Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر عمران خان حملے کے شواہد ضائع کرنے کا الزام عائد کردیا
    پنجاب نومبر 7, 2022

    وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر عمران خان حملے کے شواہد ضائع کرنے کا الزام عائد کردیا

    Facebook Twitter Email
    عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ، کپتان زخمی ہوگئے
    عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ، کپتان زخمی ہوگئے
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: وزارت داخلہ نے عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر 36 بعد بھی درج نہ ہونے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کو کمزور کرنے اور کیس کے شواہد ضائع کرنے کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیا ہے۔

    وفاقی وزارت داخلہ نے چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ پنجاب اور آئی جی پنجاب کو خط ارسال کیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے قافلے پر تین نومبر کو ہونے والی فائرنگ کے واقعہ سے متعلق دریافت کیا گیا ہے۔

    خط میں وزارت داخلہ نے ہائی پروفائل کیس کو غلط طریقے سے ڈیل کرنے پر مرکز کے شدید تحفظات سے پنجاب حکومت کو آگاہ کیا ہے اور وفاقی حکومت نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ ابھی تک ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہوئی؟

    خط میں کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر جو کہ عام طور پر کسی بھی واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر درج کی جانی چاہیے تھی، 36 گھنٹے بعد بھی درج نہیں کی گئی، جائے وقوع پر پنجاب پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں واقعہ پیش آنے کے باوجود ایف آئی آر کے اندراج میں ناکامی صوبائی حکومت کی جانب سے اس افسوس ناک واقعے پر عدم توجہی کا اظہار ہے۔

    اس واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے سابق وزیر اعظم کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور قافلے کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ سیکیورٹی طریقہ کار پر عمل نہ کرنے سمیت اس افسوس ناک واقعے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی وضاحت فراہم کرنے پر مکمل عدم آمادگی ظاہر کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے خط میں کہا ہے کہ  ابھی تک سابق وزیر اعظم کا میڈیکو لیگل معائنہ نہیں کیا گیا، یہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ صوبائی حکومت جرم کے ہتھیار کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، نہیں معلوم فرانزک تجزیہ ہوا کہ نہیں، واقعہ کے بعد کئی گھنٹوں تک جائے وقوع کو محفوظ نہیں رکھا گیا جو کہ ایک بار پھر طے شدہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے، مبینہ مجرم کی ’’اعترافی‘‘ ویڈیوز کا اجراء تفتیشی عمل میں سنگین خامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور اس کے ذمہ داران کی مذکورہ بالا ناکامیاں، اس معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالنے کا واضح ثبوت ہیں اور مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے، واقعے کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو موثر طریقے سے نہیں سنبھالا گیا جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    خط کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو سنبھالنے میں صوبائی پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی نے آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کی ہے، شرپسندوں کے چھوٹے گروہوں کی جانب سے مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں کی بندش سے پنجاب کے شہروں میں نظام زندگی مفلوج اور بین الاضلاعی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی، یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی بحالی اور تمام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اپنی کوششیں تیز کرے۔

    وزارت داخلہ نے خط میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت صوبے کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے دار کے دفتر اور رہائش کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی، لاہور میں گورنر ہاوٴس پر شرپسندوں کے ہجوم کے حملے نے صوبائی حکومت کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے میں مزید ناکامی کا ثبوت دیا۔

    خط میں وزیر آباد کے واقعے کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر واقعے کے حقائق پر مبنی میرٹ پر درج کی جائے نہ کہ قیاس آرائیوں پر درج ہو، مقدمہ کے اندراج میں تاخیر انتہائی غیر قانونی ہے، تاخیر کے سبب اصل ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسپریم کورٹ کا آئی جی پنجاب کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم
    Next Article امریکی ٹی وی میزبان کا بار بار سوال، عمران حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینے سے قاصر
    Web Desk

    Related Posts

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.