Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جنوری 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان، ڈالر کی قدر میں ایک پیسے کی کمی
    • تیراہ بحران: صوبائی حکومت کی ناکامی اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا
    • بنوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات، امن کمیٹی رکن جاں بحق، دو دہشت گرد ہلاک
    • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا نیا اسپیل، بلوچستان اور خیبر پختونخوا شدید متاثر
    • چراغ تلے اندھیرا۔ صوبائ دارالحکومت پشاور میں گیس بجلی ۔آٹا اور مہنگائ نے عوام کی عزت نفس کو مجروح کرڈالا۔۔۔
    • ڈی آئی خان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر کواڈ کاپٹر حملہ، ایک اہلکار شہید، 2 شدید زخمی
    • بنوں میں دو مختلف واقعات، رکن امن کمیٹی جاں بحق، پولیس وین پر حملہ ناکام، دو دہشتگرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    اہم خبریں

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج

    جنوری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism in Khyber Pakhtunkhwa has political patronage, says Pakistan Army spokesperson
    دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ جنگ ہم کو جیتنا ہوگی، یہ جنگ طاقت سے جیتی جائے گی، اہم پریس کانفرنس سے خطاب
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شرف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے ۔

    راولپنڈی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ دودہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشتگردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف موقف واضح ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشن کیے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے ۔

    گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کیلیے فراہم کیا جاتا ہے ۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے ۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور بنگلہ دیش ایئر چیفس کی ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
    Next Article دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان، ڈالر کی قدر میں ایک پیسے کی کمی

    جنوری 26, 2026

    تیراہ بحران: صوبائی حکومت کی ناکامی اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا

    جنوری 26, 2026

    بنوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات، امن کمیٹی رکن جاں بحق، دو دہشت گرد ہلاک

    جنوری 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنوری 26, 2026

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان، ڈالر کی قدر میں ایک پیسے کی کمی

    جنوری 26, 2026

    تیراہ بحران: صوبائی حکومت کی ناکامی اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا

    جنوری 26, 2026

    بنوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات، امن کمیٹی رکن جاں بحق، دو دہشت گرد ہلاک

    جنوری 26, 2026

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا نیا اسپیل، بلوچستان اور خیبر پختونخوا شدید متاثر

    جنوری 26, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.