Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, مئی 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم
    • پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
    • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک
    • بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم
    • معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
    • آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات، بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلۂ خیال
    • ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دیدی
    • سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مہاجرین کے مسئلے کا حل
    بلاگ

    مہاجرین کے مسئلے کا حل

    فروری 4, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) واحد گل تین سال کا تھا جب اسکے والدین سوویت روس کے افغانستان پر حملے کے وقت جان بچانے کے لیے پاکستان ہجرت کر گئے، اب واحد گل اڑتالیس سال کا ھے، وہ میویشیوں کی خرید وفرخت کا دھندا کرتا ھے، اور خود چھ بچوں کا باپ ھے۔ واحد گل ضلع ملاکنڈ کے افغان مہاجر کیمپ میں ایک کچے مکان میں رہ رہا ہے۔ اسکے بچے پاکستانی سکول جاتے ہیں۔ علاج کے لیے پاکستانی ہسپتال سے دوا لیتے ہیں۔ انکی زبان بھی اب افغان پشتو سے مقامی یوسفزئی لہجے میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ واحد گل کو افغانستان کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔ یہی حال اسکے چھ بچوں کا ہیں۔ تاہم پاکستان میں یہ مہاجر خاندان غیر قانونی طریقے سے رہ رہا ہیں اور اصولآ انہیں کسی بھی وقت ملک بدر کیا جاسکتا ہیں۔

    اکتوبر 2023 میں حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کو زبردستی بیدخلی کے بارے میں مہلت دی تھی، واحد گل نے چھپ چھپاتے وہ مہلت گزار دی۔ لیکن انکی مشکلات تھمنے والی نہیں کیونکہ روزگار سے لیکر عدالت تک غیر قانونی مہاجرین کی زندگی مشکلات سے پر ہوتی ہیں۔ تاہم پھر بھی واحد گل کو افغانستان جانا قبول نہیں۔

    یہ کہانی صرف واحد گل کی نہیں بلکہ ان لاکھوں افغان مہاجرین کی ہیں جو غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں عشروں سے رہائش پزیر ہیں۔ اتنا عرصہ یہاں گزارنے کے بعد بھی انہیں عوامی طور پر مہاجر بولا جاتا ہیں۔ اسلام آباد،کوئٹہ اور پشاور کے چند درجن ہائی فائی افغان مہاجرین کو چھوڑ کر باقی سب کی حثیت سیکنڈ کلاس شہری کی سی ھے۔ ان مہاجرین کے خلاف وقتاً فوقتاً کریک ڈاونز بھی ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہ لوگ پھر بھی اپنے آبائی ملک جانے کو تیار نہیں۔

    پاکستان میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے بعد ان مہاجرین کے متعلق رائے عامہ خلاف ہوچکی ہیں۔ اسی طرح ان غیر قانونی مقیم مہاجرین میں سے چند افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے پوری افغان کمیونٹی کو تعصب اور نفرت کا سامنا ہیں۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ تعصب اور نفرت پوری دنیا میں مہاجرین کے خلاف تیزی سے بڑھ رہا ھے۔ چاہے وہ لبنان میں شامی مہاجرین ہوں یا جرمنی میں عراقی مہاجر، امریکہ میں ساوتھ امریکی مہاجر ہو یا برطانیہ میں پاکستانی ایمگرینٹس، میزبان ممالک میں ان تارکین وطن کو عوامی سطح سے لیکر حکومتی سطح تک اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا. ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بن جانے کے بعد امریکی سرزمین پھر سے تارکین وطن کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے۔

    ٹرمپ نے انتخابی کمپین کے وقت بھی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کے وعدے کیے تھے۔ یورپ میں بھی انٹی ایمگرینٹ جذبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اٹلی، جرمنی، سپین، اور فرانس میں تارکین وطن کے اوپر اکثر مقامی قوم پرست عناصر حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔ ائے دن کشتیوں کے ڈوبنے اور درجنوں تارکین وطن کی سمندر برد ہونے کے خبریں اتی رہتی ہیں۔ پنجاب کے چند اضلاع کے مخصوص علاقوں میں نوجوانوں کا ڈنکی لگا کر یورپ جانا فیشن بن چکا ہیں۔ عالمی ادارہ برائے ہجرت کے اعداد وشمار کے مطابق یورپ جانے کی کوشش کرنے والے بیشتر تارکین وطن معاشی وجوہات کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ کر خطرناک راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ چند خوش قسمت منزل پر پہنچ جاتے ہیں لیکن بیشتر ایجنٹ کے ہتھے چھڑ کر لٹ پٹ واپس اتے ہیں یا راستے میں موت کو گلے لگاتے ہیں۔جو افغان مہاجرین اپنا ملک چھوڑ رہے ہیں، انکی پہلی ترجیح یورپ اور پھر پاکستان ھے۔ دوسری طرف پاکستان کے اپنے نوجوان جوق در جوق ملک چھوڑ رہے ہیں۔ بھلے اسکے پیچھے معاشی عوامل کار فرما ہوں لیکن سوشل میڈیا پر یورپ کی چکاچوند یا پھر زات برادری میں ایک نوجوان کا یورپ سیٹل ہونا، باقیوں کے ترک وطن کے لیے کافی ہیں۔

    یہ نوجوان اپنے ملک میں کام کاج پر شرماتے اور گوروں کے گندے کپڑے دھونے پر فخر کرتے ہیں۔ ارد گرد میں اچھے بھلے سرکاری اور پرائویٹ سیکٹر کے ملازمین بھی باھر سیٹل ہونے کو مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں۔ مہاجرین کا مسلہ اب مقامی نہیں بلکہ گلوبل کرائسز کی شکل اختیار کرچکا ھے۔ اس عالمی مسلے کی اہم وجہ دولت کی وہ تقسیم ھے جس نے اشیاء کی پیداوار کرنے والے ممالک کو غریب اور ان اشیاء کی فنشنگ کرنے والے ممالک کو امیر بنایا ہیں۔ اکسفیم نامی عاپمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق عالمی دولت کا 90 فیصد حصہ صرف 4 فیصد ابادی کے پاس ہیں۔ باقی اربوں لوگ مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں۔ امیر ممالک تیسری دنیا کےممالک کے قدرتی وسائل نچوڑ کر اپنے ملک لیجاتے ہیں۔ یہ امیر ممالک اپنے مفادات کی جنگیں بھی تیسری دنیا کے ممالک میں لڑتے ہیں۔ جب تک امیر ممالک ان تھرڈ ورلڈ کنٹریز کو انکا حق نہیں دیتے تب تک عالمی ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اور جب تلک افغانستان میں عشروں پر محیط استحکام نہیں آتا، تب تک پاکستان سے مہاجرین کا انخلاء جزو وقتی بات ہوگی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleیوٹیلٹی سٹورز کے بغیر رمضان پیکج لانے کی ہدایت کردی ہے، وزیراعظم شہبازشريف
    Next Article پیکا ایکٹ کا بنیادی مقصد سچائی کا گلہ گھونٹا ھے۔ جاوید صدیق
    Web Desk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم

    مئی 13, 2026

    پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    مئی 13, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم

    مئی 13, 2026

    معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

    مئی 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.