پاکستان کی تینوں مسلح افواج اس وقت مختلف اقسام کے ڈرونز استعمال کر رہی ہیں، جو اس کے دفاعی نظام کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ڈرونز میں چھوٹے، مقامی طور پر تیار کردہ ماڈلز سے لے کر جدید اور بڑے میڈیم ایلٹیٹیوڈ لانگ اینڈیورنس (میل) ڈرونز شامل ہیں، جو ترکی، چین اور دیگر ممالک سے خریدے گئے ہیں۔
پاکستان آرمی ان ڈرونز کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا اہم کردار ہے۔ یہ ڈرونز نگرانی، جاسوسی، اور ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
نگرانی اور جاسوسی کے ڈرونز شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کی نگرانی کرتے ہیں، جس سے فورسز کو اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ الیکٹرانک وارفیئر کے ڈرونز شدت پسندوں کے مواصلاتی نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ہیں اور ان کی معلومات کو بلاک کرتے ہیں۔
پاکستان کے پاس جو میڈیم ایلٹیٹیوڈ لانگ اینڈیورنس ڈرونز ہیں، وہ طویل دورانیے تک فضا میں پرواز کر سکتے ہیں اور ان کی صلاحیت یہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ایمیونیشن یا گولہ بارود بھی لے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، پاکستان میں ڈرونز کو ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں ایک مکمل فارمیشن ہوتی ہے۔ اس میں ایک یا زیادہ ڈرونز ٹارگٹ کا سراغ لگاتے ہیں، ڈیٹا کو لنک کے ذریعے جنگی جہاز یا کمانڈ سینٹر تک پہنچایا جاتا ہے، جو پھر اٹیک کی کمانڈ دیتا ہے۔
پاکستان کی ڈرون صلاحیتوں میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب پاکستان کے پاس 300 کے قریب ڈرون طیارے ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ اور بیرون ملک سے خریدے گئے ڈرونز شامل ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کا یہ ڈرون پروگرام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور اس کے استعمال کی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں ڈرونز کا یہ اہم کردار ملک کی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔