چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت یافتہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، “سینیٹ کے قواعد و ضوابط 2012 کے قاعدہ 16 کی ذیلی شق (3) کے تحت چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر راجہ ناصر عباس کو فوری طور پر قائدِ حزبِ اختلاف قرار دیا ہے۔”
یہ عہدہ گزشتہ سال اگست سے خالی تھا، جب اس وقت کے قائدِ حزبِ اختلاف شبلی فراز کو 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے نااہل قرار دے دیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل تحریک تحفظ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ کر قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ نہایت اہم ہے، جو مؤثر حکمرانی، آئینی نگرانی اور شفافیت کے لیے ناگزیر ہے۔

