Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کيساتھ بارش کی پیشگوئی
    • پاک فضائیہ کے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
    • پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف متحد
    • وزیراعظم کی زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر حملے کی مذمت، بھرپور مزاہمت پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش
    • کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی
    • خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
    • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ سپریم کورٹ
    اہم خبریں

    فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ سپریم کورٹ

    ستمبر 28, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس میں کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ سب اتنا ڈرے ہوئے کیوں ہیں؟ 

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تین رکنی بینچ فیض آباد  دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کررہا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہی فریقین نے نظر ثانی درخواستیں واپس لے لیں۔ پیمرا اور انٹیلی جنس بیورو کے بعد اب وفاق نے بھی نظرثانی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تصدیق اٹارنی جنرل نے کی۔ وفاق نے بذریعہ وزارت دفاع نظرثانی درخواست دائر کی تھی تاہم اب اٹارنی جنرل عثمان منصور نے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا نظرثانی درخواست واپس لے رہے ہیں۔

    سماعت کا احوال

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق اس کیس میں دفاع نہیں کرنا چاہتا، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اب کیوں کیس واپس لینا چاہتے ہیں؟ پہلے کہا گیا فیصلے میں غلطیاں ہیں، اب واپس لینے کی وجوہات تو بتائیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی اپیل جب دائر کی گئی اس وقت حکومت اور تھی، چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے تحریری درخواست کیوں دائرنہیں کی؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میں اپنا بیان دے رہا ہوں۔

    دوران سماعت پیمرا کے وکیل حافظ احسان نے بھی عدالت کو بتایا کہ میں بھی اپنی نظرثانی اپیل واپس لے رہا ہوں، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس کی ہدایات پر واپس لے رہے ہیں؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں، یہ ریگولربینچ ہے خصوصی بینچ نہیں، نظرثانی درخواستیں فوری مقرر ہوتی ہیں مگر یہ 4 سال مقررنہ ہوئیں، فیصلہ دینے والے ایک جج ریٹائرڈ ہوچکے اس لیے اُس بینچ کے سامنےکیس نہیں لگا۔

    سماعت کے دوران پی ٹی آئی نے بھی درخواست واپس لینے کی استدعا کی اور وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے، اس پر چیف جسٹس نے علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آپ کو درخواست واپس لینے کا اختیار ہے؟ اگر آپ فریق بننا چاہتے ہیں تو عدالت آپ کو اجازت دے گی، علی ظفر نے جواب دیا کہ نہیں ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے۔ دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سوالات اٹھادیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے کہا گیا تھا فیصلہ غلطیوں سے بھرا پڑا ہے، اب کیا فیصلے میں غلطیاں ختم ہوگئیں؟ کیا نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی کوئی وجہ ہے؟ جو اتھارٹی میں رہ چکے وہ ٹی وی اور یوٹیوب پرتقاریرکرتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ہمیں سنا نہیں گیا، اب ہم سننے کیلئے بیٹھے ہیں، آکربتائیں، ہم یہ درخواستیں زیر التوا رکھ لیتے ہیں،کسی نے کچھ کہنا ہے تو تحریری طورپرکہے، آپ طویل پروگرام کرلیں مگر ہر ادارے کو تباہ نہ کریں، یہاں آپ خاموش ہیں اور ٹی وی پر کہیں گے کہ ہمیں سنا نہیں گیا، ہم پیمرا کی درخواست زیرالتو رکھیں گے،کل کوئی یہ نہ کہے ہمیں سنا نہیں گیا، سوال تو اٹھتا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پرعمل کیوں نہیں ہوا؟ آخر سب اتنے ڈرے کیوں ہوئے ہیں؟

    دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل قمر افضل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نظرثانی واپس لے رہی ہے، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن تب ٹھیک تھا یا اب ہے؟ کیا کوئی کنڈکٹر تھا جو یہ سب کرا رہا تھا؟ الیکشن کمیشن نے تب کس کے کہنے پر نظرثانی دائرکی؟ آرکیسٹرا میں سب میوزک بجاتے ہیں اور سامنے ایک ڈنڈا لیے کمانڈ دے رہا ہوتا ہے، کیا الیکشن کمیشن تب کنٹرول ہورہا تھا اب ہورہا ہے یا ہمیشہ سے ہوتا آیا؟

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بتائیں کیا معاملہ تھا آخر2017 میں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کا فیصلہ تمام حقائق بیان کررہا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب فیصلہ درست ہے تو نظرثانی میں کیوں آئے؟ کون سا نقص تھا جو تب فیصلے میں تھا اور اب نہیں ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جتھے کی طاقت کی نفی نہیں کی گئی، وہ آج بھی غالب ہے، سبق نہیں سیکھا ہم نے، جن صاحب کو بہت جمہوریت چاہیے تھی وہ کینیڈا سے واپس کیوں نہیں آتے؟ پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہورہی، اسلامی جمہوریہ پاکستان تو غلطیاں بھی تسلیم نہیں کرتا، مجھ سمیت احتساب سب کا ہونا چاہیے، احتساب سے کسی کو انکارنہیں ہونا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ نظرثانی درخواستیں پہلے کیوں نہ لگیں؟ یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوتا نئی حکومت یا پرانی حکومت، حکومت حکومت ہی رہتی ہے پارٹی جو بھی ہو، سپریم کورٹ بھی وہی رہتی ہے جج چاہے کوئی بھی ہو۔

    اس دوران اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پرعملدرآمد کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کریں گے لیکن عدالت وقت دے دے۔ بعد ازاں عدالت نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت یکم نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو 27 اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکالعدم ٹی ٹی پی پاکستان پر حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کرتی ہے: منیر اکرم
    Next Article 200 مشتبہ عسکریت پسندوں کو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملے کرنے پر گرفتار کر لیا۔ افغان طالبان
    Web Desk

    Related Posts

    خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کيساتھ بارش کی پیشگوئی

    جولائی 7, 2026

    پاک فضائیہ کے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

    جولائی 7, 2026

    پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف متحد

    جولائی 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کيساتھ بارش کی پیشگوئی

    جولائی 7, 2026

    پاک فضائیہ کے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

    جولائی 7, 2026

    پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف متحد

    جولائی 7, 2026

    وزیراعظم کی زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر حملے کی مذمت، بھرپور مزاہمت پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    جولائی 7, 2026

    زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش

    جولائی 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.