مالڈووا کے وزیراعظم واسیلے توفان نے طالبان کی وزارتِ زراعت کے وفد کے مالڈووا کے دورے کو شرمناک اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غلط اندازے اور سرکاری اداروں کی ناکامی کا نتیجہ تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ مالڈووا طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ وفد کو ملک آنے کی اجازت سرکاری ضابطوں کے مطابق دی گئی، تاہم اس فیصلے کے سیاسی اور سفارتی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا۔
وزیراعظم کے مطابق، وفد کی آمد کی درخواست ایک مقامی کمپنی نے دی تھی جو ازبکستان کو زرعی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور افغانستان کی مارکیٹ میں بھی اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ زراعت نے درخواست وزارتِ خارجہ، امیگریشن حکام اور بارڈر پولیس کو بھیجی، جہاں تمام اداروں نے جانچ پڑتال کے بعد یہ قرار دیا کہ وفد کے ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں، جس کے بعد ویزے جاری کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق، اس معاملے میں مالڈووا کی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی سروس سے مشاورت نہیں کی گئی کیونکہ موجودہ قوانین کے تحت ایسا کرنا لازمی نہیں تھا۔
وزیراعظم توفان نے کہا کہ اگرچہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے، لیکن حساس نوعیت کے اس معاملے کے سیاسی، سفارتی اور سیکیورٹی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث غلط فیصلہ سامنے آیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں سرکاری ادارے صرف دفتری کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر فیصلے کے ممکنہ نتائج اور خطرات کا بھی مکمل جائزہ لیں۔

