(مبارک علی) پاکستان نے افغانستان میں اپنے تزویراتی (اسٹریٹجک) مقاصد کو واضح کر دیا ہے، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور سرحدی دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائیوں پر مبنی ہیں۔
حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے اور افغان طالبان نے سرحدی علاقوں میں جوابی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کے موجودہ اسٹریٹجک اہداف میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی سہولیات کی بنیادی ڈھانچہ تباہ کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ، افغان طالبان کے زیر استعمال اسلحہ خانوں کو نشانہ بنانا ہے، جو سرحد پر مسائل پیدا کرنے اور خودکش حملہ آوروں کو بھیجنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سرحد سے آگے اسٹریٹجک پوسٹس پر قبضہ کرکے ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ طالبان کی طرف سے ممکنہ دراندازی کو روکا جا سکے۔
ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ موجودہ طالبان گروپ کو فوجی طور پر اتنا کمزور کیا جائے کہ افغانستان میں دیگر گروپس کو خود کو مضبوط کرنے کا موقع ملے۔ پاکستان نے طالبان قیادت کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ ان کی موجودہ پالیسیاں ناقابل برداشت ہیں اور انہیں فوری طور پر اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
حالیہ واقعات میں 26 فروری کو افغان طالبان نے سرحدی علاقوں پر پاکستانی فوجی پوزیشنز پر حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے "اوپن وار” کا اعلان کر دیا۔ پاکستان ایئر فورس نے کابل، قندھار، پکتیا اور دیگر علاقوں میں طالبان کے فوجی ٹھکانوں، ہتھیاروں کے ذخائر اور دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں سینکڑوں طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے شہری ہلاکتوں کا الزام لگایا ہے۔
اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہے ہیں، جو پاکستان میں حملوں کا ذمہ دار ہے، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ دونوں ممالک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی فوجی طاقت برتری رکھتی ہے، مگر افغان طالبان گوریلا جنگ میں ماہر ہیں۔ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی طرف واپس آنا ہوگا تاکہ مزید خونریزی روکی جا سکے۔

