Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کویت ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری
    • آئندہ وفاقی بجٹ مہنگائی کا نیا طوفان لائے گا، شوکت یوسف زئی
    • ایبٹ آباد: سیاحوں پر مبینہ تشدد کیس، ایکسائز کا سب انسپکٹر نسیم خان گرفتار
    • افغانستان سے پاکستانی شہریوں اور اداروں پر حملے برداشت نہیں، دفتر خارجہ
    • مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق
    • آئی سی سی نے ون ڈے فارمیٹ کے کھلاڑیوں کی نئی رینکنگ جاری کردی
    • ایس آئی ایف سی کی تین سالہ شاندار کارکردگی، معدنی شعبے کی ترقی میں اہم کامیابیاں
    • کفایت شعاری اصلاحات؛ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 4.5 ارب روپے کی ریکارڈ بچت کر لی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم
    بلاگ

    ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم

    اپریل 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Unfair distribution of state resources
    اشرافیہ سے مراد وہ بااثر طبقات ہیں جو نہ صرف وسائل بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد سے علی شیر کی خصوصی تحریر: ۔

    پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی کی بلند شرح، بڑھتا ہوا مالی خسارہ، اور بیرونی قرضوں کا بوجھ عوام کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے، ایسے میں ایک بنیادی سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا ریاستی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہے، یا یہ ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو چکی ہے؟

    حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی رپورٹس، بالخصوص اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تحقیق، اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کو سالانہ تقریباً 17.4 ارب ڈالر (تقریباً 4,000 سے 4,500 ارب روپے) کی مراعات دی جاتی ہیں، یہ رقم قومی معیشت کے حجم کا لگ بھگ 6 فیصد بنتی ہے،جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ایک غیر معمولی بوجھ ہے ۔

    اشرافیہ سے مراد وہ بااثر طبقات ہیں جو نہ صرف وسائل بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں، ان میں کارپوریٹ سیکٹر، بڑے زمیندار، اعلیٰ بیوروکریسی اور دیگر طاقتور ادارے شامل ہیں، کارپوریٹ شعبہ اکیلا ہی سالانہ تقریباً 4.7 ارب ڈالر کی مراعات حاصل کرتا ہے، جن میں ٹیکس چھوٹ، سستی توانائی اور مختلف سبسڈیز شامل ہیں ۔

    دوسری جانب زرعی شعبے میں بڑے زمیندار، جو آبادی کا محض ایک معمولی حصہ ہیں، وسیع زرعی زمینوں کے مالک ہونے کے باوجود مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ۔

    بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں کو حاصل مراعات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سرکاری رہائش، گاڑیاں، مفت ایندھن اور دیگر سہولیات ایک ایسا نظام تشکیل دیتی ہیں جہاں مراعات تنخواہوں سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں، یہ تمام سہولیات بالآخر قومی خزانے پر بوجھ بنتی ہیں، جس کا ازالہ ٹیکسز اور مہنگائی کی صورت میں عام شہری سے لیا جاتا ہے ۔

    وسائل کی اس غیر مساوی تقسیم کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ جہاں غریب طبقے کے لیے سبسڈی کا حجم چند درجن ارب روپے تک محدود ہے، وہیں اشرافیہ کو ہزاروں ارب روپے کی مراعات حاصل ہیں، یہ تفاوت نہ صرف معاشی عدم توازن کو بڑھاتا ہے بلکہ سماجی ناانصافی کو بھی جنم دیتا ہے ۔

    معاشی ماہرین کے مطابق، ان مراعات کے نتیجے میں مالی خسارہ بڑھتا ہے، ٹیکس کا بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر منتقل ہوتا ہے، اور معیشت میں مسابقتی ماحول متاثر ہوتا ہے، مزید برآں، یہ نظام سرمایہ کاری کے قدرتی بہاؤ کو بھی بگاڑتا ہے، کیونکہ مراعات یافتہ شعبے غیر معمولی فوائد حاصل کر لیتے ہیں جبکہ دیگر شعبے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

    سوال یہ نہیں کہ مراعات ہونی چاہئیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ مراعات منصفانہ، شفاف اور قومی مفاد کے مطابق ہیں؟ دنیا کے کئی ممالک میں مخصوص شعبوں کو وقتی مراعات دی جاتی ہیں تاکہ معاشی سرگرمی کو فروغ دیا جا سکے، مگر پاکستان میں یہ مراعات ایک مستقل ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جن کا خاتمہ یا اصلاح ایک مشکل مگر ناگزیر عمل بن چکا ہے ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدہ بنیادوں پر ٹیکس اصلاحات متعارف کروائے، غیر ضروری سبسڈیز کا خاتمہ کرے، اور مراعات کو ایک شفاف اور منصفانہ نظام کے تحت لائے، جب تک ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا ۔

    آخرکار، ریاست کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ محدود طبقے کے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی، یا پورے معاشرے کی فلاح کو ترجیح دے گی، کیونکہ مضبوط معیشت کی بنیاد صرف ترقیاتی منصوبے نہیں، بلکہ انصاف پر مبنی نظام ہوتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی سے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید
    Next Article باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کویت ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری

    جون 4, 2026

    آئندہ وفاقی بجٹ مہنگائی کا نیا طوفان لائے گا، شوکت یوسف زئی

    جون 4, 2026

    ایبٹ آباد: سیاحوں پر مبینہ تشدد کیس، ایکسائز کا سب انسپکٹر نسیم خان گرفتار

    جون 4, 2026

    افغانستان سے پاکستانی شہریوں اور اداروں پر حملے برداشت نہیں، دفتر خارجہ

    جون 4, 2026

    مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق

    جون 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.