Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026: صاف ماحول، صحت اور تعلیم بہتر معاشرے کے لیے ضروری ہیں: مصدق ملک
    • خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر
    • بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو مبینہ خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام
    • فیلڈ مارشل سيد عاصم منیر کا دفاعی صنعتی کمپلیکس واہ کا دورہ، مقامی سطح پر تیار ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تجربات کا مشاہدہ
    • سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
    • جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » چین اور مغرب کی ٹیکنالوجی وار
    اہم خبریں جنوری 30, 2025

    چین اور مغرب کی ٹیکنالوجی وار

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) پیر کو اسوقت عالمی سٹاک مارکیٹس، میڈیا اور ٹیکنالوجی پارکس میں تہلکہ مچ گیا جب امریکی چپ بنانے والی کمپنی Nvidia کے شئیرز میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو ائی اور پلک جھپکتے ہی نویڈا کی مارکیٹ ویلیو میں 600 ارب ڈالرز کی کمی رپورٹ ہوئی۔

    اس خبر نے دنیا بھر میں ٹاپ نیوز ہیڈلائن کے طور پر جگہ پائی۔ یوکرائن جنگ، ٹرمپ کی صدارت، فلسطین میں جنگ وغیرہ جیسے سلگتے موضوعات اس خبر کے آنے سے دب کر رہ گئے۔ مغربی سٹاک مارکیٹس میں اس زبردست گراوٹ اور سکتے کی وجہ بنی ھے۔

    ڈیپ سیک نامی وہ چینی کمپنی جس نے آرٹیفشل انٹیلجنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس چینی کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی جیسا ماڈل لانچ کیا ھے جسے R1 کا نام دیا گیا ھے۔ کہا جاتا ھے کہ R1 نامی ڈیپ سیک ماڈل میں وہ سب خوبیاں ھے جو Chat GPT میں پائی جاتی ھے۔ بلکہ کارکردگی میں چینی متبادل چیٹ جی پی ٹی سے کئ گنا بہتر ھے۔

    تاہم چیٹ جی پی ٹی کا سیکنڈری ورژن کافی مہنگا جبکہ deep seek تادم تحریر گوگل ایپ پر مفت دستیاب ھے۔ یہ چینی Ai ماڈل 20 جنوری کا لانچ ہوا ھے اور اسکے بعد سے تو جیسے اسے ڈاون لوڈ کرنیوالوں کی لائن لگ گئ ھے۔ ایک طرف چیٹ جی پی ٹی بنانے والوں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے مصنوعی زہانت کا اعلیٰ ماڈل بنایا ھے تو دوسری طرف ڈیپ سیک کا دعویٰ ھے کہ انہوں نے صرف 5.6 ملین ڈالر لگا کر Chat GPT کا متبادل بنایا ھے۔ یہ دعویٰ کس قدر صیحح ھے ٹیکنالوجی ماھرین ہی اس کو جانچ سکتے ہیں، لیکن جس طرح گزشتہ دو عشروں سے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے عالمی مارکیٹ میں سستی چیزیں پیش کر کے جگہ بنائی ہیں وہ کم خرچ بالا نشین والی بات ھے۔

    بہت سے قارئین کے لیے یہ بات باعث حیرت ہوگی کہ سمارٹ فون والی والی ٹاپ عالمی کمپنیوں میں چار کا تعلق چین سے ہیں۔ جنوبی کوریائی کمپنی سام سنگ اور ایپل کے بعد شیاومی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر ھے۔ اسی طرح ٹیسلا کے مقابلے میں چینی اٹوموبیل میکر BYD نے سال 2024 میں برقی گاڑیاں تیار کرنے میں ٹیسلا کو بھی پچھاڑ دیا۔ بی وائی ڈی نے گزشتہ سال 4.27 ملین بجلی سے چلنے والی گاڑیا بیچی، جبکہ ٹیسلا نے اس کے مقابلے میں صرف 1.79 ملین گاڑیاں عالمی مارکیٹ میں فروخت کی ہیں۔

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور صدارت میں چین کو برقی چپ یا سیمی کنڈکٹرز کی فروخت پر پابندی لگائی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ٹیکنالوجی میں چینی سبقت کو روکا جائیگا تاہم پیر کو ڈیپ سیک نے جسطرح امریکی کمپنیوں کی شیرز کا صفایا کردیا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ مغربی دنیا کتنی بڑی حماقت کا شکار رہی ہیں۔ یورپ نے برسوں تک چینی کمپنی Huawei کی 5G سروسز کو مختلف پابندیوں کے زریعے روکے رکھا۔ چینی کمپنی ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا پر میٹا کی فیس بک کی اجارہ داری ختم کردی ہیں۔ ایمزون کے مقابلے میں چینی کمپنی علی بابا نے ای کامرس پر مغرب کو للکارا ھے۔ اسی طرح روبٹکس، کوانٹم فزکس، توانائی اور خلائی دوڑ میں بھی یورپ اور امریکہ کو چین سے مات پڑ رہی ہیں۔

    کریٹکل ٹیکنالوجی میں چینی ترقی پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر ھے کیونکہ یورپ اور امریکہ نے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کو مختلف جواز پیش کر کے ٹیکنالوجی میں پسماندہ رکھنے کی کوشش کی ہیں۔ تاہم اب انکی اجارہ داری ختم ہونے والی ہیں۔ پاکستانی کمپنیاں چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر کے اس ابھرتے موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی اہم ملاقات
    Next Article چین کے ساتھ دوستی سے متعلق بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان
    Web Desk

    Related Posts

    ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026: صاف ماحول، صحت اور تعلیم بہتر معاشرے کے لیے ضروری ہیں: مصدق ملک

    اگست 29, 2026

    خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر

    اگست 29, 2026

    بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو مبینہ خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام

    اگست 29, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026: صاف ماحول، صحت اور تعلیم بہتر معاشرے کے لیے ضروری ہیں: مصدق ملک

    اگست 29, 2026

    خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر

    اگست 29, 2026

    بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو مبینہ خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام

    اگست 29, 2026

    فیلڈ مارشل سيد عاصم منیر کا دفاعی صنعتی کمپلیکس واہ کا دورہ، مقامی سطح پر تیار ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تجربات کا مشاہدہ

    اگست 29, 2026

    سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    اگست 29, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.