Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, ستمبر 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت
    • پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت
    • وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا
    • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے
    • وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
    • بلوچ خواتین بلوچستان کے روشن مستقبل کی امید ہیں، صوبائی وزیر میر ضیاء لانگو
    • شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کرم کے قبائل، جغرافیہ اور فرقہ واریت, حل کیا ہے؟
    اہم خبریں نومبر 25, 2024

    کرم کے قبائل، جغرافیہ اور فرقہ واریت, حل کیا ہے؟

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے طول و عرض میں مختلف مسالک کے لوگ دہائیوں سے اتفاق و اتحاد سے رہتے آ رہے ہیں- ہر مسلک اور عقیدے کے عوام بالخصوص شیعہ اور سنی کراچی، لاہور، ملتان، پنڈی، کوئٹہ ، پشاور الغرض پاکستان کے ہر حصے میں رہتے ہیں-

    صوبہ خیبر پختونخوا میں اہل تشیع کی ایک بہت بڑی تعداد مختلف شہروں، قصبوں میں صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ مگر کوہاٹ سے آگے جونہی ہنگو کا علاقہ شروع ہوتا ہے یہاں معاملات بدل جاتے ہیں۔ ہنگو شہر اور اس کے اطراف میں بڑی شیعہ آبادیاں ہیں جو کہیں استر زئی تو کہیں طوری قبائل کہلاتے ہیں۔

    ہنگو شہر سے آگے آئیں گے تو یہاں شیر کوٹ اسپینے وڑے کا علاقہ آتا ہے جو مکمل شیعہ علاقہ ہے، یہاں مزارات ہیں اور اہل تشیع کا تاریخی قبرستان ہے۔ اس علاقے سے آگے کی طرف چلیں تو ٹل بازار کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ یہ سنی علاقہ ہے ۔ٹل سے آگے کرم کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ چھپری کا علاقہ آتا ہے، یہ بھی سنی آبادیکا علاقہ ہے۔ چھپری سے آگے علی زئی کا مقام ہے جو مکمل اہل تشیع آبادی ہے۔ علی زئی، چھپری، مندوری ، یہ وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اور سنی کے درمیان کشیدگی موجود رہتی ہے حتیٰ کہ  ان علاقوں میں ایک دوسرے کو زندہ جلایا جاچکا ہے۔ اسی سڑک پر آگے جائیں تو کرم دوسرا بڑا شہر صدہ بازار آتا ہے جو مکمل سنی آبادی ہے ۔

    صدہ بازار سے آگے نکلیں دریا کرم کا پل کراس کریں تو بالش خیل کا علاقہ آتا ہے ۔ یہ علاقہ عرصہ دراز تک میدان جنگ بنا رہا ہے ۔ یہاں سنی آبادی تھی جو علاقہ خالی کر چکی ہے۔

    بالش خیل سے آگے تقریباً چالیس کلو میٹر تک کے علاقے میں اہل تشیع کی آبادیاں ہیں ۔ یہ ایک ہی سڑک ہنگو سے پاڑا چنار تک جاتی ہے۔  پاڑا چنار ضلع کرم کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ اس کا پرانا نام توتکئے ہے۔ یہ علاقہ دیگر علاقوں کی نسبت بہتر ہے اچھے ہسپتال ہیں اسکول کالج ہیں اور بڑی مارکیٹیں ہیں۔

    پاڑا چنار شہر کی حددود تری منگل کے آخری سرحدی علاقوں سے تک ہیں۔ یہ سرحدی علاقے مقبل ، خروٹ، تری منگل کہلاتے ہیں یہ تمام سنی علاقے ہیں ۔

    جب بھی کرم میں لڑائی ہوتی ہے تو ہنگو سے پاڑا چنار جانے والا واحد راستہ بند کردیا جاتا ہے ۔ لوگ کئی کئی دنوں تک محصور رہتے ہیں ۔ یہاں کے عوام نے ایسے دن دیکھے ہیں کہ انہیں درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑا ۔ علاج کے انتظار میں مریض مر جاتے ہیں ۔ دوائیاں نہیں ملتی ۔ دیگر ضروری اشیأ کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

    ان علاقوں میں بہترین قسم کا سوفٹ اور سوپ اسٹون پایا جاتا ہے – نیفرائیڈ، جم اسٹون یہ سب وافر مقدار میں موجود ہے  جن کی ملکیت کا دعویٰ طوری قبائل سمیت تمام قبائل کرتے ہیں۔ یہ بھی زمینی تنازع کا ایک حصہ ہے۔

    یہاں سیعہ اور سنی کے درمیان اتنی نفرت ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان ایک دوسرے کو وڈیو پیغامات و چیلنج دیئے جاتے ہیں۔  اس جنگ میں ہار جیت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے یہ جنگ بس بدلے کی جنگ ہے۔

    افسوس کی بات ہے کہ مقامی افراد ہی ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ کبھی ایک کا پلڑا بھاری اور کبھی دوسرے کا- مقامی افراد کے اہل و عیال جو بیرون ملک رہتے ہیں وہ سوشل میڈیا پے اس لڑائی کو ہوا دینے میں پیش پیش ہیں۔

    عرصے سے جاری اس مسئلے کا حل سادہ ہے۔  اگر وزیرِستان کے لوگ اپنا غیر قانونی اسلحہ ترک کر سکتے ہیں تو کرم کے لوگ کیوں نہیں- اور اگر ملک کے باقی لوگوں نے قانون کے حساب سے زمین کی تقسیم مان لی ہے اور سکون سے  رہتے ہیں تو کرم کے لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے؟۔ کرم کے عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے ورنہ یہ لڑائی نہ جانے مزید کتنی جانیں لے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleضلع کُرم آگ میں جل رہا ہے اور خیبر پختونخوا حکومت غائب ہے۔ بلاول بھٹو
    Next Article پارا چنار میں لاشیں پڑی ہیں اور یہ سیاست کر رہے ہیں، علمائے کرام
    Web Desk

    Related Posts

    پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا

    ستمبر 3, 2026

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے

    ستمبر 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت

    ستمبر 3, 2026

    پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا

    ستمبر 3, 2026

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے

    ستمبر 3, 2026

    وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

    ستمبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.