Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جون 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی بجٹ جمعے کو پیش کرنے کا اعلان، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور لبنانی فوج کے سربراہ کا دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا عزم
    • افغان طالبان رجیم، خواتین پر مظالم کی تمام حدیں پار، عالمی برادری سراپا احتجاج
    • ايوان صدر میں اہم اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق
    • مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب
    • گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب، غیر سرکاری نتائج
    • ریاستی اداروں کے خلاف سنگین الزامات کے کیس میں اہم پیشرفت،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو گرفتار کرنے کا حکم
    • سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار، فرانسیسی جریدہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!
    بلاگ

    پولیس، عوام اور باہمی عدم اعتماد!

    اپریل 9, 2025Updated:اپریل 9, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Police, public and mutual distrust
    اکثریت ان نوجوان افسران کی ہے جو نہ پشتون روایات سے واقف ہیں، نہ حجرے اور مسجد کی صحبتوں سے بہرہ ور۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے خالد خان:۔ 

    بعض محکمے اتنے اہم ہوتے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کا روزانہ ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس ناگزیر رابطے میں یقیناً باہمی اعتماد اور عدم اعتماد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ کبھی عوام میں سے کسی کی جانب سے غلطی ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی سرکاری اہلکار تجاوز کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عوام الناس محکمہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں سے شاکی رہتے تھے۔ زیادہ تر معاملات کا تعلق پولیس اسٹیشن کی حد تک ہوتا تھا اور سائل کی شنوائی ڈی ایس پی لیول تک ہو جایا کرتی تھی۔

    آج کل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پولیس میں نچلے درجے پر پڑھے لکھے، ذہین اور خاندانی نوجوان تعینات ہو رہے ہیں جو شفاف امتحانی مقابلوں کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر تھانوں اور چوکیوں میں یہی نوجوان سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان میں اکثریت قانون کے احترام اور حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور بھرپور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

    پولیس کا آپریشنز نظام کافی بہتر ہو چکا ہے، تاہم انویسٹی گیشن ونگ اب بھی کرپشن، نااہلی اور قانون کو حسبِ منشا موڑنے میں مہارت رکھتا ہے۔ پولیس کے نئے نظام کے تحت انویسٹی گیشن کا شعبہ ایک "دودھ دینے والی گائے” بن چکا ہے جو مقدس بھی تصور کیا جاتا ہے۔ آپریشنز ونگ اگرچہ کرپشن سے پاک نہیں، مگر اس کی ذمہ داری نظام اور اعلیٰ افسران پر عائد ہوتی ہے۔

    پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں کی اوقات کار، معاوضے اور سہولتیں کسی بھی انسانی یا اخلاقی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ دوسری جانب، ان پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کی جاتی ہیں—مثلاً سرکاری موبائل گاڑی کے لیے ایندھن، سروس، مرمت، اضافی نجی گاڑیوں کی فراہمی اور انہیں رواں رکھنا، دیگر محکمانہ اخراجات، اور اعلیٰ افسران کی نازک مزاجیوں اور فرمائشوں کا اضافی بوجھ۔ ۔

    یہ صورتحال ایک ایس ایچ او کو مجبور کرتی ہے کہ یا تو وہ اس نظام کا حصہ بن کر بدعنوانی کے پہیے کو گھماتا رہے، یا کھڈے لائن لگ کر اپنے بچوں کی فاقہ کشی دیکھتا رہے۔ اس نظام میں شریف لوگ پولیس سے بدظن ہو جاتے ہیں جبکہ جرائم پیشہ عناصر اس بدانتظامی کا فائدہ اٹھا کر معاشرے میں فساد پھیلاتے ہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ پولیس نظام کی بربادی میں اہم کردار اب ان اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس افسران کا ہے جو پولیس سروس آف پاکستان سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ یہ الزام سب افسران پر نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ کئی افسران کی وجہ سے محکمہ پولیس کی ساکھ اور عوامی اعتماد اب بھی قائم ہے۔

    تاہم، اکثریت ان نوجوان افسران کی ہے جو نہ پشتون روایات سے واقف ہیں، نہ حجرے اور مسجد کی صحبتوں سے بہرہ ور۔ ان میں کئی کو انسانیت، قانون اور غیرجانبداری پر یقین نہیں۔ یہ افسران ذاتی مفاد، تعلقات اور قربت داریوں کے اسیر ہو چکے ہیں اور ہر اخلاقی، قانونی اور معاشرتی حد پار کر جاتے ہیں۔

    اگلی قسط میں پولیس سروس کے ایک ایسے اعلیٰ افسر کا ذکر کیا جائے گا، جن کے خلاف قانون سے کھلواڑ، بداخلاقی، اور حرام کمائی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ موصوف کا تعلق ضلع بونیر سے ہے اور وہ خیبر میڈیکل کالج کے گریجویٹ ہیں، جو بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناح کے 14 نکات رٹ کر اے ایس پی بنے۔

    آنے والے حصے میں ان کے خلاف تفصیلی شواہد صدرِ مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ، گورنر خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور آرمی چیف کو بھی پیش کیے جائیں گے، تاکہ کرپشن، اقربا پروری، قانون شکنی اور ملک دشمن عناصر سے روابط کو بے نقاب کیا جا سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپولیس کے اچھے افسران اور ہم صحافی!
    Next Article آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اعلیٰ سطح کے امریکی وفد کی ملاقات
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی بجٹ جمعے کو پیش کرنے کا اعلان، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب

    جون 9, 2026

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور لبنانی فوج کے سربراہ کا دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا عزم

    جون 9, 2026

    افغان طالبان رجیم، خواتین پر مظالم کی تمام حدیں پار، عالمی برادری سراپا احتجاج

    جون 9, 2026

    ايوان صدر میں اہم اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق

    جون 8, 2026

    مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب

    جون 8, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.