Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جولائی 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان میں پہلی بار رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ درآمد
    • بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کارروائیاں: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین
    • امریکہ ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
    • انگلینڈ نے بھارت کو شکست دے کر ون ڈے سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی
    • پی ڈی ایم اے کا خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ
    • بنوں اور اطراف میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 24 دہشتگرد ہلاک
    • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں: نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل
    • کے پی میں بھی دہشتگردوں کیخلاف بلوچستان کی نوعیت کے آپریشن کی ضرورت ہے: گورنر فیصل کریم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر عمران خان حملے کے شواہد ضائع کرنے کا الزام عائد کردیا
    اہم خبریں

    وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر عمران خان حملے کے شواہد ضائع کرنے کا الزام عائد کردیا

    نومبر 7, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ، کپتان زخمی ہوگئے
    عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ، کپتان زخمی ہوگئے
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: وزارت داخلہ نے عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر 36 بعد بھی درج نہ ہونے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کو کمزور کرنے اور کیس کے شواہد ضائع کرنے کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیا ہے۔

    وفاقی وزارت داخلہ نے چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ پنجاب اور آئی جی پنجاب کو خط ارسال کیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے قافلے پر تین نومبر کو ہونے والی فائرنگ کے واقعہ سے متعلق دریافت کیا گیا ہے۔

    خط میں وزارت داخلہ نے ہائی پروفائل کیس کو غلط طریقے سے ڈیل کرنے پر مرکز کے شدید تحفظات سے پنجاب حکومت کو آگاہ کیا ہے اور وفاقی حکومت نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ ابھی تک ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہوئی؟

    خط میں کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر جو کہ عام طور پر کسی بھی واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر درج کی جانی چاہیے تھی، 36 گھنٹے بعد بھی درج نہیں کی گئی، جائے وقوع پر پنجاب پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں واقعہ پیش آنے کے باوجود ایف آئی آر کے اندراج میں ناکامی صوبائی حکومت کی جانب سے اس افسوس ناک واقعے پر عدم توجہی کا اظہار ہے۔

    اس واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے سابق وزیر اعظم کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور قافلے کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ سیکیورٹی طریقہ کار پر عمل نہ کرنے سمیت اس افسوس ناک واقعے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی وضاحت فراہم کرنے پر مکمل عدم آمادگی ظاہر کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے خط میں کہا ہے کہ  ابھی تک سابق وزیر اعظم کا میڈیکو لیگل معائنہ نہیں کیا گیا، یہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ صوبائی حکومت جرم کے ہتھیار کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، نہیں معلوم فرانزک تجزیہ ہوا کہ نہیں، واقعہ کے بعد کئی گھنٹوں تک جائے وقوع کو محفوظ نہیں رکھا گیا جو کہ ایک بار پھر طے شدہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے، مبینہ مجرم کی ’’اعترافی‘‘ ویڈیوز کا اجراء تفتیشی عمل میں سنگین خامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور اس کے ذمہ داران کی مذکورہ بالا ناکامیاں، اس معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالنے کا واضح ثبوت ہیں اور مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے، واقعے کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو موثر طریقے سے نہیں سنبھالا گیا جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    خط کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو سنبھالنے میں صوبائی پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی نے آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کی ہے، شرپسندوں کے چھوٹے گروہوں کی جانب سے مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں کی بندش سے پنجاب کے شہروں میں نظام زندگی مفلوج اور بین الاضلاعی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی، یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی بحالی اور تمام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اپنی کوششیں تیز کرے۔

    وزارت داخلہ نے خط میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت صوبے کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے دار کے دفتر اور رہائش کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی، لاہور میں گورنر ہاوٴس پر شرپسندوں کے ہجوم کے حملے نے صوبائی حکومت کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے میں مزید ناکامی کا ثبوت دیا۔

    خط میں وزیر آباد کے واقعے کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر واقعے کے حقائق پر مبنی میرٹ پر درج کی جائے نہ کہ قیاس آرائیوں پر درج ہو، مقدمہ کے اندراج میں تاخیر انتہائی غیر قانونی ہے، تاخیر کے سبب اصل ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسپریم کورٹ کا آئی جی پنجاب کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم
    Next Article امریکی ٹی وی میزبان کا بار بار سوال، عمران حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینے سے قاصر
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان میں پہلی بار رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ درآمد

    جولائی 17, 2026

    بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کارروائیاں: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین

    جولائی 17, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    جولائی 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان میں پہلی بار رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ درآمد

    جولائی 17, 2026

    بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کارروائیاں: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین

    جولائی 17, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    جولائی 17, 2026

    انگلینڈ نے بھارت کو شکست دے کر ون ڈے سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی

    جولائی 17, 2026

    پی ڈی ایم اے کا خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ

    جولائی 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.