تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر ہنگامی اجلاس, جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جیک) کا ایک ہنگامی اجلاس آج صدر جیک ڈاکٹر ذاکراللہ جان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں عہدیداران نے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے میں مسلسل ناکامی پر شدید تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں جیک نے اپنے تحفظات بروقت اور واضح انداز میں پہلے ہی متعلقہ حکام تک پہنچا دیے تھے۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اس صورتحال کو انتظامی نااہلی اور موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ حکومت کی مکمل ناکامی قرار دیا۔
اجلاس میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ تنخواہوں، پنشن اور ادارہ جاتی استحکام جیسے بنیادی اور فوری نوعیت کے مسائل کے حل کے بجائے موجودہ انتظامیہ ذاتی مراعات اور سہولیات کے حصول، اختیارات کے استعمال اور اساتذہ کو غیر متعلقہ شعبہ جات میں تبادلوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کا تعلیمی اور تحقیقی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ مزید برآں، اجلاس میں گہری تشویش کے ساتھ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ یونیورسٹی کے تقریباً تمام اہم دفاتر میں بدانتظامی پائی جاتی ہے، جن میں رجسٹرار، ٹریژرر، پرووسٹ، سپورٹس، امتحانات، ایڈمیشن اور ورکس کے دفاتر شامل ہیں، جو مجموعی طور پر انتظامی نظم و ضبط، شفافیت اور کارکردگی میں شدید کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جیک) وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کو واضح کرنا چاہتی ہےکہ آئندہ منگل تک تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے مسئلے کو فوری اور مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، جیک اپنے تمام عہدیداران سے مشاورت کے بعد اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی۔ اس غفلت اور تاخیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا انتظامی خلل کی تمام تر ذمہ داری وائس چانسلر پر عائد ہوگی۔ جیک اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی ملازمین کا بنیادی اور آئینی حق ہے، جس پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
تنخواہیں، پنشن اور بدانتظامی: پشاور یونیورسٹی بحران کے دہانے پر
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read

