Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    • باجوڑ، سرحدی علاقہ چارمنگ میں بم دھماکہ، 2 خواتین شدید زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ہم یوم آزادی کیوں منائیں؟
    اہم خبریں اگست 14, 2024

    ہم یوم آزادی کیوں منائیں؟

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد (مدثر حسین) تیرہ اگست کی شام بازار سے گزرتے ہوئے جگہ جگہ جشن آزادی کا سامان جھنڈیاں، بیج، ٹوپیاں، اور پو پو کرنے والے باجے بیچنے والوں کی سٹالز پر رش دیکھ کر میرے بہت سارے خیالات غلط ثابت ہوئے، جوان ، بچے اور کچھ ادھیڑ عمر لوگ سٹالز پر کھڑے سامان خرید رہے تھے،انکی انکھوں میں چمک، ازادی کو لیکر انکے جذبات جان کر مجھے جھٹکا لگا، کیونکہ اس سے پہلے میرا خیال تھا کہ اس شدید مہنگائی، غربت ، بے روزگاری، استحصال کے ہوتے ہوئے کون پاگل ہوگا جو جشن آزادی منائے گا، لیکن چودہ اگست سے متعلق عوام میں جوش وخروش دیکھ کر مجھے لگا کہ شائد پاگل میں ہی ہوں، جو وقتی مسائل کو جواز بنا کر وطن بیزار ہوچکا ہوں، یقیناً اپ میں سے بہت سے لوگ اس بلاگ کے ابتدائیہ کو پڑھ کر سمجھتے ہوں گے کہ شائد میں آگے جا کر مطالعہ پاکستان ٹائپ لیکچر دینے والا ہوں، لیکن نہیں، نہ میں کچھ لیکچر دوں گا، نہ ہی اپ کو جشن آزادی کی قدر کرنے کی نصیحتیں جھاڑوں گا، کیونکہ اکثریتی عوام کی طرح میں بھی، وطن سے بہت کچھ امیدیں لیکر بڑا ہوا، زمانہ طالبعلمی میں، میرا بھی خیال تھا کہ ایک شاندار کرئیر میرا منتظر ہوگا، میں بھی سوچتا تھا کہ پریکٹکل زندگی میں داخل ہوکر میں سماج میں جاری بہت سے غلط کام روکوں گا۔
    لیکن جوں ہی پوسٹ گریجویشن کی ، تلاش معاش شروع ہوئی، تو اندازہ ہوگیا کہ تعلیمی ڈگری سے زیادہ یہاں ریفرنسز کی اہمیت ہے، عقل سے زیادہ کم عقلی کی قدر ہے، علم پر جہالت کو فوقیت دی جاتی ہے، سفارش بڑی دلیل ہے کہ آپ کتنے پانی میں ہے، اسی طرح جب چاروں طرف نظریں اٹھی تو غربت کا سمندر دیکھا، سماجی ، سیاسی، معاشی، مذہبی، اخلاقی غرض ہر میدان میں پاکستان کو پاتال میں گرا ہوا پایا، اسی لیے جب بھی چودہ اگست آتا ہے، تو میرے اندر اس آزادی سے بیزاری پیدا ہوتی ہے، بہت سو کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ قائداعظم اور مسلم لیگ نے ہمیں گوروں سے ازادی دلوا کر دیسی گوروں کی غلامی میں دیا ہیں، جو لوگ برٹش سامراج کے دور میں بڑے بڑے نیتا تھے، آج ان کی نسلیں ہماری حکمران ہیں، غرض ایسی سوچوں کے بھنور میں پھنس کر میں لفظ آزادی کو دھوکا سمجھ رہا تھا، لیکن شام کے وقت بازار کا چکر لگانے کے بعد مجھے لگا کہ یہ تمام گلے شکوے ایک طرف، اور عوام کی آنکھوں میں پاکستان کو لیکر پائے جانے والے سپنے دوسری طرف، یہ پچیس کروڑ لوگ چاہے کتنے ہی نظام سے بیزار ہوکر پاکستانیت کا اظہار اسی طرح کھل کر نہیں کر پا رہے جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک کے عوام اپنی دھرتی سے کرتے ہیں، لیکن یقین مانیے یہ لوگ دل سے اپنے دیس کے اتنے ہی خیر خواہ ہیں، جتنا کہ کوئی بھی محب وطن قوم ہوسکتی ہے، اس لیے کیونکہ ان پچیس کروڑ لوگوں کو ادراک ہیں،کہ پوری دنیا میں پاکستان ہی وہ گوشہ ہے، جسے وہ اپنا وطن کہہ سکتے ہیں، جس کی مٹی کو سونگھ کر انہیں سکون آتا ہے، یہ جو اورسیز پاکستانی ہوتے ہیں، یہ ہماری نظروں میں بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جو ملک چھوڑ کر اپنی قسمت بناتے ہیں، لیکن کبھی آپ نے انکے دلوں میں جھانک کر وہ تڑپ دیکھی ہے جو بیرون ملک رہتے ہوئے انہیں ہر دم بے چین رکھتی ہیں، تبھی تو پاکستان کا نام سن کر انہیں جو اپنائیت محسوس ہوتی ہیں، ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہی۔

    نظام سے گلے شکوے بالکل جینوئین ہیں، لیکن پاکستان سے دلی محبت اس سے بھی زیادہ جینوئن ہیں، تبھی تو ارشد ندیم نے ایک مڈل جیت کر کروڑوں لوگوں کے بجھے دلوں میں نئی امیدیں جگا دی، یہ قوم کب سے ایسی خوشخبریوں کی آس لگائے بیٹھی ہے، اگر حکمران طبقات ذرا بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا کر ڈلیور کرنا شروع کردیں، تو مجھے یقین ہے لوگ گروہوں کی شکل میں ملک چھوڑنے کی بجائے جوق درجوق باہر سے واپس اپنے ملک کی سدھار میں حصہ ڈالنے کو آئیں گے، خدا کریں اس ارض پاک پر اترے ، وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوطنِ عزیز کا 78واں یومِ آزادی: ملک بھرکی مساجد میں قومی سلامتی کیلئے دعاؤں کا اہتمام
    Next Article پختون بھائیوں کی قربانیوں کی لا زوال داستان پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے ،آرمی چیف
    Web Desk

    Related Posts

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.