Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جنوری 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بنوں کے علاقے میتاخیل میں خونی تصادم، فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی
    • ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 98 شہروں تک پھیل گیا، ہلاکتیں 36 ہو گئیں
    • مردان کاٹلنگ روڈ گلبہار کے مقام پر خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور سمیت متعدد افراد زخمی
    • چکوال: اسلام آباد سے کراچی جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرگئی، 5 افراد جاں بحق، 27 زخمی
    • امریکا کی وینزویلا کے قریب روسی تیل بردار جہاز پر قبضے کی کوشش
    • کوئٹہ: مبینہ رشوت طلبی پر رکشہ ڈرائیور کا احتجاج، رکشے کو آگ لگا دی
    • انڈر 19 سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے زمبابوے کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کرلی
    • شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    اہم خبریں

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج

    جنوری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism in Khyber Pakhtunkhwa has political patronage, says Pakistan Army spokesperson
    دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ جنگ ہم کو جیتنا ہوگی، یہ جنگ طاقت سے جیتی جائے گی، اہم پریس کانفرنس سے خطاب
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شرف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے ۔

    راولپنڈی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ دودہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشتگردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف موقف واضح ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشن کیے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے ۔

    گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کیلیے فراہم کیا جاتا ہے ۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے ۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور بنگلہ دیش ایئر چیفس کی ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
    Next Article دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    بنوں کے علاقے میتاخیل میں خونی تصادم، فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی

    جنوری 7, 2026

    ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 98 شہروں تک پھیل گیا، ہلاکتیں 36 ہو گئیں

    جنوری 7, 2026

    مردان کاٹلنگ روڈ گلبہار کے مقام پر خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور سمیت متعدد افراد زخمی

    جنوری 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بنوں کے علاقے میتاخیل میں خونی تصادم، فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی

    جنوری 7, 2026

    ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 98 شہروں تک پھیل گیا، ہلاکتیں 36 ہو گئیں

    جنوری 7, 2026

    مردان کاٹلنگ روڈ گلبہار کے مقام پر خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور سمیت متعدد افراد زخمی

    جنوری 7, 2026

    چکوال: اسلام آباد سے کراچی جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرگئی، 5 افراد جاں بحق، 27 زخمی

    جنوری 7, 2026

    امریکا کی وینزویلا کے قریب روسی تیل بردار جہاز پر قبضے کی کوشش

    جنوری 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.