عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری برائے خارجہ امور سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پچھلے 13 سال سے پختونخوا میں بغیر منصوبہ بندی کے حکومت کر رہی ہے، پی ٹی آئی حکومت نہ کوئی ٹیم، نہ ترقی کا کوئی وژن اور نہ ہی منشور رکھتی ہے ۔
پشاور: اپنے ایک بیان میں رہنما عوامی نیشنل پارٹی سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بدامنی، دہشت گردی اور بدترین حکمرانی سے عاجز آگئے ہیں، پختونخوا کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا، نوجوان بے روزگاری سے تنگ آ چکے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کے کارخانے بند ہو گئے ہیں، تاجر اور صنعتکار ذہنی مریض بن گئے ہیں،اقتصاد تباہ ہو گیا ہے، نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرونِ ممالک جانے پر مجبور ہیں،صوبے کا وزیراعلی کنٹینر چڑھنے کی بجائےاپنے منصب اور ذمہ داری کا احساس کریں ۔
سردار بابک کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا کام عوام کے مسائل میں مزید اضافہ نہیں بلکہ اس کا حل ہوتا ہے، والدین اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات برداشت کرنے کے بھی قابل نہیں رہے،عوام روٹی کے لیے بھی پریشان جبکہ پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی ارب پتی بن گئے ہیں ۔
ان کاکہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے تمباکو کاشتکار رو رہے ہیں، پختونخوا کے قیمتی معدنیات کو نیلام کر دیا گیا،پختونخوا کے عوام کا مطالبہ ہے کہ پختونخوا کی لوٹی ہوئی دولت کا حساب ہونا چاہیے،پختونخوا کی بربادی اور تباہی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے ۔
اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ عدالتیں پختونخوا کے وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا نوٹس لیں ۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پختونوں کو اپنےآئینی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھانا ہوگی،عوامی نیشنل پارٹی قوم کی ترجمان ہے، امن اور حقوق کے لیےہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔

