رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔
ساہیوال کی سرزمین پر واقع گاؤں بشیرہ کی خاموش گلیوں سے جو دردناک خبر اٹھی وہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ایک ایسا نوحہ ہے جو بہت دیر تک روح کو جھنجھوڑتا رہے گا، چھ سالہ علی حسن اور آٹھ سالہ علی حیدر گھر میں رکھے آٹے کے صندوق سے مردہ حالت میں برآمد ہوئے تو آنکھیں پتھرا گئیں اور دل نے پوچھا کہ یہ موت ان معصوم جسموں تک پہنچی کیسے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ المیہ کسی اچانک برسنے والی آفت کا نہیں بلکہ برسوں کی گھریلو تلخیوں کا منطقی انجام تھا، محنت کش محمد سرور اور ان کی اہلیہ معافیہ کے درمیان جھگڑا کوئی نئی بات نہیں تھی، چند روز قبل شام کی تلخ کلامی بھی اسی طویل سلسلے کی تازہ کڑی تھی جس نے ان دونوں بھائیوں کی معصومیت کو خوف میں ڈبو دیا، جب ماں باپ ایک دوسرے پر چیخ رہے تھے تو یہ ننھے وجود ڈر کے مارے ایسی جگہ چھپ گئے جو ان کے نزدیک محفوظ پناہ گاہ تھی مگر بدقسمتی سے وہی صندوق زندگی کا آخری دریچہ بن گیا ۔
رات گئے تک جب بچے نہ ملے تو والدین کی آنکھیں کھلیں، پولیس کو اطلاع دی گئی اور تلاشی کے دوران آٹے کے صندوق کا منہ کھولا گیا تو اندر دو ٹھنڈے جسم پڑے تھے، آٹے کی سفیدی ان کی معصومیت کی گواہی دے رہی تھی مگر اس سفیدی میں چھپی ہوئی تلخی کسی آنکھ نے نہ دیکھی ۔
پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچایا، ماں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا اور قانونی طور پر اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر تحقیقات کا پہیہ چل پڑا، پوسٹ مارٹم کے نمونے لاہور لیبارٹری بھیجے گئے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ طے ہوگی مگر اخلاقی طور پر موت کی وجہ بہت پہلے طے ہو چکی تھی، وہ گھریلو ناچاقی جس نے ان بچوں کے ذہنوں کو موت سے پہلے ہی زندہ دفن کر دیا تھا، وہ چیخ و پکار جس نے گھر کے آنگن کو میدان جنگ بنا دیا تھا اور وہ خاموش تماشائی جنہوں نے کبھی ان بچوں کی خوف زدہ آنکھوں کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی ۔
یہاں سوال صرف پولیس کی کارروائی یا والدہ کے بیان کا نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے رویوں کا ہے، ایک معاشرے کے طور پر اس سانحے سے ہمارا رشتہ نہایت قریبی اور کلیدی ہے کیونکہ یہ بچے صرف محمد سرور اور معافیہ کے نہیں تھے، یہ ہمارے اجتماعی مستقبل کا حصہ تھے، کیا پڑوسیوں نے کبھی اس گھر سے اٹھنے والی چیخوں پر دستک دی، کیا رشتہ داروں نے کبھی ان بچوں کی خاموشی میں چھپے طوفان کو محسوس کیا، ہم اکثر گھریلو جھگڑوں کو اندرون خانہ معاملہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں مگر یہ غفلت صندوق میں بند ہر ننھی جان کے ساتھ ہمارے اپنے دامن پر بھی ایک دھبہ ثبت کرتی ہے ۔
قانون ہمیشہ واقعے کے بعد پہنچتا ہے جبکہ ہم بحیثیت فرد اور بحیثیت برادری واقعے کو رونما ہونے سے پہلے روک سکتے ہیں، گھریلو چپقلش کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی معاونت، وساطت اور اخلاقی رہنمائی کا کلچر پروان چڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، والدین کو یہ احساس دلانا کہ ان کی تلخی کا ہر لفظ بچوں کے دل میں خوف کا جو بیج بوتا ہے وہ کبھی صندوق کا روپ دھار لیتا ہے، اولین فرض ہے ۔
اس المیے نے ثابت کیا کہ بچے جھگڑوں کے خاموش گواہ نہیں بلکہ براہ راست متاثرین ہوتے ہیں، ان کا ڈر، ان کی خاموشی اور ان کا چھپنا ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم گلیوں، محلوں اور خاندانوں کی سطح پر ایسے حساس نظام قائم کریں جہاں گھریلو تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے کی کوشش کی جائے، جہاں بچوں کی نفسیات کو سمجھنے والے لوگ دستیاب ہوں اور جہاں چیخ و پکار کو نجی معاملہ سمجھ کر خاموش رہنے کی بجائے اسے ایک سماجی خطرے کے طور پر لیا جائے ۔
ڈی پی او ساہیوال کا خود تھانہ پہنچ کر انکوائری کرنا بلاشبہ ادارے کی ذمہ داری کا مظہر ہے مگر اصل کام تو ہم سب کو اپنی اپنی گلیوں میں کرنا ہے، ہمیں اپنے اردگرد نظر دوڑانی ہے، جہاں گھروں میں تلخیوں کی چکی چل رہی ہو، جہاں چھوٹے چھوٹے علی حسن اور علی حیدر خوف کے مارے سکڑ رہے ہوں، وہاں خاموش تماشائی نہیں بننا ، بلکہ بولنا ہے، بچانا ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے ۔
اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ گھر امن کی جگہ ہونی چاہیے، میدان جنگ نہیں، بچوں کو تحفظ کا احساس دیں، ان کے دلوں میں خوف کی دبیز پرتیں نہ جمائیں ورنہ وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں ایسی جگہ پناہ لے سکتے ہیں جہاں سے واپسی کی سانس ختم ہو جاتی ہے ۔
کاش وہ صندوق محض آٹے کا برتن ہوتا اور اس میں سے موت کی بجائے زندگی کی خوشبو آتی، مگر اب وقت ہے کہ ہم اس خوشبو کو اپنے رویوں میں بسا کر بکھیریں تاکہ کسی اور صندوق کو کھولنے کے بعد اس میں آٹے کی جگہ بچوں کی لاشیں نہ ملیں ۔

