Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 12, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    • توڑ پھوڑ کيس، پی ٹی آئی کے 8 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز
    • خیبر؛ پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں
    بلاگ مئی 5, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    Facebook Twitter Email
    Two children dead in a flour box
    اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ گھر امن کی جگہ ہونی چاہیے، میدان جنگ نہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔

    ساہیوال کی سرزمین پر واقع گاؤں بشیرہ کی خاموش گلیوں سے جو دردناک خبر اٹھی وہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ایک ایسا نوحہ ہے جو بہت دیر تک روح کو جھنجھوڑتا رہے گا، چھ سالہ علی حسن اور آٹھ سالہ علی حیدر گھر میں رکھے آٹے کے صندوق سے مردہ حالت میں برآمد ہوئے تو آنکھیں پتھرا گئیں اور دل نے پوچھا کہ یہ موت ان معصوم جسموں تک پہنچی کیسے ۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ المیہ کسی اچانک برسنے والی آفت کا نہیں بلکہ برسوں کی گھریلو تلخیوں کا منطقی انجام تھا، محنت کش محمد سرور اور ان کی اہلیہ معافیہ کے درمیان جھگڑا کوئی نئی بات نہیں تھی، چند روز قبل شام کی تلخ کلامی بھی اسی طویل سلسلے کی تازہ کڑی تھی جس نے ان دونوں بھائیوں کی معصومیت کو خوف میں ڈبو دیا، جب ماں باپ ایک دوسرے پر چیخ رہے تھے تو یہ ننھے وجود ڈر کے مارے ایسی جگہ چھپ گئے جو ان کے نزدیک محفوظ پناہ گاہ تھی مگر بدقسمتی سے وہی صندوق زندگی کا آخری دریچہ بن گیا ۔

    رات گئے تک جب بچے نہ ملے تو والدین کی آنکھیں کھلیں، پولیس کو اطلاع دی گئی اور تلاشی کے دوران آٹے کے صندوق کا منہ کھولا گیا تو اندر دو ٹھنڈے جسم پڑے تھے، آٹے کی سفیدی ان کی معصومیت کی گواہی دے رہی تھی مگر اس سفیدی میں چھپی ہوئی تلخی کسی آنکھ نے نہ دیکھی ۔

    پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچایا، ماں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا اور قانونی طور پر اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر تحقیقات کا پہیہ چل پڑا، پوسٹ مارٹم کے نمونے لاہور لیبارٹری بھیجے گئے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ طے ہوگی مگر اخلاقی طور پر موت کی وجہ بہت پہلے طے ہو چکی تھی، وہ گھریلو ناچاقی جس نے ان بچوں کے ذہنوں کو موت سے پہلے ہی زندہ دفن کر دیا تھا، وہ چیخ و پکار جس نے گھر کے آنگن کو میدان جنگ بنا دیا تھا اور وہ خاموش تماشائی جنہوں نے کبھی ان بچوں کی خوف زدہ آنکھوں کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی ۔

    یہاں سوال صرف پولیس کی کارروائی یا والدہ کے بیان کا نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے رویوں کا ہے، ایک معاشرے کے طور پر اس سانحے سے ہمارا رشتہ نہایت قریبی اور کلیدی ہے کیونکہ یہ بچے صرف محمد سرور اور معافیہ کے نہیں تھے، یہ ہمارے اجتماعی مستقبل کا حصہ تھے، کیا پڑوسیوں نے کبھی اس گھر سے اٹھنے والی چیخوں پر دستک دی، کیا رشتہ داروں نے کبھی ان بچوں کی خاموشی میں چھپے طوفان کو محسوس کیا، ہم اکثر گھریلو جھگڑوں کو اندرون خانہ معاملہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں مگر یہ غفلت صندوق میں بند ہر ننھی جان کے ساتھ ہمارے اپنے دامن پر بھی ایک دھبہ ثبت کرتی ہے ۔

    قانون ہمیشہ واقعے کے بعد پہنچتا ہے جبکہ ہم بحیثیت فرد اور بحیثیت برادری واقعے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکتے ہیں، گھریلو چپقلش کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی معاونت، وساطت اور اخلاقی رہنمائی کا کلچر پروان چڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، والدین کو یہ احساس دلانا کہ ان کی تلخی کا ہر لفظ بچوں کے دل میں خوف کا جو بیج بوتا ہے وہ کبھی صندوق کا روپ دھار لیتا ہے، اولین فرض ہے ۔

    اس المیے نے ثابت کیا کہ بچے جھگڑوں کے خاموش گواہ نہیں بلکہ براہ راست متاثرین ہوتے ہیں، ان کا ڈر، ان کی خاموشی اور ان کا چھپنا ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم گلیوں، محلوں اور خاندانوں کی سطح پر ایسے حساس نظام قائم کریں جہاں گھریلو تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے کی کوشش کی جائے، جہاں بچوں کی نفسیات کو سمجھنے والے لوگ دستیاب ہوں اور جہاں چیخ و پکار کو نجی معاملہ سمجھ کر خاموش رہنے کی بجائے اسے ایک سماجی خطرے کے طور پر لیا جائے ۔

    ڈی پی او ساہیوال کا خود تھانہ پہنچ کر انکوائری کرنا بلاشبہ ادارے کی ذمہ داری کا مظہر ہے مگر اصل کام تو ہم سب کو اپنی اپنی گلیوں میں کرنا ہے، ہمیں اپنے اردگرد نظر دوڑانی ہے، جہاں گھروں میں تلخیوں کی چکی چل رہی ہو، جہاں چھوٹے چھوٹے علی حسن اور علی حیدر خوف کے مارے سکڑ رہے ہوں، وہاں خاموش تماشائی نہیں بننا ، بلکہ بولنا ہے، بچانا ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے ۔

    اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ گھر امن کی جگہ ہونی چاہیے، میدان جنگ نہیں، بچوں کو تحفظ کا احساس دیں، ان کے دلوں میں خوف کی دبیز پرتیں نہ جمائیں ورنہ وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں ایسی جگہ پناہ لے سکتے ہیں جہاں سے واپسی کی سانس ختم ہو جاتی ہے ۔

    کاش وہ صندوق محض آٹے کا برتن ہوتا اور اس میں سے موت کی بجائے زندگی کی خوشبو آتی، مگر اب وقت ہے کہ ہم اس خوشبو کو اپنے رویوں میں بسا کر بکھیریں تاکہ کسی اور صندوق کو کھولنے کے بعد اس میں آٹے کی جگہ بچوں کی لاشیں نہ ملیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسیکیورٹی اداروں نے مولانا محمد ادریس پر حملے کے ملزمان کی شناخت کرلی
    Next Article پشاور میں امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026

    تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام

    ستمبر 11, 2026

    پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.