Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مئی 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف
    • سلہٹ ٹیسٹ میں کامیابی کی تمام امیدیں محمد رضوان سے وابستہ ہو گئیں
    • شمالی وزیرستان: شیوہ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک
    • وزیراعظم کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات، طویل المدتی شراکت داری کا عزم
    • پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
    • پاکستان اور جاپان کے درمیان پیٹرولیم، جیوسائنسز اور معدنی تحقیق میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
    • روس اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک استحکام پر مشاورتی اجلاس کا انعقاد
    • اعلان کے باوجود ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغانستان میں طاقت کا بدلتا توازن: پاکستان کی نئی سفارتی چال یا خطرناک جغرافیائی جوکھم؟
    بلاگ

    افغانستان میں طاقت کا بدلتا توازن: پاکستان کی نئی سفارتی چال یا خطرناک جغرافیائی جوکھم؟

    اگست 18, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Pakistan Redraws the Afghan Chessboard
    Between Strategy and Isolation Lies Islamabad’s Gamble
    Share
    Facebook Twitter Email

    خالد خان

    سیاسی فیصلے بعض اوقات بند کمروں میں ہوتے ہیں، مگر ان کی بازگشت صدیوں تک تاریخ کے گوشوں میں گونجتی رہتی ہے۔ پاکستان نے اگست کی گرمی کی شدت لیے ان دنوں میں جب افغان طالبان مخالف جلاوطن رہنماؤں کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا، تو یہ محض ایک تقریب کا اعلان نہ تھا بلکہ خطے کی پیچیدہ شطرنج پر ایک نئی چال کا آغاز تھا۔ 25 اور 26 اگست کو منعقد ہونے والا یہ اجلاس اب ایک سادہ اجلاس نہیں رہا، بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں پاکستان کی نئی حکمت عملی، علاقائی الجھنیں اور عالمی صف بندیوں کی پرچھائیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    افغانستان کے تناظر میں پاکستان ہمیشہ ایک بنیادی فریق رہا ہے—کبھی دوستی کے نام پر، کبھی سٹریٹجک مفادات کی آڑ میں۔ طالبان کی سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدگی اور توقعات کا امتزاج رہے ہیں۔ لیکن تحریک طالبان پاکستان کی تازہ سرگرمیاں اور کابل حکومت کی خاموشی، پاکستان کے لیے ایک خفیف شکایت نہیں، بلکہ ایک بڑھتی ہوئی فکری الجھن بن چکی ہے۔ اب اسلام آباد محض مشاہدہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ خود کو ایک فعال اور مؤثر قوت کے طور پر متعارف کروانے کے لیے کوشاں ہے۔

    زلمے خلیل زاد نے اس اجلاس پر جو کڑی تنقید کی، وہ سفارتی اخلاقیات سے زیادہ ایک پرانی روش کی عکاسی کرتی ہے۔ اُن کے بقول یہ اقدام غیرسیاسی، غیر اخلاقی اور غیر سفارتی ہے، اور اگر افغانستان ایسا قدم اٹھاتا تو پاکستان کیسا ردعمل دیتا؟ یہ سوال اہم ہے، مگر یک طرفہ۔ خلیل زاد جیسے سفارت کار جو کبھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے روحِ رواں تھے، اب جب پاکستان ایک نئی سمت میں سوچتا دکھائی دے رہا ہے تو اعتراض کی زبان بولنے لگے ہیں۔ درحقیقت یہ تنقید خود اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی اس چال نے بین الاقوامی حلقوں میں ارتعاش پیدا کیا ہے۔

    روس، چین اور ایران کی خاموش حرکات اب بےصدائی کی حدیں پار کر چکی ہیں۔ روس نے طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کر کے اس بات کا عملی اظہار کیا کہ وہ اب صرف شام یا یوکرین تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی اپنی موجودگی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چین، جو خاموشی سے افغانستان کی معدنی دولت پر نگاہ رکھے ہوئے ہے، اپنی معاشی طاقت کے بل بوتے پر وہاں قدم جما رہا ہے۔ ایران، جو طالبان سے نظریاتی اختلافات رکھتا ہے، اب ایک محتاط قربت اختیار کر چکا ہے، تاکہ اس کے مشرقی سرحدی مفادات محفوظ رہ سکیں۔ ان تینوں ریاستوں کی مشترک دلچسپیاں افغانستان کو ایک نئے محور میں بدل رہی ہیں، اور اس کے بیچ پاکستان کو اپنی جگہ متعین کرنا ایک نازک توازن کا کام ہے۔

    ایسے میں امریکہ اور یورپ کی خاموشی اور بےرخی خود ایک سیاسی تفسیر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کو ایک مکمل باب کے طور پر بند کر دیا ہے، اور اس خلا میں پاکستان نے قدم رکھ کر وہی کرنے کی کوشش کی ہے جو واشنگٹن پہلے خود کرتا رہا ہے۔ البتہ یہ کوشش آسان نہیں۔ پاکستان کے حالیہ سفارتی رویوں اور امریکہ کے ساتھ بدلتے روابط نے اس نکتے پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی اب چین کے ساتھ اپنی "ہمیشہ کی دوستی” پر قائم ہے یا اب بھی مغرب کے دروازے پر آدھا قدم رکھا ہوا ہے؟ اس سوال کی بازگشت ہمیں حال ہی میں صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کی ناکام ملاقات میں بھی سنائی دیتی ہے، جس نے عالمی سفارت کاری کے بدلتے معیار اور کمزور ہوتی روایات کو بےنقاب کر دیا ہے۔

    اس تمام صورتحال میں بھارت کا کردار نہایت باریک مگر انتہائی فیصلہ کن ہے۔ دہلی برسوں سے افغانستان میں سرمایہ کاری کے بہانے موجودگی قائم رکھے ہوئے ہے، مگر اس موجودگی کا اصل ہدف پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ چاہے وہ پنجشیر کی خاموش حمایت ہو یا کابل کے بعض عناصر سے خفیہ روابط—بھارت کی کوشش ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک نیا سٹریٹجک محاذ بنا دے۔ اس تناظر میں پاکستان کا موجودہ قدم صرف کابل کے لیے نہیں، دہلی کے لیے بھی ایک غیر اعلانیہ پیغام ہے کہ وہ افغان میدان کو یک طرفہ تصور نہ کرے۔

    پاکستان کو اس وقت اندرونی سطح پر بھی بےپناہ مسائل کا سامنا ہے۔ معیشت بحران کی گرفت میں ہے، سیاسی استحکام خواب سا لگتا ہے، اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے قومی اعصاب کو چوٹ پہنچائی ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر پائی جانے والی کشیدگی، سرحد پار حملے، اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اب صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ کابل کے ساتھ اگر سچّی شراکت داری ممکن نہیں تو پاکستان کو اپنی خودمختار حکمت عملی ترتیب دینی ہی ہوگی، چاہے وہ کتنی ہی غیر روایتی کیوں نہ ہو۔

    پشتون بیلٹ، جو برسوں سے افغانستان اور پاکستان کے بیچ ایک نامرئی لکیر کی زنجیروں میں جکڑا رہا، اب ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یہاں کے عوام کو محض تزویراتی کھیلوں کا مہرہ نہیں بلکہ امن اور ترقی کے اصل شراکت دار بننے کی ضرورت ہے۔ اگر اس خطے کو ایک بار پھر عسکریت، انتقام اور مداخلت کی سیاست کی نذر کیا گیا، تو اس کا بوجھ نہ صرف دو ریاستیں بلکہ دو نسلیں اٹھائیں گی۔

    طالبان حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف قوت سے حکمرانی طویل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان جیسے ہمسائے کے ساتھ مخاصمت، اور علاقائی توازن کو نظر انداز کرنے کا انجام دوبارہ تنہائی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اگر وہ واقعی خود کو ایک باقاعدہ اور تسلیم شدہ ریاستی نظام کے تحت دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں سفارتی رویوں، ہمسائیگی کے آداب، اور بین الاقوامی توقعات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

    پاکستان کا یہ اقدام چاہے جتنا بھی متنازعہ کیوں نہ ہو، اس میں ایک سنجیدہ پیغام چھپا ہوا ہے: یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان نے محض ردعمل سے آگے بڑھ کر پیشگی سوچنے کا حوصلہ کیا ہے۔ یہ ایک خاموش اعتراف بھی ہے کہ افغانستان کی سیاست کو صرف خواہشات سے نہیں، حکمت اور تجربے سے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

    اگر یہ حکمت عملی خطے میں توازن، امن اور سیکیورٹی کے نئے باب کھولتی ہے تو پاکستان ایک نئے سیاسی قد کا حامل ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ صرف ایک وقتی دباؤ کی پیداوار ہے، تو پھر یہ فیصلہ مزید الجھنوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ اسلام آباد کی یہ خاموش چال ایک جیت کا آغاز تھی یا ایک نئے دلدل کی شروعات۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleفنکاروں کے فنڈز میں بندر بانٹ، نجیب اللہ انجم کا بڑا انکشاف
    Next Article پاکستان کی معیشت میں بہتری کی نوید
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    مئی 19, 2026

    سلہٹ ٹیسٹ میں کامیابی کی تمام امیدیں محمد رضوان سے وابستہ ہو گئیں

    مئی 19, 2026

    شمالی وزیرستان: شیوہ میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک

    مئی 19, 2026

    وزیراعظم کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات، طویل المدتی شراکت داری کا عزم

    مئی 19, 2026

    پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور

    مئی 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.