Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, ستمبر 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کرک پولیس مقابلہ، ظفران شہید کیس کا مرکزی نامزد اشتہاری ملزم ہلاک
    • تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور
    • لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کیخلاف درخواست مسترد کردی
    • لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معاشی اصلاحات پر خطاب
    • ازبک میڈیا وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، پاک ازبک تعلقات پر بریفنگ
    • مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش، پاکستانی دفترِ خارجہ کی شدید مذمت
    • ہونہار طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مہاجرین کے مسئلے کا حل
    بلاگ فروری 4, 2025

    مہاجرین کے مسئلے کا حل

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) واحد گل تین سال کا تھا جب اسکے والدین سوویت روس کے افغانستان پر حملے کے وقت جان بچانے کے لیے پاکستان ہجرت کر گئے، اب واحد گل اڑتالیس سال کا ھے، وہ میویشیوں کی خرید وفرخت کا دھندا کرتا ھے، اور خود چھ بچوں کا باپ ھے۔ واحد گل ضلع ملاکنڈ کے افغان مہاجر کیمپ میں ایک کچے مکان میں رہ رہا ہے۔ اسکے بچے پاکستانی سکول جاتے ہیں۔ علاج کے لیے پاکستانی ہسپتال سے دوا لیتے ہیں۔ انکی زبان بھی اب افغان پشتو سے مقامی یوسفزئی لہجے میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ واحد گل کو افغانستان کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔ یہی حال اسکے چھ بچوں کا ہیں۔ تاہم پاکستان میں یہ مہاجر خاندان غیر قانونی طریقے سے رہ رہا ہیں اور اصولآ انہیں کسی بھی وقت ملک بدر کیا جاسکتا ہیں۔

    اکتوبر 2023 میں حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کو زبردستی بیدخلی کے بارے میں مہلت دی تھی، واحد گل نے چھپ چھپاتے وہ مہلت گزار دی۔ لیکن انکی مشکلات تھمنے والی نہیں کیونکہ روزگار سے لیکر عدالت تک غیر قانونی مہاجرین کی زندگی مشکلات سے پر ہوتی ہیں۔ تاہم پھر بھی واحد گل کو افغانستان جانا قبول نہیں۔

    یہ کہانی صرف واحد گل کی نہیں بلکہ ان لاکھوں افغان مہاجرین کی ہیں جو غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں عشروں سے رہائش پزیر ہیں۔ اتنا عرصہ یہاں گزارنے کے بعد بھی انہیں عوامی طور پر مہاجر بولا جاتا ہیں۔ اسلام آباد،کوئٹہ اور پشاور کے چند درجن ہائی فائی افغان مہاجرین کو چھوڑ کر باقی سب کی حثیت سیکنڈ کلاس شہری کی سی ھے۔ ان مہاجرین کے خلاف وقتاً فوقتاً کریک ڈاونز بھی ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہ لوگ پھر بھی اپنے آبائی ملک جانے کو تیار نہیں۔

    پاکستان میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے بعد ان مہاجرین کے متعلق رائے عامہ خلاف ہوچکی ہیں۔ اسی طرح ان غیر قانونی مقیم مہاجرین میں سے چند افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے پوری افغان کمیونٹی کو تعصب اور نفرت کا سامنا ہیں۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ تعصب اور نفرت پوری دنیا میں مہاجرین کے خلاف تیزی سے بڑھ رہا ھے۔ چاہے وہ لبنان میں شامی مہاجرین ہوں یا جرمنی میں عراقی مہاجر، امریکہ میں ساوتھ امریکی مہاجر ہو یا برطانیہ میں پاکستانی ایمگرینٹس، میزبان ممالک میں ان تارکین وطن کو عوامی سطح سے لیکر حکومتی سطح تک اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا. ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بن جانے کے بعد امریکی سرزمین پھر سے تارکین وطن کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے۔

    ٹرمپ نے انتخابی کمپین کے وقت بھی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کے وعدے کیے تھے۔ یورپ میں بھی انٹی ایمگرینٹ جذبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اٹلی، جرمنی، سپین، اور فرانس میں تارکین وطن کے اوپر اکثر مقامی قوم پرست عناصر حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔ ائے دن کشتیوں کے ڈوبنے اور درجنوں تارکین وطن کی سمندر برد ہونے کے خبریں اتی رہتی ہیں۔ پنجاب کے چند اضلاع کے مخصوص علاقوں میں نوجوانوں کا ڈنکی لگا کر یورپ جانا فیشن بن چکا ہیں۔ عالمی ادارہ برائے ہجرت کے اعداد وشمار کے مطابق یورپ جانے کی کوشش کرنے والے بیشتر تارکین وطن معاشی وجوہات کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ کر خطرناک راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ چند خوش قسمت منزل پر پہنچ جاتے ہیں لیکن بیشتر ایجنٹ کے ہتھے چھڑ کر لٹ پٹ واپس اتے ہیں یا راستے میں موت کو گلے لگاتے ہیں۔جو افغان مہاجرین اپنا ملک چھوڑ رہے ہیں، انکی پہلی ترجیح یورپ اور پھر پاکستان ھے۔ دوسری طرف پاکستان کے اپنے نوجوان جوق در جوق ملک چھوڑ رہے ہیں۔ بھلے اسکے پیچھے معاشی عوامل کار فرما ہوں لیکن سوشل میڈیا پر یورپ کی چکاچوند یا پھر زات برادری میں ایک نوجوان کا یورپ سیٹل ہونا، باقیوں کے ترک وطن کے لیے کافی ہیں۔

    یہ نوجوان اپنے ملک میں کام کاج پر شرماتے اور گوروں کے گندے کپڑے دھونے پر فخر کرتے ہیں۔ ارد گرد میں اچھے بھلے سرکاری اور پرائویٹ سیکٹر کے ملازمین بھی باھر سیٹل ہونے کو مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں۔ مہاجرین کا مسلہ اب مقامی نہیں بلکہ گلوبل کرائسز کی شکل اختیار کرچکا ھے۔ اس عالمی مسلے کی اہم وجہ دولت کی وہ تقسیم ھے جس نے اشیاء کی پیداوار کرنے والے ممالک کو غریب اور ان اشیاء کی فنشنگ کرنے والے ممالک کو امیر بنایا ہیں۔ اکسفیم نامی عاپمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق عالمی دولت کا 90 فیصد حصہ صرف 4 فیصد ابادی کے پاس ہیں۔ باقی اربوں لوگ مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں۔ امیر ممالک تیسری دنیا کےممالک کے قدرتی وسائل نچوڑ کر اپنے ملک لیجاتے ہیں۔ یہ امیر ممالک اپنے مفادات کی جنگیں بھی تیسری دنیا کے ممالک میں لڑتے ہیں۔ جب تک امیر ممالک ان تھرڈ ورلڈ کنٹریز کو انکا حق نہیں دیتے تب تک عالمی ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اور جب تلک افغانستان میں عشروں پر محیط استحکام نہیں آتا، تب تک پاکستان سے مہاجرین کا انخلاء جزو وقتی بات ہوگی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleیوٹیلٹی سٹورز کے بغیر رمضان پیکج لانے کی ہدایت کردی ہے، وزیراعظم شہبازشريف
    Next Article پیکا ایکٹ کا بنیادی مقصد سچائی کا گلہ گھونٹا ھے۔ جاوید صدیق
    Web Desk

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کرک پولیس مقابلہ، ظفران شہید کیس کا مرکزی نامزد اشتہاری ملزم ہلاک

    ستمبر 17, 2026

    تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

    ستمبر 17, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور

    ستمبر 17, 2026

    لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کیخلاف درخواست مسترد کردی

    ستمبر 17, 2026

    لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معاشی اصلاحات پر خطاب

    ستمبر 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.