Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • 9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں
    • وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ
    • ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا
    • فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال
    • بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج
    • صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار
    • خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی
    • آئندہ 24 گھنٹوں میں گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر عمران خان حملے کے شواہد ضائع کرنے کا الزام عائد کردیا
    اہم خبریں نومبر 7, 2022

    وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر عمران خان حملے کے شواہد ضائع کرنے کا الزام عائد کردیا

    Facebook Twitter Email
    عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ، کپتان زخمی ہوگئے
    عمران خان کے کنٹینر کے قریب فائرنگ، کپتان زخمی ہوگئے
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: وزارت داخلہ نے عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر 36 بعد بھی درج نہ ہونے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کو کمزور کرنے اور کیس کے شواہد ضائع کرنے کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیا ہے۔

    وفاقی وزارت داخلہ نے چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ پنجاب اور آئی جی پنجاب کو خط ارسال کیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے قافلے پر تین نومبر کو ہونے والی فائرنگ کے واقعہ سے متعلق دریافت کیا گیا ہے۔

    خط میں وزارت داخلہ نے ہائی پروفائل کیس کو غلط طریقے سے ڈیل کرنے پر مرکز کے شدید تحفظات سے پنجاب حکومت کو آگاہ کیا ہے اور وفاقی حکومت نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ ابھی تک ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہوئی؟

    خط میں کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر جو کہ عام طور پر کسی بھی واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر درج کی جانی چاہیے تھی، 36 گھنٹے بعد بھی درج نہیں کی گئی، جائے وقوع پر پنجاب پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں واقعہ پیش آنے کے باوجود ایف آئی آر کے اندراج میں ناکامی صوبائی حکومت کی جانب سے اس افسوس ناک واقعے پر عدم توجہی کا اظہار ہے۔

    اس واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے سابق وزیر اعظم کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور قافلے کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ سیکیورٹی طریقہ کار پر عمل نہ کرنے سمیت اس افسوس ناک واقعے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی وضاحت فراہم کرنے پر مکمل عدم آمادگی ظاہر کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے خط میں کہا ہے کہ  ابھی تک سابق وزیر اعظم کا میڈیکو لیگل معائنہ نہیں کیا گیا، یہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ صوبائی حکومت جرم کے ہتھیار کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، نہیں معلوم فرانزک تجزیہ ہوا کہ نہیں، واقعہ کے بعد کئی گھنٹوں تک جائے وقوع کو محفوظ نہیں رکھا گیا جو کہ ایک بار پھر طے شدہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے، مبینہ مجرم کی ’’اعترافی‘‘ ویڈیوز کا اجراء تفتیشی عمل میں سنگین خامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور اس کے ذمہ داران کی مذکورہ بالا ناکامیاں، اس معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالنے کا واضح ثبوت ہیں اور مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے، واقعے کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو موثر طریقے سے نہیں سنبھالا گیا جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    خط کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو سنبھالنے میں صوبائی پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی نے آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کی ہے، شرپسندوں کے چھوٹے گروہوں کی جانب سے مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں کی بندش سے پنجاب کے شہروں میں نظام زندگی مفلوج اور بین الاضلاعی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی، یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی بحالی اور تمام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اپنی کوششیں تیز کرے۔

    وزارت داخلہ نے خط میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت صوبے کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے دار کے دفتر اور رہائش کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی، لاہور میں گورنر ہاوٴس پر شرپسندوں کے ہجوم کے حملے نے صوبائی حکومت کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے میں مزید ناکامی کا ثبوت دیا۔

    خط میں وزیر آباد کے واقعے کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر واقعے کے حقائق پر مبنی میرٹ پر درج کی جائے نہ کہ قیاس آرائیوں پر درج ہو، مقدمہ کے اندراج میں تاخیر انتہائی غیر قانونی ہے، تاخیر کے سبب اصل ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسپریم کورٹ کا آئی جی پنجاب کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم
    Next Article امریکی ٹی وی میزبان کا بار بار سوال، عمران حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینے سے قاصر
    Web Desk

    Related Posts

    9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں

    اگست 25, 2026

    وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    اگست 25, 2026

    ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا

    اگست 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں

    اگست 25, 2026

    وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    اگست 25, 2026

    ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا

    اگست 25, 2026

    فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال

    اگست 25, 2026

    بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج

    اگست 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.