اسلام آباد سے مبارک علی کی خصوصی تحریر: ۔
پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کو کم کرنے، فوری سیز فائر نافذ کرنے اور عالمی تیل کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرموز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اہم سفارتی پیش رفت کی ہے، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رات بھر طویل اور اہم بات چیت کی ہے، جس میں پاکستان نے دو مراحل پر مشتمل جامع امن تجویز پیش کی ہے جسے عارضی طور پر ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے ۔
پہلے مرحلے میں فوری سیز فائر کا نفاذ اور آبنائے ہرموز کو بحال کرنے کا اقدام تجویز کیا گیا ہے، یہ گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے،حالیہ تنازعے کی وجہ سے اس راستے کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور عالمی شپنگ شدید متاثر ہوئی ہے ۔
دوسرے مرحلے میں 15 سے 20 دن کے اندر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حتمی اور جامع امن معاہدے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے ۔
اس معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی پابندیاں قبول کرے گا اور کسی قسم کے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی دے گا، بدلے میں ایران کو بین الاقوامی پابندیوں میں ریلیف، منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرموز کے انتظام کے لیے علاقائی فریم ورک کی پیشکش کی جائے گی ۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ تہران کو پاکستان کی تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور ان پر غور و فکر جاری ہے ،انہوں نے پاکستان کی ثالثی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم امن کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہیں، مگر قومی مفادات کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنائیں گے ۔‘‘
امریکی حکام نے ان مذاکرات کو ’’مثبت اور تعمیری‘‘ قرار دیا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے چل رہے تناؤ کو کم کرے گا بلکہ خطے میں مستقل امن کی بنیاد بھی رکھے گا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوا تو عالمی تیل کی قیمتیں مستحکم ہوں گی اور مشرق وسطیٰ میں دہائیوں پرانا تنازعہ حل ہونے کی راہ ہموار ہو سکے گی، پاکستان کی یہ سفارتی کاوش اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا ہے اور حالیہ ہفتوں میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مشترکہ کاوشوں سے خطے میں امن کی کوششیں تیز ہوئی ہیں ۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، سیاسی اور معاشی اُمور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے ۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ اگر نافذ ہوا تو یہ نہ صرف ایران کے جوہری مسئلے کا پرامن حل پیش کرے گا بلکہ آبنائے ہرموز جیسے اہم سٹریٹجک مقام پر علاقائی تعاون کا نیا فریم ورک بھی قائم کرے گا۔ اب سب کی نظریں تہران اور واشنگٹن کے اگلے ردعمل پر ہیں ۔

