Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اپریل 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق
    • ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
    • امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
    • پی ایس ایل 11: راولپنڈیزکو مسلسل ساتویں شکست، لاہور 32 رنز سے کامیاب
    • پاکستانی عازمینِ حج کی پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی، حج مشن کا شاندار استقبال
    • امریکی تجاویز کا جائزہ جاری: ایرانی سلامتی کونسل کا اہم بیان
    • وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے کامیاب دورے کے بعد پاکستان پہنچ گئے
    • پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    اہم خبریں

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج

    جنوری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism in Khyber Pakhtunkhwa has political patronage, says Pakistan Army spokesperson
    دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ جنگ ہم کو جیتنا ہوگی، یہ جنگ طاقت سے جیتی جائے گی، اہم پریس کانفرنس سے خطاب
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شرف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے ۔

    راولپنڈی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ دودہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشتگردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف موقف واضح ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشن کیے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے ۔

    گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کیلیے فراہم کیا جاتا ہے ۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے ۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور بنگلہ دیش ایئر چیفس کی ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
    Next Article دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق

    اپریل 19, 2026

    ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    اپریل 19, 2026

    امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    اپریل 19, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق

    اپریل 19, 2026

    ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    اپریل 19, 2026

    امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    اپریل 19, 2026

    پی ایس ایل 11: راولپنڈیزکو مسلسل ساتویں شکست، لاہور 32 رنز سے کامیاب

    اپریل 18, 2026

    پاکستانی عازمینِ حج کی پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی، حج مشن کا شاندار استقبال

    اپریل 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.