگیاں اور عالمی طاقتوں کے مفادات ،یہ سب عوامل پاکستان کی داخلی سلامتی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں مضبوط اور واضح پیغام نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان اب کسی قسم کی پراکسی جنگ یا عدم استحکام کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ۔
میڈیا اور عوامی رائے کی ذمہ داری بھی یہاں کم نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ افواہوں، آدھی سچائیوں اور سنسنی خیزی سے گریز کیا جائے۔ قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ ریاستی کوششوں کی حمایت کی جائے، ساتھ ہی ساتھ شفافیت اور آئینی دائرے میں رہنے پر سوال اٹھانا بھی جمہوری حق ہے۔ لیکن کسی سیاسی جماعت کو اپنی سیاست چمکانے اور ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے کیلئے سیاسی بیانئے کے بجائے ریاست کا ساتھ دینے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فیلڈ مارشل کا بیان ایک وارننگ بھی ہے اور ایک وعدہ بھی، وارننگ اُن عناصر کے لیے جو اب بھی ملک کے امن سے کھیلنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور وعدہ اُن شہریوں کے لیے جو برسوں سے امن کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اب اصل امتحان صرف ریاسی اداروں کا نہیں تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کا بھی ہے ،سب کو مل کر دہشتگردوں کے خلاف ایک پیج پر ہونا ہوگا ۔ اگر ان سب میں یکجہتی نظر آئی تو یقیناً یہ بیان تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔

