Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا
    • سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم
    بلاگ اپریل 4, 2026

    ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم

    Facebook Twitter Email
    Unfair distribution of state resources
    اشرافیہ سے مراد وہ بااثر طبقات ہیں جو نہ صرف وسائل بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد سے علی شیر کی خصوصی تحریر: ۔

    پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی کی بلند شرح، بڑھتا ہوا مالی خسارہ، اور بیرونی قرضوں کا بوجھ عوام کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے، ایسے میں ایک بنیادی سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا ریاستی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہے، یا یہ ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو چکی ہے؟

    حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی رپورٹس، بالخصوص اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تحقیق، اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کو سالانہ تقریباً 17.4 ارب ڈالر (تقریباً 4,000 سے 4,500 ارب روپے) کی مراعات دی جاتی ہیں، یہ رقم قومی معیشت کے حجم کا لگ بھگ 6 فیصد بنتی ہے،جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ایک غیر معمولی بوجھ ہے ۔

    اشرافیہ سے مراد وہ بااثر طبقات ہیں جو نہ صرف وسائل بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں، ان میں کارپوریٹ سیکٹر، بڑے زمیندار، اعلیٰ بیوروکریسی اور دیگر طاقتور ادارے شامل ہیں، کارپوریٹ شعبہ اکیلا ہی سالانہ تقریباً 4.7 ارب ڈالر کی مراعات حاصل کرتا ہے، جن میں ٹیکس چھوٹ، سستی توانائی اور مختلف سبسڈیز شامل ہیں ۔

    دوسری جانب زرعی شعبے میں بڑے زمیندار، جو آبادی کا محض ایک معمولی حصہ ہیں، وسیع زرعی زمینوں کے مالک ہونے کے باوجود مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ۔

    بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں کو حاصل مراعات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سرکاری رہائش، گاڑیاں، مفت ایندھن اور دیگر سہولیات ایک ایسا نظام تشکیل دیتی ہیں جہاں مراعات تنخواہوں سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں، یہ تمام سہولیات بالآخر قومی خزانے پر بوجھ بنتی ہیں، جس کا ازالہ ٹیکسز اور مہنگائی کی صورت میں عام شہری سے لیا جاتا ہے ۔

    وسائل کی اس غیر مساوی تقسیم کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ جہاں غریب طبقے کے لیے سبسڈی کا حجم چند درجن ارب روپے تک محدود ہے، وہیں اشرافیہ کو ہزاروں ارب روپے کی مراعات حاصل ہیں، یہ تفاوت نہ صرف معاشی عدم توازن کو بڑھاتا ہے بلکہ سماجی ناانصافی کو بھی جنم دیتا ہے ۔

    معاشی ماہرین کے مطابق، ان مراعات کے نتیجے میں مالی خسارہ بڑھتا ہے، ٹیکس کا بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر منتقل ہوتا ہے، اور معیشت میں مسابقتی ماحول متاثر ہوتا ہے، مزید برآں، یہ نظام سرمایہ کاری کے قدرتی بہاؤ کو بھی بگاڑتا ہے، کیونکہ مراعات یافتہ شعبے غیر معمولی فوائد حاصل کر لیتے ہیں جبکہ دیگر شعبے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

    سوال یہ نہیں کہ مراعات ہونی چاہئیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ مراعات منصفانہ، شفاف اور قومی مفاد کے مطابق ہیں؟ دنیا کے کئی ممالک میں مخصوص شعبوں کو وقتی مراعات دی جاتی ہیں تاکہ معاشی سرگرمی کو فروغ دیا جا سکے، مگر پاکستان میں یہ مراعات ایک مستقل ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جن کا خاتمہ یا اصلاح ایک مشکل مگر ناگزیر عمل بن چکا ہے ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدہ بنیادوں پر ٹیکس اصلاحات متعارف کروائے، غیر ضروری سبسڈیز کا خاتمہ کرے، اور مراعات کو ایک شفاف اور منصفانہ نظام کے تحت لائے، جب تک ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا ۔

    آخرکار، ریاست کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ محدود طبقے کے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی، یا پورے معاشرے کی فلاح کو ترجیح دے گی، کیونکہ مضبوط معیشت کی بنیاد صرف ترقیاتی منصوبے نہیں، بلکہ انصاف پر مبنی نظام ہوتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی سے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید
    Next Article باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.