Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اپریل 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان توجہ کا مرکز بن گیا، تاریخی مذاکرات آج اسلام آباد میں ہورہے ہیں
    • پشاور نے کراچی کو 159 رنز کے بڑے مارجن سے ہراکر پی ايس ايل میں تاریخ رقم کرلی
    • بلاول بھٹو زرداری کا وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون، امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف
    • فیلڈ مارشل کی وزیر اعظم سے ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
    • فرانسیسی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون، امن کوششوں پر مبارکباد
    • پاکستان نے ہمیشہ مثبت سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ
    • ‎وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، اسلام آباد مذاکرات کے انتظامات پر بات چیت
    • خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، پاک فوج کی ریسکیو کارروائیاں جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔ چیف جسٹس
    اہم خبریں

    وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔ چیف جسٹس

    مئی 15, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے حکم کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست میں عدالت نے سیاسی جماعتوں سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کردیے۔ 14 مئی گزرگیا تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات نہ ہوسکے۔

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں3 رکنی خصوصی بینچ  نےکیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 14مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر  رکھی ہے، الیکشن کمیشن کا موقف  ہےکہ انتخابات کی تاریخ دینےکا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں۔

    سماعت کا آغاز ہوا تو  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، آپ دلائل میں کتنا وقت لیں گے؟ وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مجھے دو سے 3 دن درکار ہوں گے۔

    اس دوران پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ آئین کا قتل کردیا گیا ہے، ملکی آبادی کا 10 کروڑ حصہ نمائندگی سے محروم ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں انتخابات کا وقت ابھی ہے، پریشان کن ہےکہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے، باہر دیکھیں کیا ماحول ہے، دو اہم چیزیں فنڈز اور  سکیورٹی کی تھیں، آج آپ نے درخواست میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارکا پنڈورا باکس کھولا ہے، یہ آپ کے مرکزی کیس میں موقف نہیں تھا، سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی اور کو بات کرنا چاہیے۔  وفاقی حکومت کو ان معاملات پر عدالت آنا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں آئے، نظرثانی کا آپشن آپ کے پاس تھا جو آپ نے استعمال کیا، ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، باہر دیکھیں انسٹالیشنز کو آگ لگائی جا رہی ہے، اللہ تعالی مشکل وقت میں صبر کی تلقین کرتا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نگران حکومت غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل درآمد سب کا فرض ہے، لوگ آئین کی عمل داری اور خلاف ورزی کے درمیان کھڑے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ ضروری ہے، اس ماحول میں آئین پر عمل درآمد کیسےکرایا جائے؟ ایک طرف سے بھی اخلاقیات کی پاسداری کی جاتی تو عدالت دوسری طرف کو الزام دیتی۔

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت نے مذاکرات کا کہا، میرے مذاکراتی ٹیم کے دونوں ساتھی گرفتار ہوگئے، اب مذاکرات ختم ہوکر بات آئین کی عمل داری پر آگئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے تنازع کو بڑھایا جا رہا ہے، لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، اداروں کی تذلیل ہو رہی ہے، تنصیبات کو جلایا جا رہا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں، جو بیانیہ دونوں جانب سے بنایا جا رہا ہے اس کا حل کریں، بال حکومت کے کورٹ میں ہے، حکومت مذاکرات کی دعوت دے تو علی ظفربھی اپنی قیادت سے بات کریں، سپریم کورٹ پاکستانی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے موجود ہے، بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے امن ہونا ضروری ہے، اکانومی منجمند ہے، کل موٹروے پر سفر کیا وہ خالی تھی، لوگ باہر نہیں نکل رہے چپ ہوکر بیٹھ گئے ہیں، باہر شدید پرتشدد ماحول ہے،بد ترین دشمن کے بارے بھی زبانوں کو کنٹرول کرنا چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور: جلاؤ گھیراؤ میں ملوث سابق پی ٹی آئی ایم پی اے سے رابطوں پر ایس ایچ اوکیخلاف مقدمہ
    Next Article پارلیمنٹ نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ریفرنس لانےکا اصولی فیصلہ کرلیا
    Web Desk

    Related Posts

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان توجہ کا مرکز بن گیا، تاریخی مذاکرات آج اسلام آباد میں ہورہے ہیں

    اپریل 9, 2026

    بلاول بھٹو زرداری کا وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون، امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف

    اپریل 9, 2026

    فیلڈ مارشل کی وزیر اعظم سے ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    اپریل 9, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان توجہ کا مرکز بن گیا، تاریخی مذاکرات آج اسلام آباد میں ہورہے ہیں

    اپریل 9, 2026

    پشاور نے کراچی کو 159 رنز کے بڑے مارجن سے ہراکر پی ايس ايل میں تاریخ رقم کرلی

    اپریل 9, 2026

    بلاول بھٹو زرداری کا وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون، امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف

    اپریل 9, 2026

    فیلڈ مارشل کی وزیر اعظم سے ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    اپریل 9, 2026

    فرانسیسی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون، امن کوششوں پر مبارکباد

    اپریل 9, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.