Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا
    • سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » چین اور مغرب کی ٹیکنالوجی وار
    بلاگ جنوری 30, 2025

    چین اور مغرب کی ٹیکنالوجی وار

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) پیر کو اسوقت عالمی سٹاک مارکیٹس، میڈیا اور ٹیکنالوجی پارکس میں تہلکہ مچ گیا جب امریکی چپ بنانے والی کمپنی Nvidia کے شئیرز میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو ائی اور پلک جھپکتے ہی نویڈا کی مارکیٹ ویلیو میں 600 ارب ڈالرز کی کمی رپورٹ ہوئی۔

    اس خبر نے دنیا بھر میں ٹاپ نیوز ہیڈلائن کے طور پر جگہ پائی۔ یوکرائن جنگ، ٹرمپ کی صدارت، فلسطین میں جنگ وغیرہ جیسے سلگتے موضوعات اس خبر کے آنے سے دب کر رہ گئے۔ مغربی سٹاک مارکیٹس میں اس زبردست گراوٹ اور سکتے کی وجہ بنی ھے۔

    ڈیپ سیک نامی وہ چینی کمپنی جس نے آرٹیفشل انٹیلجنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس چینی کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی جیسا ماڈل لانچ کیا ھے جسے R1 کا نام دیا گیا ھے۔ کہا جاتا ھے کہ R1 نامی ڈیپ سیک ماڈل میں وہ سب خوبیاں ھے جو Chat GPT میں پائی جاتی ھے۔ بلکہ کارکردگی میں چینی متبادل چیٹ جی پی ٹی سے کئ گنا بہتر ھے۔

    تاہم چیٹ جی پی ٹی کا سیکنڈری ورژن کافی مہنگا جبکہ deep seek تادم تحریر گوگل ایپ پر مفت دستیاب ھے۔ یہ چینی Ai ماڈل 20 جنوری کا لانچ ہوا ھے اور اسکے بعد سے تو جیسے اسے ڈاون لوڈ کرنیوالوں کی لائن لگ گئ ھے۔ ایک طرف چیٹ جی پی ٹی بنانے والوں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے مصنوعی زہانت کا اعلیٰ ماڈل بنایا ھے تو دوسری طرف ڈیپ سیک کا دعویٰ ھے کہ انہوں نے صرف 5.6 ملین ڈالر لگا کر Chat GPT کا متبادل بنایا ھے۔ یہ دعویٰ کس قدر صیحح ھے ٹیکنالوجی ماھرین ہی اس کو جانچ سکتے ہیں، لیکن جس طرح گزشتہ دو عشروں سے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے عالمی مارکیٹ میں سستی چیزیں پیش کر کے جگہ بنائی ہیں وہ کم خرچ بالا نشین والی بات ھے۔

    بہت سے قارئین کے لیے یہ بات باعث حیرت ہوگی کہ سمارٹ فون والی والی ٹاپ عالمی کمپنیوں میں چار کا تعلق چین سے ہیں۔ جنوبی کوریائی کمپنی سام سنگ اور ایپل کے بعد شیاومی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر ھے۔ اسی طرح ٹیسلا کے مقابلے میں چینی اٹوموبیل میکر BYD نے سال 2024 میں برقی گاڑیاں تیار کرنے میں ٹیسلا کو بھی پچھاڑ دیا۔ بی وائی ڈی نے گزشتہ سال 4.27 ملین بجلی سے چلنے والی گاڑیا بیچی، جبکہ ٹیسلا نے اس کے مقابلے میں صرف 1.79 ملین گاڑیاں عالمی مارکیٹ میں فروخت کی ہیں۔

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور صدارت میں چین کو برقی چپ یا سیمی کنڈکٹرز کی فروخت پر پابندی لگائی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ٹیکنالوجی میں چینی سبقت کو روکا جائیگا تاہم پیر کو ڈیپ سیک نے جسطرح امریکی کمپنیوں کی شیرز کا صفایا کردیا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ مغربی دنیا کتنی بڑی حماقت کا شکار رہی ہیں۔ یورپ نے برسوں تک چینی کمپنی Huawei کی 5G سروسز کو مختلف پابندیوں کے زریعے روکے رکھا۔ چینی کمپنی ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا پر میٹا کی فیس بک کی اجارہ داری ختم کردی ہیں۔ ایمزون کے مقابلے میں چینی کمپنی علی بابا نے ای کامرس پر مغرب کو للکارا ھے۔ اسی طرح روبٹکس، کوانٹم فزکس، توانائی اور خلائی دوڑ میں بھی یورپ اور امریکہ کو چین سے مات پڑ رہی ہیں۔

    کریٹکل ٹیکنالوجی میں چینی ترقی پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر ھے کیونکہ یورپ اور امریکہ نے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کو مختلف جواز پیش کر کے ٹیکنالوجی میں پسماندہ رکھنے کی کوشش کی ہیں۔ تاہم اب انکی اجارہ داری ختم ہونے والی ہیں۔ پاکستانی کمپنیاں چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر کے اس ابھرتے موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی اہم ملاقات
    Next Article چین کے ساتھ دوستی سے متعلق بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان
    Web Desk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.