پی ٹی آئی نے اپنے دفاتر میں باقاعدہ ملازمتیں کرنے والے اپنے عملے کو مطلع کیا ہے کہ مبینہ مالی بحران کی وجہ سے ان کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
ایک رپورٹ کے مطابق جیل میں ایک عرصہ گزارنے والے ملازمین نے کہا کہ انہیں ان کی تنخواہ کا 100 فیصد ادا کیا جانا چاہیے کیونکہ انہیں اپنا گھر بھی چلانا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کیا لیکن وہ اپنے ملازمین کے واجبات ادا کرنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔
ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی کے 25 سے 28 تنخواہ دار ملازمین ہیں جنہیں 35 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک تنخواہ ملتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں سابق حکمراں جماعت کے اکاؤنٹس، دفاتر اور میڈیا ونگ کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔
اسلام آباد اور لاہور میں سیکریٹریٹ کے مجموعی اخراجات اور تنخواہ دار ملازمین کی تنخواہیں تقریباً 40 لاکھ روپے ماہانہ ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ سال رؤف حسن نے کچھ رقم کا انتظام کیا اور ملازمین کے کچھ واجبات کی ادائیگی کی لیکن بعد میں تنخواہوں کی ادائیگی پھر تاخیر کا شکار ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں ہمیں اعلیٰ عہدیداران کی جانب سے مطلع کیا گیا تھا کہ پارٹی کے پاس بنی گالہ میں چیئرمین کے دفتر کے بلوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز نہیں ہیں لہٰذا یوٹیلٹی سروسز منقطع ہونے سے بچانے کے لیے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرکے بل ادا کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 5 ماہ کی تنخواہ زیر التوا ہے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ نومبر سے تنخواہوں میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے لیکن انہیں عملے اور ان کے اہل خانہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی عطیات وصول کرنے کے حوالے سے امیر ترین جماعت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اسے اندرون ملک اور بیرون ملک سے بھی عطیات ملتے ہیں تاہم پارٹی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے کئی بار الزام لگایا ہے کہ عطیات کی مد میں ملنے والے پارٹی فنڈز میں کرپشن ہوئی ہے اور پسندیدہ وکلا کو فیس کی مد میں کروڑوں روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔