افغان مہاجرین کے خلاف مختلف ممالک میں گرفتاریوں اور ملک بدری کی کارروائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ میں بھی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں نمایاں شدت آ گئی ہے۔ افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی ایک چشم کشا رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے جس میں حالیہ کارروائیوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے شہر شانلی عرفا میں 14 مزید غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ پناہ گزین ایک ٹرک میں چھپ کر غیر قانونی سفر کر رہے تھے۔ حکام نے غیر قانونی افغان مہاجرین کی نقل و حمل میں ملوث تین سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔
ترکش مائیگریشن ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی مہاجرین کی فہرست میں افغان باشندے پہلے نمبر پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 52 ہزار غیر قانونی پناہ گزین گرفتار کیے گئے، جن میں سے 42 ہزار افغان باشندے شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان رجیم اس قسم کے غیر قانونی انخلا اور انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر مہم نہیں چلا رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں بہتری کی فی الحال کوئی امید نظر نہیں آتی۔

