Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جون 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قطر کے ایل این جی کمپلیکس میں دھماکہ، پاکستانیوں سمیت 13 افراد جاں بحق،66 زخمی
    • سمندر میں ریسکیو کیے جانے والے آٹھ ایرانی ماہی گیروں کو بحفاظت وطن واپس بھجوا دیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
    • وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے لیے روانہ
    • برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنے عہدے سے مستعفی
    • سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیراعظم شہبازشریف
    • چین نے بھی پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت کردی
    • خیبر:گھریلو تشدد کا شکار غیر ملکی خاتون کی بازیابی، ملزمان کے خلاف کارروائی شروع
    • ایران کبھی بھی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا، مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایرانی عوام کے مفاد میں ہیں، ایرانی صدر
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کرم کے قبائل، جغرافیہ اور فرقہ واریت, حل کیا ہے؟
    اہم خبریں

    کرم کے قبائل، جغرافیہ اور فرقہ واریت, حل کیا ہے؟

    نومبر 25, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے طول و عرض میں مختلف مسالک کے لوگ دہائیوں سے اتفاق و اتحاد سے رہتے آ رہے ہیں- ہر مسلک اور عقیدے کے عوام بالخصوص شیعہ اور سنی کراچی، لاہور، ملتان، پنڈی، کوئٹہ ، پشاور الغرض پاکستان کے ہر حصے میں رہتے ہیں-

    صوبہ خیبر پختونخوا میں اہل تشیع کی ایک بہت بڑی تعداد مختلف شہروں، قصبوں میں صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ مگر کوہاٹ سے آگے جونہی ہنگو کا علاقہ شروع ہوتا ہے یہاں معاملات بدل جاتے ہیں۔ ہنگو شہر اور اس کے اطراف میں بڑی شیعہ آبادیاں ہیں جو کہیں استر زئی تو کہیں طوری قبائل کہلاتے ہیں۔

    ہنگو شہر سے آگے آئیں گے تو یہاں شیر کوٹ اسپینے وڑے کا علاقہ آتا ہے جو مکمل شیعہ علاقہ ہے، یہاں مزارات ہیں اور اہل تشیع کا تاریخی قبرستان ہے۔ اس علاقے سے آگے کی طرف چلیں تو ٹل بازار کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ یہ سنی علاقہ ہے ۔ٹل سے آگے کرم کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ چھپری کا علاقہ آتا ہے، یہ بھی سنی آبادیکا علاقہ ہے۔ چھپری سے آگے علی زئی کا مقام ہے جو مکمل اہل تشیع آبادی ہے۔ علی زئی، چھپری، مندوری ، یہ وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اور سنی کے درمیان کشیدگی موجود رہتی ہے حتیٰ کہ  ان علاقوں میں ایک دوسرے کو زندہ جلایا جاچکا ہے۔ اسی سڑک پر آگے جائیں تو کرم دوسرا بڑا شہر صدہ بازار آتا ہے جو مکمل سنی آبادی ہے ۔

    صدہ بازار سے آگے نکلیں دریا کرم کا پل کراس کریں تو بالش خیل کا علاقہ آتا ہے ۔ یہ علاقہ عرصہ دراز تک میدان جنگ بنا رہا ہے ۔ یہاں سنی آبادی تھی جو علاقہ خالی کر چکی ہے۔

    بالش خیل سے آگے تقریباً چالیس کلو میٹر تک کے علاقے میں اہل تشیع کی آبادیاں ہیں ۔ یہ ایک ہی سڑک ہنگو سے پاڑا چنار تک جاتی ہے۔  پاڑا چنار ضلع کرم کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ اس کا پرانا نام توتکئے ہے۔ یہ علاقہ دیگر علاقوں کی نسبت بہتر ہے اچھے ہسپتال ہیں اسکول کالج ہیں اور بڑی مارکیٹیں ہیں۔

    پاڑا چنار شہر کی حددود تری منگل کے آخری سرحدی علاقوں سے تک ہیں۔ یہ سرحدی علاقے مقبل ، خروٹ، تری منگل کہلاتے ہیں یہ تمام سنی علاقے ہیں ۔

    جب بھی کرم میں لڑائی ہوتی ہے تو ہنگو سے پاڑا چنار جانے والا واحد راستہ بند کردیا جاتا ہے ۔ لوگ کئی کئی دنوں تک محصور رہتے ہیں ۔ یہاں کے عوام نے ایسے دن دیکھے ہیں کہ انہیں درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑا ۔ علاج کے انتظار میں مریض مر جاتے ہیں ۔ دوائیاں نہیں ملتی ۔ دیگر ضروری اشیأ کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

    ان علاقوں میں بہترین قسم کا سوفٹ اور سوپ اسٹون پایا جاتا ہے – نیفرائیڈ، جم اسٹون یہ سب وافر مقدار میں موجود ہے  جن کی ملکیت کا دعویٰ طوری قبائل سمیت تمام قبائل کرتے ہیں۔ یہ بھی زمینی تنازع کا ایک حصہ ہے۔

    یہاں سیعہ اور سنی کے درمیان اتنی نفرت ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان ایک دوسرے کو وڈیو پیغامات و چیلنج دیئے جاتے ہیں۔  اس جنگ میں ہار جیت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے یہ جنگ بس بدلے کی جنگ ہے۔

    افسوس کی بات ہے کہ مقامی افراد ہی ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ کبھی ایک کا پلڑا بھاری اور کبھی دوسرے کا- مقامی افراد کے اہل و عیال جو بیرون ملک رہتے ہیں وہ سوشل میڈیا پے اس لڑائی کو ہوا دینے میں پیش پیش ہیں۔

    عرصے سے جاری اس مسئلے کا حل سادہ ہے۔  اگر وزیرِستان کے لوگ اپنا غیر قانونی اسلحہ ترک کر سکتے ہیں تو کرم کے لوگ کیوں نہیں- اور اگر ملک کے باقی لوگوں نے قانون کے حساب سے زمین کی تقسیم مان لی ہے اور سکون سے  رہتے ہیں تو کرم کے لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے؟۔ کرم کے عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے ورنہ یہ لڑائی نہ جانے مزید کتنی جانیں لے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleضلع کُرم آگ میں جل رہا ہے اور خیبر پختونخوا حکومت غائب ہے۔ بلاول بھٹو
    Next Article پارا چنار میں لاشیں پڑی ہیں اور یہ سیاست کر رہے ہیں، علمائے کرام
    Web Desk

    Related Posts

    قطر کے ایل این جی کمپلیکس میں دھماکہ، پاکستانیوں سمیت 13 افراد جاں بحق،66 زخمی

    جون 22, 2026

    سمندر میں ریسکیو کیے جانے والے آٹھ ایرانی ماہی گیروں کو بحفاظت وطن واپس بھجوا دیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    جون 22, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے لیے روانہ

    جون 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قطر کے ایل این جی کمپلیکس میں دھماکہ، پاکستانیوں سمیت 13 افراد جاں بحق،66 زخمی

    جون 22, 2026

    سمندر میں ریسکیو کیے جانے والے آٹھ ایرانی ماہی گیروں کو بحفاظت وطن واپس بھجوا دیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    جون 22, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے لیے روانہ

    جون 22, 2026

    برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنے عہدے سے مستعفی

    جون 22, 2026

    سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیراعظم شہبازشریف

    جون 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.