Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک
    بلاگ نومبر 10, 2024

    سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک

    Facebook Twitter Email
    The Great Smog A Lesson from London for Lahore
    سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک
    Share
    Facebook Twitter Email

    لندن میں 5 دسمبر 1952ء  کو جب لوگ صبح اٹھے، تو شہر ایک سیاہ دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، گاڑیاں اور ٹرینیں ایک دوسرے کو نظر نہیں آ رہی تھیں، اور شہری اپنی زندگی کے معمولات سے بے بہرہ تھے۔ چند دنوں میں یہ دھند سموگ میں تبدیل ہو گئی اور اس نے تقریباً چار ہزار جانیں لے لیں۔ لندن کی فضا میں موجود زہریلے مادے نے ہزاروں افراد کو دمے، ٹی بی اور نروس بریک ڈاؤن جیسی بیماریوں میں مبتلا کر دیا۔

    تاریخ میں اس سموگ کو "دی گریٹ سموگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سموگ دراصل اس وقت تک کی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ تھی، جو سات سو سال کی آلودگی کی گواہ تھی۔ فیکٹریوں، گاڑیوں، کوئلے کے پاور پلانٹس اور جنگلات کی کٹائی نے لندن کی فضا کو آلودہ کر دیا تھا۔ 1952ء کی اس مہلک سموگ کے بعد سر گیرالڈ ڈیوڈ جیسے رہنما نے اس آلودگی کو روکنے کے لئے "کلین ائیر ایکٹ” بنایا، جس نے لندن کی فضا کو صاف کر دیا۔ یہ قانون اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ صرف چار سال کے اندر لندن کی فضا دوبارہ صاف ہو گئی۔

    آج ہم ایک اور شہر لاہور کی حالت دیکھتے ہیں، جو لندن کی طرح سموگ کی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔ پنجاب اور خاص طور پر لاہور گزشتہ تین سالوں سے شدید سموگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ نومبر میں لاہور اور اس کے گرد و نواح میں آلودگی کی سطح اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ زہریلی دھند شہر کے تمام حصوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ لاہور میں اس وقت آلودگی کی شرح 200 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکی ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس آلودگی میں سلفر، نائٹروجن، اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسے زہریلے مادے شامل ہیں، جو پھیپھڑوں کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

    لاہور کی اس آلودگی کا بڑا سبب بھارت کے ہمسایہ شہر ہریانہ میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگا دینا ہے، جس سے پیدا ہونے والا دھواں لاہور تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح لاہور میں بڑھتی ہوئی فیکٹریوں کی تعداد، پاور پلانٹس کی تعمیر اور گاڑیوں کا بڑھتا ہوا تعداد بھی اس آلودگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان سب عوامل کے ساتھ ساتھ لاہور میں ٹائر جلا کر تیل نکالنے والے غیر قانونی کاروبار، کھیتوں کی جگہ پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بننا اور درختوں کی کٹائی لاہور کی فضا کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔

    اگر ہم سموگ کے اس بحران کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں لندن کے "کلین ائیر ایکٹ” سے سبق سیکھنا ہوگا۔ پنجاب حکومت کو فوری طور پر ایک "کلین پنجاب کمیشن” بنانا چاہیے، جو آلودگی کے ذرائع کا جائزہ لے اور ان پر قابو پانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائے۔ لاہور میں فیکٹریوں کو باہر منتقل کرنا، گاڑیوں کی تعداد کو کنٹرول کرنا، ٹائر اور کوئلہ جلانے پر پابندی لگانا اور شجرکاری کی مہم چلانا اس بحران کو کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات ہیں۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ مل کر فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر حکومت نے اس جانب فوری اقدامات نہ کیے تو پنجاب خصوصاً لاہور ایک اور لندن بن جائے گا، جہاں ترقی کی قیمت انسانوں کی زندگیوں سے ادا کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس بحران کے حل کے لئے جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ ترقی کا جھنڈا لاشوں پر نہیں لہرایا جا سکتا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کے صوابی جلسے میں امریکی جھنڈا لہرایا گیا،عمران خان کو ہر صورت رہا کرائیں گے،گنڈاپور
    Next Article پاکستان نے 22 سال بعد آسٹریلوی سرزمین پر ون ڈے سیریز جیت کر تاریخ رقم کرلی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پشاور میں وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، صوبہ میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق

    اکتوبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.