Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    • وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔ چیف جسٹس
    اہم خبریں مئی 15, 2023

    وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔ چیف جسٹس

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے حکم کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست میں عدالت نے سیاسی جماعتوں سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کردیے۔ 14 مئی گزرگیا تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات نہ ہوسکے۔

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں3 رکنی خصوصی بینچ  نےکیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 14مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر  رکھی ہے، الیکشن کمیشن کا موقف  ہےکہ انتخابات کی تاریخ دینےکا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں۔

    سماعت کا آغاز ہوا تو  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، آپ دلائل میں کتنا وقت لیں گے؟ وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مجھے دو سے 3 دن درکار ہوں گے۔

    اس دوران پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ آئین کا قتل کردیا گیا ہے، ملکی آبادی کا 10 کروڑ حصہ نمائندگی سے محروم ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں انتخابات کا وقت ابھی ہے، پریشان کن ہےکہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے، باہر دیکھیں کیا ماحول ہے، دو اہم چیزیں فنڈز اور  سکیورٹی کی تھیں، آج آپ نے درخواست میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارکا پنڈورا باکس کھولا ہے، یہ آپ کے مرکزی کیس میں موقف نہیں تھا، سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی اور کو بات کرنا چاہیے۔  وفاقی حکومت کو ان معاملات پر عدالت آنا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں آئے، نظرثانی کا آپشن آپ کے پاس تھا جو آپ نے استعمال کیا، ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، باہر دیکھیں انسٹالیشنز کو آگ لگائی جا رہی ہے، اللہ تعالی مشکل وقت میں صبر کی تلقین کرتا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نگران حکومت غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل درآمد سب کا فرض ہے، لوگ آئین کی عمل داری اور خلاف ورزی کے درمیان کھڑے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ ضروری ہے، اس ماحول میں آئین پر عمل درآمد کیسےکرایا جائے؟ ایک طرف سے بھی اخلاقیات کی پاسداری کی جاتی تو عدالت دوسری طرف کو الزام دیتی۔

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت نے مذاکرات کا کہا، میرے مذاکراتی ٹیم کے دونوں ساتھی گرفتار ہوگئے، اب مذاکرات ختم ہوکر بات آئین کی عمل داری پر آگئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے تنازع کو بڑھایا جا رہا ہے، لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، اداروں کی تذلیل ہو رہی ہے، تنصیبات کو جلایا جا رہا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں، جو بیانیہ دونوں جانب سے بنایا جا رہا ہے اس کا حل کریں، بال حکومت کے کورٹ میں ہے، حکومت مذاکرات کی دعوت دے تو علی ظفربھی اپنی قیادت سے بات کریں، سپریم کورٹ پاکستانی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے موجود ہے، بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے امن ہونا ضروری ہے، اکانومی منجمند ہے، کل موٹروے پر سفر کیا وہ خالی تھی، لوگ باہر نہیں نکل رہے چپ ہوکر بیٹھ گئے ہیں، باہر شدید پرتشدد ماحول ہے،بد ترین دشمن کے بارے بھی زبانوں کو کنٹرول کرنا چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور: جلاؤ گھیراؤ میں ملوث سابق پی ٹی آئی ایم پی اے سے رابطوں پر ایس ایچ اوکیخلاف مقدمہ
    Next Article پارلیمنٹ نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ریفرنس لانےکا اصولی فیصلہ کرلیا
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.