ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں، جن میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اموات اتوار سے شروع ہونے والے احتجاج کے بعد پہلی ہلاکتیں ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، صوبہ چهارمحال و بختیاری کے شہر لوردگان اور صوبہ لورستان کے شہر ازنا میں جھڑپوں کے دوران پانچ مظاہرین ہلاک ہوئے، جبکہ مغربی شہر کوہ دشت میں ایک باسج فورس کا اہلکار جان سے گیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے معاشی حالات بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم حکام نے بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملکی کرنسی ریال کی قدر میں ایک سال کے دوران نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

