Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    • وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    • مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک
    بلاگ نومبر 10, 2024

    سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک

    Facebook Twitter Email
    The Great Smog A Lesson from London for Lahore
    سموگ کا عذاب: لندن سے لاہور تک
    Share
    Facebook Twitter Email

    لندن میں 5 دسمبر 1952ء  کو جب لوگ صبح اٹھے، تو شہر ایک سیاہ دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، گاڑیاں اور ٹرینیں ایک دوسرے کو نظر نہیں آ رہی تھیں، اور شہری اپنی زندگی کے معمولات سے بے بہرہ تھے۔ چند دنوں میں یہ دھند سموگ میں تبدیل ہو گئی اور اس نے تقریباً چار ہزار جانیں لے لیں۔ لندن کی فضا میں موجود زہریلے مادے نے ہزاروں افراد کو دمے، ٹی بی اور نروس بریک ڈاؤن جیسی بیماریوں میں مبتلا کر دیا۔

    تاریخ میں اس سموگ کو "دی گریٹ سموگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سموگ دراصل اس وقت تک کی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ تھی، جو سات سو سال کی آلودگی کی گواہ تھی۔ فیکٹریوں، گاڑیوں، کوئلے کے پاور پلانٹس اور جنگلات کی کٹائی نے لندن کی فضا کو آلودہ کر دیا تھا۔ 1952ء کی اس مہلک سموگ کے بعد سر گیرالڈ ڈیوڈ جیسے رہنما نے اس آلودگی کو روکنے کے لئے "کلین ائیر ایکٹ” بنایا، جس نے لندن کی فضا کو صاف کر دیا۔ یہ قانون اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ صرف چار سال کے اندر لندن کی فضا دوبارہ صاف ہو گئی۔

    آج ہم ایک اور شہر لاہور کی حالت دیکھتے ہیں، جو لندن کی طرح سموگ کی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔ پنجاب اور خاص طور پر لاہور گزشتہ تین سالوں سے شدید سموگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ نومبر میں لاہور اور اس کے گرد و نواح میں آلودگی کی سطح اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ زہریلی دھند شہر کے تمام حصوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ لاہور میں اس وقت آلودگی کی شرح 200 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکی ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس آلودگی میں سلفر، نائٹروجن، اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسے زہریلے مادے شامل ہیں، جو پھیپھڑوں کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

    لاہور کی اس آلودگی کا بڑا سبب بھارت کے ہمسایہ شہر ہریانہ میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگا دینا ہے، جس سے پیدا ہونے والا دھواں لاہور تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح لاہور میں بڑھتی ہوئی فیکٹریوں کی تعداد، پاور پلانٹس کی تعمیر اور گاڑیوں کا بڑھتا ہوا تعداد بھی اس آلودگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان سب عوامل کے ساتھ ساتھ لاہور میں ٹائر جلا کر تیل نکالنے والے غیر قانونی کاروبار، کھیتوں کی جگہ پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بننا اور درختوں کی کٹائی لاہور کی فضا کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔

    اگر ہم سموگ کے اس بحران کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں لندن کے "کلین ائیر ایکٹ” سے سبق سیکھنا ہوگا۔ پنجاب حکومت کو فوری طور پر ایک "کلین پنجاب کمیشن” بنانا چاہیے، جو آلودگی کے ذرائع کا جائزہ لے اور ان پر قابو پانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائے۔ لاہور میں فیکٹریوں کو باہر منتقل کرنا، گاڑیوں کی تعداد کو کنٹرول کرنا، ٹائر اور کوئلہ جلانے پر پابندی لگانا اور شجرکاری کی مہم چلانا اس بحران کو کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات ہیں۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ مل کر فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر حکومت نے اس جانب فوری اقدامات نہ کیے تو پنجاب خصوصاً لاہور ایک اور لندن بن جائے گا، جہاں ترقی کی قیمت انسانوں کی زندگیوں سے ادا کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس بحران کے حل کے لئے جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ ترقی کا جھنڈا لاشوں پر نہیں لہرایا جا سکتا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کے صوابی جلسے میں امریکی جھنڈا لہرایا گیا،عمران خان کو ہر صورت رہا کرائیں گے،گنڈاپور
    Next Article پاکستان نے 22 سال بعد آسٹریلوی سرزمین پر ون ڈے سیریز جیت کر تاریخ رقم کرلی
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026

    مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک

    اگست 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.