Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
    • فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی
    • پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ
    • شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام
    • فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی
    • وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
    • عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا
    • شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں
    بلاگ

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Two children dead in a flour box
    اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ گھر امن کی جگہ ہونی چاہیے، میدان جنگ نہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔

    ساہیوال کی سرزمین پر واقع گاؤں بشیرہ کی خاموش گلیوں سے جو دردناک خبر اٹھی وہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ایک ایسا نوحہ ہے جو بہت دیر تک روح کو جھنجھوڑتا رہے گا، چھ سالہ علی حسن اور آٹھ سالہ علی حیدر گھر میں رکھے آٹے کے صندوق سے مردہ حالت میں برآمد ہوئے تو آنکھیں پتھرا گئیں اور دل نے پوچھا کہ یہ موت ان معصوم جسموں تک پہنچی کیسے ۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ المیہ کسی اچانک برسنے والی آفت کا نہیں بلکہ برسوں کی گھریلو تلخیوں کا منطقی انجام تھا، محنت کش محمد سرور اور ان کی اہلیہ معافیہ کے درمیان جھگڑا کوئی نئی بات نہیں تھی، چند روز قبل شام کی تلخ کلامی بھی اسی طویل سلسلے کی تازہ کڑی تھی جس نے ان دونوں بھائیوں کی معصومیت کو خوف میں ڈبو دیا، جب ماں باپ ایک دوسرے پر چیخ رہے تھے تو یہ ننھے وجود ڈر کے مارے ایسی جگہ چھپ گئے جو ان کے نزدیک محفوظ پناہ گاہ تھی مگر بدقسمتی سے وہی صندوق زندگی کا آخری دریچہ بن گیا ۔

    رات گئے تک جب بچے نہ ملے تو والدین کی آنکھیں کھلیں، پولیس کو اطلاع دی گئی اور تلاشی کے دوران آٹے کے صندوق کا منہ کھولا گیا تو اندر دو ٹھنڈے جسم پڑے تھے، آٹے کی سفیدی ان کی معصومیت کی گواہی دے رہی تھی مگر اس سفیدی میں چھپی ہوئی تلخی کسی آنکھ نے نہ دیکھی ۔

    پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچایا، ماں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا اور قانونی طور پر اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر تحقیقات کا پہیہ چل پڑا، پوسٹ مارٹم کے نمونے لاہور لیبارٹری بھیجے گئے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ طے ہوگی مگر اخلاقی طور پر موت کی وجہ بہت پہلے طے ہو چکی تھی، وہ گھریلو ناچاقی جس نے ان بچوں کے ذہنوں کو موت سے پہلے ہی زندہ دفن کر دیا تھا، وہ چیخ و پکار جس نے گھر کے آنگن کو میدان جنگ بنا دیا تھا اور وہ خاموش تماشائی جنہوں نے کبھی ان بچوں کی خوف زدہ آنکھوں کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی ۔

    یہاں سوال صرف پولیس کی کارروائی یا والدہ کے بیان کا نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے رویوں کا ہے، ایک معاشرے کے طور پر اس سانحے سے ہمارا رشتہ نہایت قریبی اور کلیدی ہے کیونکہ یہ بچے صرف محمد سرور اور معافیہ کے نہیں تھے، یہ ہمارے اجتماعی مستقبل کا حصہ تھے، کیا پڑوسیوں نے کبھی اس گھر سے اٹھنے والی چیخوں پر دستک دی، کیا رشتہ داروں نے کبھی ان بچوں کی خاموشی میں چھپے طوفان کو محسوس کیا، ہم اکثر گھریلو جھگڑوں کو اندرون خانہ معاملہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں مگر یہ غفلت صندوق میں بند ہر ننھی جان کے ساتھ ہمارے اپنے دامن پر بھی ایک دھبہ ثبت کرتی ہے ۔

    قانون ہمیشہ واقعے کے بعد پہنچتا ہے جبکہ ہم بحیثیت فرد اور بحیثیت برادری واقعے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکتے ہیں، گھریلو چپقلش کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی معاونت، وساطت اور اخلاقی رہنمائی کا کلچر پروان چڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، والدین کو یہ احساس دلانا کہ ان کی تلخی کا ہر لفظ بچوں کے دل میں خوف کا جو بیج بوتا ہے وہ کبھی صندوق کا روپ دھار لیتا ہے، اولین فرض ہے ۔

    اس المیے نے ثابت کیا کہ بچے جھگڑوں کے خاموش گواہ نہیں بلکہ براہ راست متاثرین ہوتے ہیں، ان کا ڈر، ان کی خاموشی اور ان کا چھپنا ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم گلیوں، محلوں اور خاندانوں کی سطح پر ایسے حساس نظام قائم کریں جہاں گھریلو تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے کی کوشش کی جائے، جہاں بچوں کی نفسیات کو سمجھنے والے لوگ دستیاب ہوں اور جہاں چیخ و پکار کو نجی معاملہ سمجھ کر خاموش رہنے کی بجائے اسے ایک سماجی خطرے کے طور پر لیا جائے ۔

    ڈی پی او ساہیوال کا خود تھانہ پہنچ کر انکوائری کرنا بلاشبہ ادارے کی ذمہ داری کا مظہر ہے مگر اصل کام تو ہم سب کو اپنی اپنی گلیوں میں کرنا ہے، ہمیں اپنے اردگرد نظر دوڑانی ہے، جہاں گھروں میں تلخیوں کی چکی چل رہی ہو، جہاں چھوٹے چھوٹے علی حسن اور علی حیدر خوف کے مارے سکڑ رہے ہوں، وہاں خاموش تماشائی نہیں بننا ، بلکہ بولنا ہے، بچانا ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے ۔

    اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ گھر امن کی جگہ ہونی چاہیے، میدان جنگ نہیں، بچوں کو تحفظ کا احساس دیں، ان کے دلوں میں خوف کی دبیز پرتیں نہ جمائیں ورنہ وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں ایسی جگہ پناہ لے سکتے ہیں جہاں سے واپسی کی سانس ختم ہو جاتی ہے ۔

    کاش وہ صندوق محض آٹے کا برتن ہوتا اور اس میں سے موت کی بجائے زندگی کی خوشبو آتی، مگر اب وقت ہے کہ ہم اس خوشبو کو اپنے رویوں میں بسا کر بکھیریں تاکہ کسی اور صندوق کو کھولنے کے بعد اس میں آٹے کی جگہ بچوں کی لاشیں نہ ملیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسیکیورٹی اداروں نے مولانا محمد ادریس پر حملے کے ملزمان کی شناخت کرلی
    Next Article پشاور میں امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    خیبر واچ: معاشرتی برائیوں کے خلاف مؤثر آواز اور عوامی احتساب کا پلیٹ فارم

    مئی 5, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

    جون 11, 2026

    فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی

    جون 11, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ

    جون 11, 2026

    شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام

    جون 11, 2026

    فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی

    جون 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.