Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, اپریل 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔
    • پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل
    • ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
    • ڈی ایچ اے پشاور میں منعقد ہونے والی Build & Beyond Expo 2026 کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل سے ہو گیا ہے
    • وزیراعظم کا وژن مائکرو سمال اینڈ میڈم انٹرپرائزز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر
    • امریکی سینیٹ نے ایران پر حملوں کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری کا قرارداد مسترد کر دیا
    • پاک بحریہ کا مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
    • شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ سے متجاوز، طویل لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ایس سی او کا اجلاس، علاقائی تعاون کے لیے اہم لمحہ
    اہم خبریں

    ایس سی او کا اجلاس، علاقائی تعاون کے لیے اہم لمحہ

    اکتوبر 15, 2024Updated:اکتوبر 15, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    SCO meeting, an important moment for regional cooperation
    ایس سی او کا اجلاس، علاقائی تعاون کے لیے ایک اہم لمحہ
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس جاری ہے، جس میں آٹھ رکن ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ یہ اجلاس ایک اہم وقت پر ہو رہا ہے کیونکہ عالمی سیاسی منظرنامے میں تبدیلی اور علاقائی تعاون کی ضرورت میں شدت آتی جا رہی ہے۔
    شنگھائی تعاون تنظیم سال 2001 میں قائم ہوئی، جس کا مقصد اپنے اراکین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے، رکن ممالک میں چین، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان، ازبکستان، ہندوستان اور پاکستان شامل ہیں۔ ایران بھی حال ہی میں مستقل رکن کے طور پر شامل ہوا ہے، جس سے تنظیم کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
    پاکستان 2005 میں بطور مبصر ملک شامل ہوا،2010 میں مستقبل رکنیت کیلئے درخواست جمع کی، 2015 میں مستقل رکنیت کی درخواست منظور ہوئی اور سال 2017 میں اس کا مکمل رکن بنا۔

    ایس سی او اجلاس کی اہمیت
    ایس سی او کے اس اجلاس کا وقت انتہائی اہم ہے۔ چونکہ دنیا بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے سے دوچار ہے، تنظیم کی توجہ انسداد دہشت گردی اور اقتصادی ترقی سے لے کر وسیع تر بین الاقوامی تعلقات کی طرف بڑھ گئی ہے۔ مبصرین یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم اہم عالمی مسائل اور اندرونی اختلافات کو کس طرح حل کرے گی، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات اور چین کے بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیش نظر۔
    کانفرنس کے لیے ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے دورہ پاکستان نے خاصی توجہ حاصل کرلی ہے، حالانکہ دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کی توقعات کم ہیں۔ کسی بھارتی وزیر خارجہ کا آخری دورہ پاکستان 2015 میں ہوا تھا اور سفارتی تعلقات کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تعلقات میں کسی قسم کے پگھلاؤ کا امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم جے شنکر کی موجودگی خطے میں بات چیت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
    ایس سی او اجلاس پاکستان کے لیے دوسرے رکن ممالک کے ساتھ پیچیدہ عالمی چیلنجوں، بشمول ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور یوکرین میں جاری تنازعات کے درمیان ایک اہم موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔

    پاکستان کے لیے ممکنہ فوائد
    اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بڑے نتائج ہو سکتے ہیں، لیکن پاکستان کیلئے زیادہ اہم وزیراعظم شہبازشریف کی اجلاس کے سائید لائن پر ملاقاتیں ہوں گی۔ اس دوران توقع کی جاسکتی ہے کہ مختلف ممالک اور خاص کر چین، روس کیساتھ پاکستان کی اہم معاہدوں پر بات چیت ہوگی۔ خاص طور پر توقع ہے کہ چینی قیادت پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر تبادلہ خیال کرے گی، جس سے چین پاکستان سی پیک کے منصوبوں کو تقویت مل سکتی ہے اور باہمی سیکیورٹی تعاون میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
    جیسا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ان پیچیدہ مسائل کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کے اعلانات اور قراردادیں عالمی معاملات پر اجتماعی موقف کی عکاسی کر سکتی ہے۔ رکن ممالک کے ردعمل پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اس کے نتائج آنے والے سالوں میں علاقائی استحکام اور تعاون کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاس سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
    Next Article انور خیال اور ڈاکٹروں نے میری بیماری کے دوران خصوصی خیال رکھا۔۔ استاد خیال محمد
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔

    اپریل 16, 2026

    پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل

    اپریل 16, 2026

    ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر

    اپریل 16, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔

    اپریل 16, 2026

    پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل

    اپریل 16, 2026

    ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر

    اپریل 16, 2026

    ڈی ایچ اے پشاور میں منعقد ہونے والی Build & Beyond Expo 2026 کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل سے ہو گیا ہے

    اپریل 16, 2026

    وزیراعظم کا وژن مائکرو سمال اینڈ میڈم انٹرپرائزز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر

    اپریل 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.