Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جون 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قومی اسمبلی اجلاس: عالمی امن کےلیے عظیم مصالحانہ کردار پر اظہار تشکر کی متفقہ قرارداد منظور
    • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج فلاپ، باشعور کشمیری عوام نے انتشاری کمیٹی کو مسترد کر دیا
    • فتنہ الہندوستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا ناکام، 3 نوجوانوں کا شدت پسند گروہ سے لاتعلقی کا اعلان
    • 2023 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس لوٹے، یو این ایچ سی آر
    • حکومت کا پاسپورٹ نظام مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ
    • معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کا سخت ردعمل آئے گا، باقر قالیباف
    • 60 سالہ فنی خدمات کو صرف خیبر ٹیلی ویژن نے تسلیم کیا: استاد احمد گل
    • سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات ملتوی، آج کی شیڈول نشست منسوخ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » طالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟
    بلاگ

    طالبان کے قبضے کے بعد امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ کیسے لگا؟

    اپریل 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How US Weapons Left in Afghanistan Ended Up Empowering Terror Groups
    Hijacked Arms: The US Gear Behind Deadly Attacks in Pakistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    2021 میں جب امریکہ نے تقریباً دو دہائیوں بعد افغانستان سے اچانک انخلا کا اعلان کیا، تو اس وقت دنیا بھر کی نظریں کابل پر مرکوز ہو گئیں۔ امریکی فوج کا انخلا نہ صرف سیاسی و عسکری طور پر ایک بڑا واقعہ تھا، بلکہ اس کے اثرات اب بھی پورے خطے کو ہلا کر رکھے ہوئے ہیں۔

    اس انخلا کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان میں بے پناہ عسکری ساز و سامان چھوڑ دیا، جس کی مالیت امریکی محکمہ دفاع کے مطابق تقریباً سات ارب ڈالر تھی۔ اس میں 40,000 سے زائد گاڑیاں، 300,000 سے زیادہ ہتھیار، ڈرونز، نائٹ وژن آلات، ہیلی کاپٹر، اور دیگر جدید ٹیکنالوجی شامل تھی۔

    افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ اتنی بڑی مقدار میں اسلحہ کہاں گیا؟ کیا طالبان نے اسے اپنے پاس رکھا؟ یا یہ اسلحہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگا؟ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سوال کے جوابات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    پاکستانی حکومت اور سیکیورٹی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ یہ امریکی اسلحہ اب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا واضح اور حالیہ ثبوت بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والا حملہ ہے، جس میں 26 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ امریکی ساختہ تھا، جس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    1. افراتفری میں چھوٹا اسلحہ:

    جب طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا، تو افغان فوج نے شدید بد نظمی اور خوف کے عالم میں متعدد عسکری اڈے اور اسلحہ خانے چھوڑ دیے۔ کچھ اہلکار تو فرار ہو گئے اور پیچھے اسلحہ چھوڑ گئے، جب کہ کچھ نے ممکنہ طور پر یہ اسلحہ جان بوجھ کر طالبان یا دیگر گروہوں کو سونپ دیا۔

    2. طالبان اور دہشت گرد گروہوں کا گٹھ جوڑ:

    طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے درمیان نظریاتی اور تنظیمی روابط ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبان قیادت نے امریکی ہتھیار اپنے "برادر تنظیموں” کو تحفے میں دیے تاکہ وہ اپنی کارروائیاں پاکستان میں جاری رکھ سکیں۔ یہ ایک طرح کی "اسٹریٹیجک سرمایہ کاری” ہے جس کا مقصد اپنے اثر و رسوخ کو علاقائی سطح پر بڑھانا ہو سکتا ہے۔

    3. بلیک مارکیٹ میں فروخت:

    کچھ رپورٹس کے مطابق طالبان کے چند دھڑوں نے امریکی اسلحہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا تاکہ پیسہ کمایا جا سکے۔ افغان سرزمین پر اسلحے کی غیر قانونی تجارت ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کا فائدہ دنیا بھر کے شدت پسند گروہوں کو ہو رہا ہے۔

    اب جب دہشت گردوں کے پاس جدید امریکی اسلحہ موجود ہے، ان کے حملوں میں نہ صرف شدت آئی ہے بلکہ مہارت بھی بڑھی ہے۔ رات کے وقت نائٹ وژن آلات کا استعمال، بہتر نشانہ بازی، اور دور سے حملے کی صلاحیت نے پاکستان میں سیکیورٹی اداروں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اسلحہ صرف جنگی نہیں، تکنیکی بھی ہے — جس سے ان کی آپریشنل صلاحیتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔

    یہ صورتحال صرف پاکستان یا افغانستان کا مسئلہ نہیں رہا۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کے اقدامات کے نتائج کس طرح خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ امریکی اسلحے کا دہشت گردوں کے ہاتھ لگنا ایک بین الاقوامی سیکیورٹی مسئلہ ہے جس کے نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا نے نہ صرف طالبان کو طاقتور بنایا بلکہ دہشت گرد گروہوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر دیے۔ اب یہ گروہ، خاص طور پر پاکستان میں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے علاقائی تعاون، سخت نگرانی، اور عالمی سطح پر مؤثر پالیسی سازی کی فوری ضرورت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا حکومت اور مسلح افواج کا وژن ہے،وزیراعظم شہبازشریف
    Next Article سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کرینگے: وزیراعظم کا اعلان

    جون 19, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف کا ایران، امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بطور ثالث دستخط

    جون 18, 2026

    کوہاٹ اور شبقدر میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائیاں، 6 دہشتگرد ہلاک

    جون 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قومی اسمبلی اجلاس: عالمی امن کےلیے عظیم مصالحانہ کردار پر اظہار تشکر کی متفقہ قرارداد منظور

    جون 19, 2026

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج فلاپ، باشعور کشمیری عوام نے انتشاری کمیٹی کو مسترد کر دیا

    جون 19, 2026

    فتنہ الہندوستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا ناکام، 3 نوجوانوں کا شدت پسند گروہ سے لاتعلقی کا اعلان

    جون 19, 2026

    2023 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس لوٹے، یو این ایچ سی آر

    جون 19, 2026

    حکومت کا پاسپورٹ نظام مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    جون 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.