Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, مارچ 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سابق فاٹا پارلیمنٹرینز کا اہم اجلاس: ایران پر حملوں کی مذمت، پختون بیلٹ میں امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان
    • خیبر نیوز کا عید اسپیشل شو، صحافی برادری، حکومتی ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات کی شرکت
    • پشاور میں سی این جی کی قلت اور پٹرول مہنگائی کے باعث فلنگ اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں
    • طورخم بارڈر کھلنے کے بعد پشاور سے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی شروع
    • پاکستان کی ثروت فاطمہ نے ملائیشیا میں بیڈمنٹن کے میدان میں دو گولڈ میڈلز جیت لیے
    • شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا کے مکینوں کی سیکیورٹی فورسز سے کلیئرنس آپریشن کی اپیل
    • خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں 5.3 شدت زلزلے کے جھٹکے
    • ٹرمپ کا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک روکنے کا اعلان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیتی کیمپ، پاکستان کے خلاف عالمی خطرہ
    افغانستان

    افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیتی کیمپ، پاکستان کے خلاف عالمی خطرہ

    نومبر 30, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism Training Camps in Afghanistan: A Growing Threat to Pakistan
    افغان حکومت کی پشت پناہی: پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان جو اب دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے سرحدی صوبوں میں دہشت گردوں کی تربیت کے لیے 7 کیمپ کام کر رہے ہیں، جن میں سے ایک صوبہ کنڑ میں واقع ہے اور یہ کیمپ  کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کنٹرول میں ہے، جہاں خودکش بمباروں کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپوں میں دہشت گردوں کو جدید اسلحہ اور دہشت گردی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گرد حملے کرے۔

    ان کیمپوں کے بارے  میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دہشت گردی کے مراکز صرف پاکستان کے فوجی اہداف تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں افغان حکومت کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی تصدیق کی گئی ہے، جنہیں پاکستان میں حملے کرنے کے لیے مختلف وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    افغان عبوری حکومت کا دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور وسائل کی فراہمی

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان عبوری حکومت (طالبان) دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو افغان حکومت کی طرف سے ماہانہ 500 ڈالر تک وظیفہ دیا جاتا ہے۔ یہ رقم ان دیگر مراعات کے علاوہ ہے جو افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کو فراہم کی جاتی ہیں۔

    افغان حکومت کی حمایت کے بغیر یہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے کیمپ قائم نہیں کر سکتیں، اور یہ بھی واضح ہے کہ افغان حکومت کی طرف سے دہشت گردی کی کارروائیوں کو فروغ دینا پاکستان کے خلاف ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف پاکستان میں، بلکہ مغربی ممالک میں بھی دہشت گرد حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پولیس کانسٹیبل محمد ولی کی گرفتاری کے بعد دیے گئے اقراری بیان میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغان حکومت کی حمایت سے ان دہشت گرد گروپوں نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے مقامی افراد کو استعمال کیا ہے۔ محمد ولی نے بتایا کہ وہ فیس بک کے ذریعے جماعت الاحرار کے ایجنٹ کا شکار ہو کر افغانستان پہنچا، جہاں اسے کنڑ کے دہشت گرد کیمپ میں تربیت دی گئی۔

    امریکی اسلحہ کا دہشت گردوں کے ہاتھ لگنا ایک نیا عالمی خطرہ

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے وقت 83 ارب ڈالر کا جدید اسلحہ چھوڑا گیا، جو اب طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں میں آ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ اب افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، جس سے خطے کے امن و سکون کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ عالمی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ طالبان نے اس اسلحے کا استعمال اپنے جنگی مقاصد کے لیے کیا ہے اور اسے پاکستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔

    بین الاقوامی امداد اور دہشت گردی کی مالی معاونت

    دوسری طرف، بین الاقوامی امداد بھی دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی، لیکن رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان امدادی رقوم کا ایک بڑا حصہ طالبان کی حکومت اور دہشت گرد گروپوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دی گئی امداد کا بھی ایک حصہ خودکش بمباروں کے خاندانوں کو دیا جا رہا ہے، جبکہ طالبان کی مرکزی بینک میں جانے والی امداد حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ جیسی تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

    عالمی دہشت گردی، ایک بڑھتا ہوا خطرہ

    افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ دہشت گرد گروہ جو اب جدید اسلحہ اور وسائل سے لیس ہیں، انہیں عالمی سطح پر دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع، جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ہے، اس خطرے کو مزید بڑھاتا ہے۔

    امریکہ اور اس کے اتحادی اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دوران اتنے بڑے مقدار میں اسلحہ چھوڑنے کا کیا فائدہ تھا، خاص طور پر جب ان اسلحے کو دہشت گرد گروہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

    فوری اقدامات کی ضرورت

    افغانستان کی صورتحال فوری عالمی کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔ طالبان کی دہشت گرد گروپوں کی حمایت، دہشت گردی کے کیمپوں کی موجودگی، اور بین الاقوامی امداد کا غلط استعمال دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر اس صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو افغانستان عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

    یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری اس بحران کا حل تلاش کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرے تاکہ اس خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لیے ممکنہ طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمعاشرتی خرابیوں اور لاقانونیت کیخلاف آپریشنن کلین اپ خیبر نیوز کا خیبر واچ
    Next Article لکی مروت:نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    سابق فاٹا پارلیمنٹرینز کا اہم اجلاس: ایران پر حملوں کی مذمت، پختون بیلٹ میں امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان

    مارچ 27, 2026

    شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا کے مکینوں کی سیکیورٹی فورسز سے کلیئرنس آپریشن کی اپیل

    مارچ 27, 2026

    ٹرمپ کا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک روکنے کا اعلان

    مارچ 27, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سابق فاٹا پارلیمنٹرینز کا اہم اجلاس: ایران پر حملوں کی مذمت، پختون بیلٹ میں امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان

    مارچ 27, 2026

    خیبر نیوز کا عید اسپیشل شو، صحافی برادری، حکومتی ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات کی شرکت

    مارچ 27, 2026

    پشاور میں سی این جی کی قلت اور پٹرول مہنگائی کے باعث فلنگ اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں

    مارچ 27, 2026

    طورخم بارڈر کھلنے کے بعد پشاور سے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی شروع

    مارچ 27, 2026

    پاکستان کی ثروت فاطمہ نے ملائیشیا میں بیڈمنٹن کے میدان میں دو گولڈ میڈلز جیت لیے

    مارچ 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.