Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

پاکستان اور امریکہ کا میچ فکسڈ تھا؟ سینئر تجزیہ کار کے دھماکہ خیز انکشافات

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں امریکہ کے ہاتھوں پاکستانی ٹیم کی شرمناک شکست نے کئی پنڈورہ باکس کھول دئیے ہیں۔ شائقین کا غصہ عروج پر ہے اورکچھ تجزیہ نگار پہلے دبی دبی لیکن اب کھل کریہ بات کر رہے ہیں کہ یہ میچ فکسڈ تھا۔ پاکستانی صحافت کے سینئر کھلاڑی مبشر لقمان نے اس ہار کو لے کر بہت ہولناک انکشافات کیے ہیں۔ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انہیں ڈیڑھ ماہ قبل ہی پتہ تھا کہ پاکستان یہ میچ ہارنے جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں بہت بڑے بڑے لوگ ملوث ہیں۔

بورڈ کے چئیرمین محسن نقوی کو کرکٹ سمیت کسی کھیل کا نہیں پتہ لیکن وہ کرکٹ بورڈ چلا رہے ہیں اور بورڈ کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیم میں گروپنگ کا الزام بھی عائد کیا ہے کہ ٹیم کی ہارنے کی ایک وجہ گروپنگ بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی محسن نقوی کے کندھوں پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے پانچ کھلاڑی سفارشی ہیں اور بہت سے آفیشل بھی سفارشی ہیں اور یہ سب لوگ امریکہ میں سرکاری خرچے پر مزے کر رہے ہیں۔ ٹیم سلیکشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعظم خان کی شمولیت سمجھ سے بالا تر ہے جو آدمی ہل نہیں سکتا اس سے گراؤنڈ میں فیلڈنگ کرائی جارہی تھی جبکہ بابر اعظم کو کپتانی کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔

ٹیم کے کوچ اظہر محمود کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانوی شہری ہیں اور ان کی اہلیہ کھلاڑیوں کی مینجمنٹ کی کمپنی چلا رہی ہیں۔ ایک کمپنی انضمام الحق کی ہے اور یہ دونوں کمپنیاں آپس میں لڑ رہی ہیں۔ محمد رضوان، شاہین آفریدی سمیت کئی کھلاڑی صرف پیسے کے لیے ان کمپنیوں میں شامل ہیں۔

حالیہ میچ کے سپر اوور پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ محمد عامر وہی ہے جو پیسے لے کر پہلے بھی نو بال کرا چکا ہے۔ بکیز نے اس میچ کے لیے پندرہ پیسے کا ریٹ رکھا ہوا تھا یعنی اگر آپ امریکہ کی جیت پر ایک ہزار ڈالر لگاتے ہیں تو امریکہ کی جیت کی صورت میں آپ کو ایک لاکھ ڈالر ملنا تھے۔  بورڈ میں نالائق لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور اقربا پروری عروج پر ہے۔ مبشر لقمان نے یہ بھی کہا کہ جب بھی کیسی ایسوسی ایٹ ٹیم کو بڑے سٹیٹس کی ضرورت ہوتی ہے تو پاکستانی ٹیم اس سے ہار جاتی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں افغانستان، آئرلینڈ اور اب امریکہ سے ہار کی مثالیں دیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.