Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حاضر سروس بھارتی فوجی اہلکار منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتار
    • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
    • شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا
    • پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
    • پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی
    • علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!
    بلاگ

    پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!

    اپریل 9, 2025Updated:اپریل 9, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Police, public and mutual distrust
    اکثریت ان نوجوان افسران کی ہے جو نہ پشتون روایات سے واقف ہیں، نہ حجرے اور مسجد کی صحبتوں سے بہرہ ور۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان:۔ 

    بعض محکمے اتنے اہم ہوتے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کا روزانہ ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس ناگزیر رابطے میں یقیناً باہمی اعتماد اور عدم اعتماد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ کبھی عوام میں سے کسی کی جانب سے غلطی ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی سرکاری اہلکار تجاوز کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عوام الناس محکمہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں سے شاکی رہتے تھے۔ زیادہ تر معاملات کا تعلق پولیس اسٹیشن کی حد تک ہوتا تھا اور سائل کی شنوائی ڈی ایس پی لیول تک ہو جایا کرتی تھی۔

    آج کل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پولیس میں نچلے درجے پر پڑھے لکھے، ذہین اور خاندانی نوجوان تعینات ہو رہے ہیں جو شفاف امتحانی مقابلوں کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر تھانوں اور چوکیوں میں یہی نوجوان سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان میں اکثریت قانون کے احترام اور حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور بھرپور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

    پولیس کا آپریشنز نظام کافی بہتر ہو چکا ہے، تاہم انویسٹی گیشن ونگ اب بھی کرپشن، نااہلی اور قانون کو حسبِ منشا موڑنے میں مہارت رکھتا ہے۔ پولیس کے نئے نظام کے تحت انویسٹی گیشن کا شعبہ ایک "دودھ دینے والی گائے” بن چکا ہے جو مقدس بھی تصور کیا جاتا ہے۔ آپریشنز ونگ اگرچہ کرپشن سے پاک نہیں، مگر اس کی ذمہ داری نظام اور اعلیٰ افسران پر عائد ہوتی ہے۔

    پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں کی اوقات کار، معاوضے اور سہولتیں کسی بھی انسانی یا اخلاقی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ دوسری جانب، ان پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کی جاتی ہیں—مثلاً سرکاری موبائل گاڑی کے لیے ایندھن، سروس، مرمت، اضافی نجی گاڑیوں کی فراہمی اور انہیں رواں رکھنا، دیگر محکمانہ اخراجات، اور اعلیٰ افسران کی نازک مزاجیوں اور فرمائشوں کا اضافی بوجھ۔ ۔

    یہ صورتحال ایک ایس ایچ او کو مجبور کرتی ہے کہ یا تو وہ اس نظام کا حصہ بن کر بدعنوانی کے پہیے کو گھماتا رہے، یا کھڈے لائن لگ کر اپنے بچوں کی فاقہ کشی دیکھتا رہے۔ اس نظام میں شریف لوگ پولیس سے بدظن ہو جاتے ہیں جبکہ جرائم پیشہ عناصر اس بدانتظامی کا فائدہ اٹھا کر معاشرے میں فساد پھیلاتے ہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ پولیس نظام کی بربادی میں اہم کردار اب ان اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس افسران کا ہے جو پولیس سروس آف پاکستان سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ یہ الزام سب افسران پر نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ کئی افسران کی وجہ سے محکمہ پولیس کی ساکھ اور عوامی اعتماد اب بھی قائم ہے۔

    تاہم، اکثریت ان نوجوان افسران کی ہے جو نہ پشتون روایات سے واقف ہیں، نہ حجرے اور مسجد کی صحبتوں سے بہرہ ور۔ ان میں کئی کو انسانیت، قانون اور غیرجانبداری پر یقین نہیں۔ یہ افسران ذاتی مفاد، تعلقات اور قربت داریوں کے اسیر ہو چکے ہیں اور ہر اخلاقی، قانونی اور معاشرتی حد پار کر جاتے ہیں۔

    اگلی قسط میں پولیس سروس کے ایک ایسے اعلیٰ افسر کا ذکر کیا جائے گا، جن کے خلاف قانون سے کھلواڑ، بداخلاقی، اور حرام کمائی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ موصوف کا تعلق ضلع بونیر سے ہے اور وہ خیبر میڈیکل کالج کے گریجویٹ ہیں، جو بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناح کے 14 نکات رٹ کر اے ایس پی بنے۔

    آنے والے حصے میں ان کے خلاف تفصیلی شواہد صدرِ مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ، گورنر خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور آرمی چیف کو بھی پیش کیے جائیں گے، تاکہ کرپشن، اقربا پروری، قانون شکنی اور ملک دشمن عناصر سے روابط کو بے نقاب کیا جا سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپولیس کے اچھے افسران اور ہم صحافی!
    Next Article آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اعلیٰ سطح کے امریکی وفد کی ملاقات
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حاضر سروس بھارتی فوجی اہلکار منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتار

    فروری 25, 2026

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

    فروری 25, 2026

    شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام

    فروری 25, 2026

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا

    فروری 25, 2026

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    فروری 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.