Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بھارت نے مئی کی جھڑپوں میں تیسری قوت سے سیزفائر کیلئے درخواست کی تھی، پاکستان
    • آسٹریلیا نے ایشیز سیریز 1-4 سے اپنے نام کرلی
    • بنوں لنک روڈ پر ہنگو پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، تین اہلکار زخمی
    • قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری رہے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر
    • وادی تیراہ میں عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی گاڑی کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق، 2 زخمی
    • بجلی صارفین کیلئے خوشخبری، فی یونٹ 93 پیسے سستی، نوٹیفکیشن جاری
    • صدر مملکت، وزیر اعظم اور قائد مسلم لیگ ن پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا اعلامیہ
    • پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا کو 6 وکٹوں سے ہراکر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کا ایٹمی پروگرام، زیرو سے ہیرو تک کا سفر!
    بلاگ

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام، زیرو سے ہیرو تک کا سفر!

    جون 23, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Pakistan's nuclear program, a journey from zero to hero!
    آج بھی جیسے ہی پاک بھارت کشیدگی بڑھتی ہے دنیا فوراََ آگے بڑھ کر معاملات سدھارنے کی کوشش کرتی ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملے کے بعد ذہن میں ایک ہی سوال اُبھرتا رہا کہ اگر ایران جیسا ملک جو قومی وحدت کی مثال اور تیل سے مالا مال ملک ہے وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر ہدف بنا تو پاکستان جیسا معاشی لحاظ سے کمزور ملک کیونکر مغربی حملوں سے بچ پایا۔ ہماری نوجوان نسل کو شائد ہی پتہ ہو کہ ایٹمی طاقت بننا کس قدر کٹھن، خطرناک اور صبر آزما عمل ہے اور ہماری اُس وقت کی قیادت نے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کیا کچھ سہا ہوگا۔ چاہے وہ پاکستان کی سیویلین قیادت ہو یا عسکری، ایٹمی سائنسدان ہوں یا بلیک مارکیٹ سے سامان لینے والے ہمارے ایجنٹ، ان سبھی نے مسلسل اور سالہا سال کی جدوجہد کے بعد وہ کچھ کر دکھایا ہے جو آج بھی مشرق و مغرب میں ناقابل ہضم بات ہے ۔ یعنی پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا اور روز بروز ایٹمی طاقت میں مزید اضافہ۔
    اس سلسلے میں جب راقم نے تاریخ کے اوراق پلٹنے شروع کیے تاکہ پتہ چلا کہ پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تو مختلف تاریخی حوالوں سے ایک بات ثابت ہوئی کہ اس منزل تک پہنچنے میں بہت بڑی قربانیاں دی گئیں ، آج جب ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کا حال دیکھتے ہیں، اس سے پہلے عراق، شام و لیبیا کے ایٹمی پروگرامز کا جو حشر ونشر کیا گیا، اس پس منظر میں ہمارا ایٹمی پروگرام یقینناََ آگ کے دریا کو عبور کرنے جیسا تھا۔ کیونکہ عراق، ایران، لیبیا یہ سارے ممالک تیل کی دولت سے مالا مال تھے، جب کہ انکے مقابلے میں پاکستان وسائل سے زیادہ مسائل سے مالا مال رہا ہے ۔مشہور محقق منصور احمد اپنی کتاب، Pakistan’s pathway to the bomb
    میں رقمطراز ہیں کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی نے بھٹو کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ روایتی جنگ میں پاکستان بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکتا، پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے روایتی ہتھیاروں سے بہت آگے جانا ہوگا، ایک ایسا ہتھیار جو پاکستان کو عشروں تک ڈیٹرنس دیں ۔

    1974 میں بھارت نے سمائلنگ بدھا کے نام سے پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کیا، اس دھماکے نے پاکستانی قیادت کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی، بھٹو صاحب کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے بالکل زیرو سے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا، باہر سے پاکستانی سائنسدان بلوائے، انکو فری ہینڈ دیا، بلیک مارکیٹ سے پرزے اور مواد خریدا گیا، کہوٹہ میں ریسرچ لیبارٹریز میں اللہ کا نام لیکر کام شروع کردیا گیا۔ میرے خیال سے یہ پاکستانی نیوکلئیر پروگرام کی خوش بختی کہلائی جاسکتی ہے کہ اسی زمانے میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا، مغرب کو پاکستان کی ضرورت پڑی، امریکہ اور یورپ نے کمیونسٹ خطرے سے بچنے کے لیے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے صرف نظر کیا، اور یوں دھیرے دھیرے پاکستان کا ایٹمی پروگرام آگے بڑھتا گیا ۔ جیسے ہی سوویت روس ٹوٹ گیا تو مغرب کو یاد آیا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنا ہوگا، چنانچہ بہت سی پاکستانی سائنسی اداروں پر پابندیاں لگائی گئیں، پاکستان کو مختلف دہرے استعمال والے آلات کی برآمد بند کر دی گئی، ہتھیاروں کی فروخت بند کردی گئی۔ تاہم اب بہت دیر ہوچکی تھی، پاکستان اب چند دنوں کے نوٹس پر ایٹم بم بنا سکتا تھا۔ اور جب مئی 1998 میں بھارت نے پھر دھماکے کیے تو پاکستان نے جو پہلے سے ہی تیار تھا، چھ ایٹمی دھماکوں سے جواب دے کر نہ صرف اڑوس پڑوس بلکہ امریکہ و یورپ تک کو لرزا دیا۔ اور یہ لرزہ ابھی بھی جاری ہے، اسی لیے تو آج بھی جیسے ہی پاک بھارت کشیدگی بڑھتی ہے دنیا فوراََ آگے بڑھ کر معاملات سدھارنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ پاکستان کی انگلی ہر وقت ایٹمی بٹن پر پڑی رہتی ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکیش لیس نظام کو فروغ دینے کیلئے ڈیجیٹل لین دین کو آسان بنانے کی ہدایت
    Next Article طاقت اور تقدیر کا تصادم
    Mudassir Hussain
    • Website

    Related Posts

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026

    این ایف سی اور گلگت بلتستان کا سوال

    جنوری 4, 2026

    بانی پی ٹی آئی کے رہا نہ ہونے کے پیچھے وجوہات کیا ہیں ؟

    دسمبر 30, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بھارت نے مئی کی جھڑپوں میں تیسری قوت سے سیزفائر کیلئے درخواست کی تھی، پاکستان

    جنوری 8, 2026

    آسٹریلیا نے ایشیز سیریز 1-4 سے اپنے نام کرلی

    جنوری 8, 2026

    بنوں لنک روڈ پر ہنگو پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، تین اہلکار زخمی

    جنوری 8, 2026

    قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری رہے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    جنوری 8, 2026

    وادی تیراہ میں عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی گاڑی کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق، 2 زخمی

    جنوری 8, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.