حکومت نے پہلے عوام کو بجلی کے ڈراؤنے بلوں سے بچنے کی بڑی بڑی امیدوں کی باغ دکھائے تھے، کہا گیا سولر لگا لو، دن میں جو بجلی بنے گی وہ گرڈ کو دے دو، رات کو وہی یونٹ واپس مل جائیں گے، یعنی یونٹ کے بدلے یونٹ، بل بالکل کم ہو جائے گا بلکہ پیسے بچیں گے۔متوسط طبقے نے لاکھوں روپے خرچ کر کے چھتوں پر سولر پینل لگائے، انورٹر لگوائے، نیٹ میٹر لگوائے ۔
سوچا یہ اچھی سرمایہ کاری ہے، بجلی مفت ملے گی، بل کا بوجھ ختم ہو جائے گا، مگر اب نیپرا نے سب کچھ بدل دیا، پرانی نیٹ میٹرنگ ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نیا نظام لے آیا،اب کیا ہوگا؟
دن میں جو اضافی بجلی گرڈ کو بھیجیں گے، تو صرف 11 روپے (یا اس سے بھی کم) فی یونٹ ملیں گے ۔
رات کو یا جب ضرورت پڑی گرڈ سے بجلی لیں گے تو 45-50 روپے فی یونٹ (یا سلیب کے مطابق اور بھی زیادہ) ادا کرنے پڑیں گے ۔
یعنی سستی بجلی بیچو، مہنگی بجلی خریدو جو لاکھوں روپے خرچ کر کے سولر لگایا تھا، ان کی بچت اور سرمایہ کاری کا حساب صفر ہو گیا ۔
ملکی مفاد کا نام لے کر ایک ہی جھٹکے میں عوام کی پوری محنت اور پیسے کو ضرب لگا دی، یہ پالیسی بجلی کمپنیوں (ڈسکوز) کو تو فائدہ دے گی، مگر عام آدمی کے لیے بہت بڑا نقصان ہے، بیٹری والے تھوڑا بچ سکتے ہیں، باقی سب کو مہنگا پڑے گا
عام آدمی کے لیے یہ حکومت مسلسل عذاب ہے۔ پہلے لوگوں کو خود ترغیب دی اور اسکے بعد خود ہی انکے گلے پر چھری پھیر دی، آئی پی پیز کیونکہ حکمرانوں کے اپنے ہیں اس لئے وہ معاہدے کسی صورت ختم نہیں ہو گے عام آدمی مرتا ہے تو مر جائے ۔
دوسری طرف بڑے کاروباری شخصیت اور ایکسپورٹرز کی بجلی سستی کرنے کیلئے گھریلو صارفین پر دوطرفہ حملہ کیا گیا ایک طرف بجلی کے ریٹس بڑھا دیئے دوسری طرف سولر نیٹ میٹرنگ عملی طور پر ختم کر دی ۔

