Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
    • گورنر راج کے نفاذ کی توثیق، صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا
    • پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول 2026 میں سلور میڈل جیت لیا
    • صوبے کی ابتر صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن تھا، بلاول بھٹو
    • وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
    • خیبرپختونخوا میں سابق وزراء سے سرکاری گاڑیاں واپس نہ لینے کا انکشاف
    • پاکستان کا مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح 2.6 فیصد پر آ گیا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا کی حکومت کنٹرول کر رہے ہیں: رانا ثنا اللہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کے موجودہ دور میں پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا، رپورٹ
    اہم خبریں مارچ 7, 2025

    افغان طالبان کے موجودہ دور میں پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا، رپورٹ

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025ء میں پاکستان کو دہشتگردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا۔ تازہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس رپورٹ کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے افغانستان سے متعلق خدشات کی توثیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021ء کے بعد‘ جب سے افغانستان میں طالبان دوبارہ برسر اقتدار آئے ہیں‘ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردی میں ہونے والے حالیہ اضافے کی بڑی وجہ کالعدم ٹی ٹی پی ہے‘ جو افغان طالبان کی اتحادی تنظیم ہے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام سے ٹی ٹی پی کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں میسر آئی ہیں اور یہ تنظیم پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کے نتیجے میں 52 فیصد ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کیا اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مطلوب دہشت گرد کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی پر حکومتِ پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے تھے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر کے خطے کو بھارت کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں دنیا پر عیاں ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان نے دس ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں سمیت اسی ہزار شہریوں کی قربانی دی ہے جبکہ مالی نقصان کا تخمینہ ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زائد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے اور دنیا کو دہشت گردی کے نئے خطرات سے آگاہ کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صفِ اول کا اتحادی رہا اور اسی کردار کی بنا پر اسے امریکہ کا نان نیٹو اتحادی قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کا معاملہ ہو یا امریکی اتحادیوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا معاملہ۔ پاکستان نے اپنے کردار سے بڑھ کر ادا کیا اور افغانستان سے امریکی واتحادی افواج کی پُرامن اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا۔ اس دوران پاکستان اپنا یہ موقف بھی دنیا کے سامنے رکھتا رہا کہ پُرامن افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے‘ افغانستان کو دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے بچانے کیلئے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے اور طالبان پر دوحہ معاہدے کی پاسداری کیلئے دبائو ڈالنا چاہیے۔ مگر وہ قوتیں جنہوں نے دو دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہنے والے افغانستان کو اپنی پراکسی کا اکھاڑہ بنائے رکھا‘ پُرامن اور محفوظ افغانستان ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل نہیں کر سکتا اور اسی لیے انہوں نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی۔

    آج پاکستان کے خدشات پوری طرح مسلّم ہیں اور خود امریکہ بھی اپنے ہتھیاروں اور جنگی اسلحے کے دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ سکیورٹی فورسز میں بہتر رابطہ کاری اور انٹیلی جنس شیئرنگ سے دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ افغانستان سے بڑھتے سکیورٹی خدشات محض پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہیں اور اس حوالے سے مشترکہ سلامتی کی نئی حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، امریکی محکمہ خارجہ
    Next Article وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں، نئے وزیروں کا انتخاب اور وزارتوں کی تقسیم
    Web Desk

    Related Posts

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

    اکتوبر 14, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کی توثیق، صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا

    اکتوبر 14, 2026

    پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول 2026 میں سلور میڈل جیت لیا

    اکتوبر 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

    اکتوبر 14, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کی توثیق، صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا

    اکتوبر 14, 2026

    پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول 2026 میں سلور میڈل جیت لیا

    اکتوبر 14, 2026

    صوبے کی ابتر صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن تھا، بلاول بھٹو

    اکتوبر 14, 2026

    وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    اکتوبر 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.