Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, ستمبر 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، وفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کردیا، اعلامیہ جاری
    • کرک پولیس مقابلہ، ظفران شہید کیس کا مرکزی نامزد اشتہاری ملزم ہلاک
    • تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور
    • لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کیخلاف درخواست مسترد کردی
    • لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معاشی اصلاحات پر خطاب
    • ازبک میڈیا وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، پاک ازبک تعلقات پر بریفنگ
    • مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش، پاکستانی دفترِ خارجہ کی شدید مذمت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک
    بلاگ نومبر 10, 2024

    سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک

    Facebook Twitter Email
    The Great Smog A Lesson from London for Lahore
    سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک
    Share
    Facebook Twitter Email

    لندن میں 5 دسمبر 1952ء  کو جب لوگ صبح اٹھے، تو شہر ایک سیاہ دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، گاڑیاں اور ٹرینیں ایک دوسرے کو نظر نہیں آ رہی تھیں، اور شہری اپنی زندگی کے معمولات سے بے بہرہ تھے۔ چند دنوں میں یہ دھند سموگ میں تبدیل ہو گئی اور اس نے تقریباً چار ہزار جانیں لے لیں۔ لندن کی فضا میں موجود زہریلے مادے نے ہزاروں افراد کو دمے، ٹی بی اور نروس بریک ڈاؤن جیسی بیماریوں میں مبتلا کر دیا۔

    تاریخ میں اس سموگ کو "دی گریٹ سموگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سموگ دراصل اس وقت تک کی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ تھی، جو سات سو سال کی آلودگی کی گواہ تھی۔ فیکٹریوں، گاڑیوں، کوئلے کے پاور پلانٹس اور جنگلات کی کٹائی نے لندن کی فضا کو آلودہ کر دیا تھا۔ 1952ء کی اس مہلک سموگ کے بعد سر گیرالڈ ڈیوڈ جیسے رہنما نے اس آلودگی کو روکنے کے لئے "کلین ائیر ایکٹ” بنایا، جس نے لندن کی فضا کو صاف کر دیا۔ یہ قانون اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ صرف چار سال کے اندر لندن کی فضا دوبارہ صاف ہو گئی۔

    آج ہم ایک اور شہر لاہور کی حالت دیکھتے ہیں، جو لندن کی طرح سموگ کی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔ پنجاب اور خاص طور پر لاہور گزشتہ تین سالوں سے شدید سموگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ نومبر میں لاہور اور اس کے گرد و نواح میں آلودگی کی سطح اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ زہریلی دھند شہر کے تمام حصوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ لاہور میں اس وقت آلودگی کی شرح 200 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکی ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس آلودگی میں سلفر، نائٹروجن، اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسے زہریلے مادے شامل ہیں، جو پھیپھڑوں کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

    لاہور کی اس آلودگی کا بڑا سبب بھارت کے ہمسایہ شہر ہریانہ میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگا دینا ہے، جس سے پیدا ہونے والا دھواں لاہور تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح لاہور میں بڑھتی ہوئی فیکٹریوں کی تعداد، پاور پلانٹس کی تعمیر اور گاڑیوں کا بڑھتا ہوا تعداد بھی اس آلودگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان سب عوامل کے ساتھ ساتھ لاہور میں ٹائر جلا کر تیل نکالنے والے غیر قانونی کاروبار، کھیتوں کی جگہ پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بننا اور درختوں کی کٹائی لاہور کی فضا کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔

    اگر ہم سموگ کے اس بحران کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں لندن کے "کلین ائیر ایکٹ” سے سبق سیکھنا ہوگا۔ پنجاب حکومت کو فوری طور پر ایک "کلین پنجاب کمیشن” بنانا چاہیے، جو آلودگی کے ذرائع کا جائزہ لے اور ان پر قابو پانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائے۔ لاہور میں فیکٹریوں کو باہر منتقل کرنا، گاڑیوں کی تعداد کو کنٹرول کرنا، ٹائر اور کوئلہ جلانے پر پابندی لگانا اور شجرکاری کی مہم چلانا اس بحران کو کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات ہیں۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ مل کر فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر حکومت نے اس جانب فوری اقدامات نہ کیے تو پنجاب خصوصاً لاہور ایک اور لندن بن جائے گا، جہاں ترقی کی قیمت انسانوں کی زندگیوں سے ادا کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس بحران کے حل کے لئے جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ ترقی کا جھنڈا لاشوں پر نہیں لہرایا جا سکتا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کے صوابی جلسے میں امریکی جھنڈا لہرایا گیا،عمران خان کو ہر صورت رہا کرائیں گے،گنڈاپور
    Next Article پاکستان نے 22 سال بعد آسٹریلوی سرزمین پر ون ڈے سیریز جیت کر تاریخ رقم کرلی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، وفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کردیا، اعلامیہ جاری

    ستمبر 17, 2026

    تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

    ستمبر 17, 2026

    ہونہار طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    ستمبر 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، وفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کردیا، اعلامیہ جاری

    ستمبر 17, 2026

    کرک پولیس مقابلہ، ظفران شہید کیس کا مرکزی نامزد اشتہاری ملزم ہلاک

    ستمبر 17, 2026

    تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

    ستمبر 17, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور

    ستمبر 17, 2026

    لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کیخلاف درخواست مسترد کردی

    ستمبر 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.