Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, فروری 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان
    • عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف
    • وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ہیلتھ سنٹر کا افتتاح
    • ماضی کی درخشاں فنکارہ صفیہ رانی — فن کی دنیا کا بھولا ہوا نام
    • جہانگیر جانی کا مداح ھوں ایسا فنکار دوبارہ نہیں پیدا ھوگا۔۔
    • بنوں میں فائرنگ، سورانی ویلج کونسل کے چیئرمین عامر درانی سمیت 3 افراد شہید
    • سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ کیلئے تمام ٹرین آپریشن معطل
    • کرک میں پولیس وین پر دہشتگرد حملہ، 2 قیدی جاں بحق، اہلکار زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں،تفصیلی فیصلہ جاری
    اہم خبریں

    مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں،تفصیلی فیصلہ جاری

    ستمبر 23, 2024Updated:ستمبر 23, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The Supreme Court issued a detailed decision on the case of reserved seats
    تفصیلی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا گیا ۔۔۔ فوٹو فائل
    Share
    Facebook Twitter Email

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس  کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ۔70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی  شاہ نے تحریری کیا ہے ۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق  الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے ۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ الیکشن میں بڑا سٹیک عوام کا ہوتا ہے ۔

    سپریم کورٹ نے تفصیلی تحریری فیصلے میں مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا ہے ۔

    سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز کے تفصیلی فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے،تحریک انصاف نے 2024 کے انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتی یا حاصل کیں۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین  و قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑا کرنے سے نہیں روکتا،انتخابی نشان نہ دینا سیاسی جماعت کے انتخاب لڑنے کے قانونی و آئینی حق کو متاثر نہیں کرتا۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابی تنازع بنیادی طور پر 100 تنازعات سے مختلف ہوتا ہے، انتخابی تنازع بنیادی طور پر دیگرسول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے، یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ کہ آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے، پی ٹی آئی کے مطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا۔

    سپریم نے الیکشن کمیشن کے رویے پر بھی حیرانی کا اظہار کر دیا، عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا، الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عمل میں نمایاں غلطیوں کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔

    فیصلے میں بتایا گیا کہ عوام کی خواہش اور جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات ضروری ہیں، تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، عوام کا ووٹ جمہوری گورننس کا اہم جز ہے، آئین عوام کو اپنا جمہوری راستہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

    اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ریلیف دینے پر وضاحت بھی کر دی، انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کیس میں فریق بننے کی درخواست ہمارے سامنے موجود تھی، عمومی طور پر فریق بننے کی درخواست پر پہلے فیصلہ کیا جاتا ہے۔

    سپریم کورٹ کے 2 ججز کا تفصیلی فیصلے سے اختلاف :۔

    تفصیلی فیصلے میں 8 ججز نے 2 ججز کے اختلافی نوٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔

    فیصلے میں  کہا گیا کہ بھاری دل سے بتاتے ہیں دو ساتھی ججز امین الدین اور جسٹس نعیم افغان نے ہمارے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا، جس انداز میں دو ججز نے اکثریتی فیصلے پر اختلاف کا اظہار کیا وہ مناسب نہیں۔

    فیصلے کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ 2 ججز اپنی حدود سے تجاوز کر گئے، انہوں نے 80 ریٹرن امیدواروں کو انتبا دہا اور الیکشن کمیشن کو اکثریتی حکم کی تعمیل نہ کرنے کا حکم دیا جو کہ اس عدالت کے 13 رکنی فل کورٹ بینچ کا فیصلہ تھا، ایسے مشاہدات انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے کی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ عمل عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔

    70 صفحات کے تفصیلی فیصلے میں 8 ججز نے سپریم کورٹ کے دو ججوں کی اپنے 12 جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے اور کہا ہے کہ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کا عمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے منافی ہے۔

    سپریم کورٹ نے ‏مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اردو ترجمہ کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور ویب سائٹ پر بھی اَپ لوڈ کریں۔

    یاد رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا تھا۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحکومت کی مالیاتی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گے، سپریم کورٹ
    Next Article لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ڈی جی آئی ایس آئی مقرر
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان

    فروری 1, 2026

    وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ہیلتھ سنٹر کا افتتاح

    جنوری 31, 2026

    بنوں میں فائرنگ، سورانی ویلج کونسل کے چیئرمین عامر درانی سمیت 3 افراد شہید

    جنوری 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان

    فروری 1, 2026

    عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف

    جنوری 31, 2026

    وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ہیلتھ سنٹر کا افتتاح

    جنوری 31, 2026

    ماضی کی درخشاں فنکارہ صفیہ رانی — فن کی دنیا کا بھولا ہوا نام

    جنوری 31, 2026

    جہانگیر جانی کا مداح ھوں ایسا فنکار دوبارہ نہیں پیدا ھوگا۔۔

    جنوری 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.