Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, اپریل 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔
    • پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل
    • ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
    • ڈی ایچ اے پشاور میں منعقد ہونے والی Build & Beyond Expo 2026 کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل سے ہو گیا ہے
    • وزیراعظم کا وژن مائکرو سمال اینڈ میڈم انٹرپرائزز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر
    • امریکی سینیٹ نے ایران پر حملوں کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری کا قرارداد مسترد کر دیا
    • پاک بحریہ کا مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
    • شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ سے متجاوز، طویل لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا سوال اور اس کے نتائج!
    بلاگ

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا سوال اور اس کے نتائج!

    نومبر 9, 2024Updated:نومبر 11, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The question of increasing the number of judges in the Supreme Court and its results!
    سوال یہ ہے کہ کیا ججز کی تعداد بڑھانا ہی عدالتی نظام کو فعال بنا سکتا ہے ؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(افضل شاہ یوسفزئی) قومی اسمبلی نے ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کی  منظوری دیدی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زیر التوا کیسز کا بوجھ کم ہوگا یا پھر یہ قدم صرف سپریم کورٹ میں اکثریت کے مؤقف کو کمزور کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے؟

    اگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں ججز کی تعداد کافی محدود ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں ججز کی تعداد صرف 9 ہے، کینیڈا میں بھی سپریم کورٹ میں 9 ججز ہیں، آسٹریلیا میں 12، اور جرمنی میں 16 ججز کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں عدالتی نظام  کی ایک درجہ بندی ہے، جو بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ اور ملائیشیا جیسے ممالک سے ملتا جلتا ہے۔

    بھارت میں سپریم کورٹ کے ججز کی مجموعی تعداد 34 ہے، برطانیہ میں 12، بنگلہ دیش میں 13، اور ملائیشیا میں 8 ججز موجود ہیں۔ اگر عدالتی نظام کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو برطانیہ کا نظام انصاف نمایاں ہے، جو 180 ممالک میں 20 ویں نمبر پر ہے، جبکہ ملائیشیا 57 ویں نمبر پر، بھارت 93 ویں نمبر پر اور بنگلہ دیش 149 ویں نمبر پر ہے۔

    اگر بات کی جائے ’’فاحکم بین الناس بالحق‘‘ ترازو کا 180 میں سے 133 نمبر پر موجود ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر اقتدار میں قائم ہیں۔

    اگر زیر التوا کیسز پر نظر ڈالی جائےتو ایک  اعشاریہ 7 ارب والی آبادی والے ملک انڈیا میں تقریبا چار کروڑ کیسز زیر التو ہیں اور صرف سپریم کورٹ میں 70 ہزار کیسز اس وقت زیر التو ہیں ۔اگر بنگلہ دیش کی بات کی جائے تو 17 کروڑ والی آبادی والے ملک میں 42 لاکھ کیسز زیر التو ہیں ۔

    اسطرح ملائشیا  میں 3 کروڑ 46 لاکھ آبادی والے ملک میں صرف 45 ہزار مقدمات زیر التوا کا شکار ہیں ۔

    پاکستان میں بھی عدالتی بوجھ کا یہی حال ہے پاکستان میں صرف اس وقت  20 لاکھ کیسز سے زیادہ  زیر التوا ہیں صرف سپریم کورٹ 59 ہزار کیسز سماعت کے منتظر ہیں۔

    پاکستان میں سپریم کورٹ،ہائیکورٹس اور ملک بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز کی مجموعی تعداد چار ہزار سے زائد ہے۔

    اگر انصاف کے حصول کی بات کی جائے تو اس  وقت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 62 ہزار کی آبادی کے لیے صرف ایک جج دستیاب ہے۔ اسی طرح لاہور ہائی کورٹ میں 22 لاکھ افراد کے لیے صرف ایک جج دستیاب ہے۔  صرف سپریم کورٹ میں 59ہزار سے زائد مقدمات زیرالتوا کا شکار ہے، برطانیہ میں ہر 44 ہزار لوگوں کیلئے ایک جج،

    ملائشیا میں 32 ہزار افراد کیلئے تقریباً ایک جج ہے۔  ہندوستان میں ہر 70،000 لوگوں کے لئے تقریبا ایک جج ہے،

    خیبرپختونخوا میں جرگہ سسٹم سے کافی کیسز عدالتوں  کو نہیں جاتے سارے وہاں ہی حل ہوجاتے ہیں۔

    اگر ججز  کی تنخواہوں اور مراعات کی بات کی جائے تو اس وقت برطانیہ کی ججز سب سے زیادہ  تنخواہ لیتے ہیں کوے لارڈ کی تنخوا ہ سالانہ 2 لاکھ 94 ہزار پاونڈ  تقريبا 21 ہزار 200 ڈالر بنتی ہے ۔

    اسطرح بنگلہ دیش ماہانہ 1170 ڈالر سے 1350 ڈالر تک لیتے ہیں۔ انڈین چیف جسٹس کی ماہانہ تنخوا دو لاکھ 80 ہزار انڈین روپے یعنی  3370 ڈالر ہے۔ ملائیشا کے ججز  20 ہزار سے 25 ہزار رنگٹ لیتے ہیں  جو تقریبا 4250 ڈالر بنتی ہے۔

    اگر بات کی جائے پاکستان کے چیف جسٹس کی تو وہ  ماہانہ 12 لاکھ روپے تنخوا لیتے ہیں  اور باقی ججز 11 لاکھ روپے وصول کرتے ہیں۔  یہ تنخوا ہ تقریبا 4329 ڈالر بنتی ہے ۔سابق صدر عارف علوی نے جون 2022 میں ججز کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا تھا جو نو لکھ سے 12 لاکھ تک پہنچ گئی تھی ۔

    اگر سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کر دی جائے تو ان کی مجموعی تنخواہ تقریباً 3 کروڑ 74 لاکھ روپے ماہانہ بنتی  ہے ۔

    سوال یہ ہے کہ کیا ججز کی تعداد بڑھانا ہی عدالتی نظام کو فعال بنا سکتا ہے یا یہ مسئلہ صرف تعداد کا نہیں بلکہ کارکردگی اور انصاف کی فراہمی کا ہے؟

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدنیا کے کسی بھی ملک میں رہوں پاکستانی پشتون ھونے پہ فخر کرتی ھوں۔نازیہ اقبال
    Next Article علامہ اقبال کا 147 واں یوم ولادت ، مزاراقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقارتقریب
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔

    اپریل 16, 2026

    پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل

    اپریل 16, 2026

    ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر

    اپریل 16, 2026

    ڈی ایچ اے پشاور میں منعقد ہونے والی Build & Beyond Expo 2026 کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل سے ہو گیا ہے

    اپریل 16, 2026

    وزیراعظم کا وژن مائکرو سمال اینڈ میڈم انٹرپرائزز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر

    اپریل 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.