خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں نے پولیس قافلے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید ہوگئے جبکہ ڈی ایس پی سمیت دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے، دوسری جانب پولیس کے آپریشن میں 4 دہشتگرد بھی ہلاک ہو گئے ۔
ڈیرہ اسماعیل خان: پولیس حکام نے بتایا کہ وانڈہ بڈھ کے علاقے میں دہشتگردوں نے پولیس کے قافلے پر فائرنگ کی ، جس میں ایس ایچ او تھانہ پنیالہ فہیم ممتاز شہید اور دیگر 3 اہلکار شہید ہوگئے جبکہ ڈی ایس پی حافظ محمد عدنان اور ایک ڈرائیور شدید زخمی ہو گئے ۔
ڈیرہ پولیس ترجمان کے مطابق حملے کے بعد علاقہ پنیالہ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا ، ایس پی سی ٹی ڈی ،ایس پی پہاڑپور، ڈی ایس پیز پہاڑپور و پنیالہ ایس ایچ اوز کی زیر قیادت پولیس کا خوارج کا گھیراؤ کیا ۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن سے واپسی پر دہشتگردوں نے جنگلات کی آڑ میں پولیس پر بزدلانہ حملہ کیا، پولیس کا بھرپور انداز میں جواب،پولیس کہ فائرنگ سے 4 دہشتگر ہلاک ہو گئے ۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے جام شہادت نوش کرنے والے 4 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں نے فرض کی راہ میں شہادت کا بلند رتبہ پایا ۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، خیبرپختونخوا میں قیام امن کے لیے پولیس کی قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ پولیس پر حملے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے کیا اور حملے کی رپورٹ طلب کرلی ۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں، شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی ۔

