Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اپریل 30, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی وزراء کی معرکۂ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد
    • قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک
    • عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں
    • ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    • سرحد پار گولہ باری: انگور اڈہ میں افغان طالبان کا مبینہ حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی
    • اسلام آباد: اپنا گھر اسکیم کا اجراء، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی شرکت
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 3304 پوائنٹس گر گیا
    • کابل میں پاکستانی ناظم الامور کی طلبی، پاکستان نے ڈی مارش کو پراپیگنڈا قرار دے دیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کے موجودہ دور میں پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا، رپورٹ
    اہم خبریں

    افغان طالبان کے موجودہ دور میں پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا، رپورٹ

    مارچ 7, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025ء میں پاکستان کو دہشتگردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا۔ تازہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس رپورٹ کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے افغانستان سے متعلق خدشات کی توثیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021ء کے بعد‘ جب سے افغانستان میں طالبان دوبارہ برسر اقتدار آئے ہیں‘ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردی میں ہونے والے حالیہ اضافے کی بڑی وجہ کالعدم ٹی ٹی پی ہے‘ جو افغان طالبان کی اتحادی تنظیم ہے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام سے ٹی ٹی پی کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں میسر آئی ہیں اور یہ تنظیم پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کے نتیجے میں 52 فیصد ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کیا اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مطلوب دہشت گرد کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی پر حکومتِ پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے تھے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر کے خطے کو بھارت کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں دنیا پر عیاں ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان نے دس ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں سمیت اسی ہزار شہریوں کی قربانی دی ہے جبکہ مالی نقصان کا تخمینہ ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زائد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے اور دنیا کو دہشت گردی کے نئے خطرات سے آگاہ کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صفِ اول کا اتحادی رہا اور اسی کردار کی بنا پر اسے امریکہ کا نان نیٹو اتحادی قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کا معاملہ ہو یا امریکی اتحادیوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا معاملہ۔ پاکستان نے اپنے کردار سے بڑھ کر ادا کیا اور افغانستان سے امریکی واتحادی افواج کی پُرامن اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا۔ اس دوران پاکستان اپنا یہ موقف بھی دنیا کے سامنے رکھتا رہا کہ پُرامن افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے‘ افغانستان کو دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے بچانے کیلئے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے اور طالبان پر دوحہ معاہدے کی پاسداری کیلئے دبائو ڈالنا چاہیے۔ مگر وہ قوتیں جنہوں نے دو دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہنے والے افغانستان کو اپنی پراکسی کا اکھاڑہ بنائے رکھا‘ پُرامن اور محفوظ افغانستان ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل نہیں کر سکتا اور اسی لیے انہوں نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی۔

    آج پاکستان کے خدشات پوری طرح مسلّم ہیں اور خود امریکہ بھی اپنے ہتھیاروں اور جنگی اسلحے کے دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ سکیورٹی فورسز میں بہتر رابطہ کاری اور انٹیلی جنس شیئرنگ سے دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ افغانستان سے بڑھتے سکیورٹی خدشات محض پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہیں اور اس حوالے سے مشترکہ سلامتی کی نئی حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، امریکی محکمہ خارجہ
    Next Article وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں، نئے وزیروں کا انتخاب اور وزارتوں کی تقسیم
    Web Desk

    Related Posts

    قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک

    اپریل 30, 2026

    عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں

    اپریل 30, 2026

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    اپریل 30, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی وزراء کی معرکۂ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد

    اپریل 30, 2026

    قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک

    اپریل 30, 2026

    عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں

    اپریل 30, 2026

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    اپریل 30, 2026

    سرحد پار گولہ باری: انگور اڈہ میں افغان طالبان کا مبینہ حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی

    اپریل 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.