Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
    • وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم
    • وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی
    • ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات
    • لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی
    • بانی پی ٹی آئی کے پمز ہسپتال میں معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، صحت مند قرار
    • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں، 49 دہشت گرد ہلاک
    • قومی اسمبلی اور سینیٹ سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ منظور
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!
    بلاگ اپریل 9, 2025

    پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!

    Facebook Twitter Email
    Police, public and mutual distrust
    اکثریت ان نوجوان افسران کی ہے جو نہ پشتون روایات سے واقف ہیں، نہ حجرے اور مسجد کی صحبتوں سے بہرہ ور۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان:۔ 

    بعض محکمے اتنے اہم ہوتے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کا روزانہ ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس ناگزیر رابطے میں یقیناً باہمی اعتماد اور عدم اعتماد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ کبھی عوام میں سے کسی کی جانب سے غلطی ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی سرکاری اہلکار تجاوز کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عوام الناس محکمہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں سے شاکی رہتے تھے۔ زیادہ تر معاملات کا تعلق پولیس اسٹیشن کی حد تک ہوتا تھا اور سائل کی شنوائی ڈی ایس پی لیول تک ہو جایا کرتی تھی۔

    آج کل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پولیس میں نچلے درجے پر پڑھے لکھے، ذہین اور خاندانی نوجوان تعینات ہو رہے ہیں جو شفاف امتحانی مقابلوں کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر تھانوں اور چوکیوں میں یہی نوجوان سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان میں اکثریت قانون کے احترام اور حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور بھرپور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

    پولیس کا آپریشنز نظام کافی بہتر ہو چکا ہے، تاہم انویسٹی گیشن ونگ اب بھی کرپشن، نااہلی اور قانون کو حسبِ منشا موڑنے میں مہارت رکھتا ہے۔ پولیس کے نئے نظام کے تحت انویسٹی گیشن کا شعبہ ایک "دودھ دینے والی گائے” بن چکا ہے جو مقدس بھی تصور کیا جاتا ہے۔ آپریشنز ونگ اگرچہ کرپشن سے پاک نہیں، مگر اس کی ذمہ داری نظام اور اعلیٰ افسران پر عائد ہوتی ہے۔

    پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں کی اوقات کار، معاوضے اور سہولتیں کسی بھی انسانی یا اخلاقی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ دوسری جانب، ان پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کی جاتی ہیں—مثلاً سرکاری موبائل گاڑی کے لیے ایندھن، سروس، مرمت، اضافی نجی گاڑیوں کی فراہمی اور انہیں رواں رکھنا، دیگر محکمانہ اخراجات، اور اعلیٰ افسران کی نازک مزاجیوں اور فرمائشوں کا اضافی بوجھ۔ ۔

    یہ صورتحال ایک ایس ایچ او کو مجبور کرتی ہے کہ یا تو وہ اس نظام کا حصہ بن کر بدعنوانی کے پہیے کو گھماتا رہے، یا کھڈے لائن لگ کر اپنے بچوں کی فاقہ کشی دیکھتا رہے۔ اس نظام میں شریف لوگ پولیس سے بدظن ہو جاتے ہیں جبکہ جرائم پیشہ عناصر اس بدانتظامی کا فائدہ اٹھا کر معاشرے میں فساد پھیلاتے ہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ پولیس نظام کی بربادی میں اہم کردار اب ان اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس افسران کا ہے جو پولیس سروس آف پاکستان سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ یہ الزام سب افسران پر نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ کئی افسران کی وجہ سے محکمہ پولیس کی ساکھ اور عوامی اعتماد اب بھی قائم ہے۔

    تاہم، اکثریت ان نوجوان افسران کی ہے جو نہ پشتون روایات سے واقف ہیں، نہ حجرے اور مسجد کی صحبتوں سے بہرہ ور۔ ان میں کئی کو انسانیت، قانون اور غیرجانبداری پر یقین نہیں۔ یہ افسران ذاتی مفاد، تعلقات اور قربت داریوں کے اسیر ہو چکے ہیں اور ہر اخلاقی، قانونی اور معاشرتی حد پار کر جاتے ہیں۔

    اگلی قسط میں پولیس سروس کے ایک ایسے اعلیٰ افسر کا ذکر کیا جائے گا، جن کے خلاف قانون سے کھلواڑ، بداخلاقی، اور حرام کمائی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ موصوف کا تعلق ضلع بونیر سے ہے اور وہ خیبر میڈیکل کالج کے گریجویٹ ہیں، جو بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناح کے 14 نکات رٹ کر اے ایس پی بنے۔

    آنے والے حصے میں ان کے خلاف تفصیلی شواہد صدرِ مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ، گورنر خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور آرمی چیف کو بھی پیش کیے جائیں گے، تاکہ کرپشن، اقربا پروری، قانون شکنی اور ملک دشمن عناصر سے روابط کو بے نقاب کیا جا سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپولیس کے اچھے افسران اور ہم صحافی!
    Next Article آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اعلیٰ سطح کے امریکی وفد کی ملاقات
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی

    اگست 21, 2026

    ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات

    اگست 21, 2026

    لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی

    اگست 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.