ہر نیا سال ایک سوال کے ساتھ آتا ہے۔۔کیا واقعی کچھ بدلے گا؟ یا پھر ہم وہی زندگی، وہی عادتیں، وہی شکایتیں، صرف کیلنڈر بدل کر گزار دیں گے؟ سچ یہ ہے کہ زندگی کسی یکم جنوری سے نہیں بدلتی زندگی تب بدلتی ہے جب انسان خود بدلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ نئے سال کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہ ہمیں ایک وقفہ دیتا ہے۔۔سوچنے کا، رک کر خود کو دیکھنے کا اور اپنی زندگی کا نقشہ نئے سرے سے بنانے کا۔
یہ کالم کسی فلسفیانہ خواب یا مشکل روحانی نسخے کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا زندگی کا روڈ میپ ہے جسے ہر عام آدمی بغیر کسی شور، بغیر کسی نمائش، آہستہ آہستہ خود پر لاگو کر سکتا ہےاور سکون پا سکتا ہے۔۔
پہلا سنگِ میل: زندگی سے لڑنا چھوڑ دیں۔۔
ہم میں سے اکثر لوگ زندگی کو ایک دشمن سمجھ کر جیتے ہیں۔ ہم ہر دن کسی نہ کسی شکوے کے ساتھ اٹھتے ہیں۔ یہ نہیں ملا، وہ کم ہے، لوگ برے ہیں، وقت خراب ہے۔حالانکہ سکون کا پہلا اصول یہ ہے کہ زندگی سے جنگ نہیں زندگی سے مفاہمت کی جائے۔ ہر دن کامل نہیں ہوتا ہر انسان مثالی نہیں ہوتا اور ہر خواب پورا نہیں ہوتا۔ مگر جو انسان اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے وہ آدھا سکون وہیں پا لیتا ہے۔
نئے سال میں خود سے یہ وعدہ کریں کہ میں ہر دن کو لڑ کر نہیں سمجھ کر گزاروں گا۔
دوسرا سنگِ میل: کم چاہنا اور زیادہ جینا ہے۔۔
ہمیں سکھایا گیا ہے کہ زیادہ چاہو تو کامیاب ہو جاؤ گے۔لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ زیادہ چاہنا زیادہ بے چین بھی کرتا ہے۔ایک خوبصورت زندگی کا راز بڑے خوابوں میں نہیں چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنے میں ہے۔
بیگم کے ہاتھ سے گرم چائے کا کپ،
ماں باپ کی دعا،
بچوں کی ہنسی،
دوستوں کی خاموش موجودگی۔۔
یہ وہ نعمتیں ہیں جو ہم روز نظرانداز کر دیتے ہیں۔نئے سال میں خود سے یہ عہد کریں کہ
میں خواہشات کم کروں گا احساسات گہرے کروں گا۔
تیسرا سنگِ میل: خود سے سچ بولنا سیکھیں
ہم سب دنیا سے جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن جو انسان خود سے جھوٹ بولتا ہے وہ کبھی سکون نہیں پا سکتا۔خود سے پوچھیں کہ کیا میں وہی کر رہا ہوں جو مجھے خوش کرتا ہے؟ یا صرف وہی جو لوگ مجھ سے چاہتے ہیں؟
زندگی کا سب سے مشکل مگر سب سے ضروری کام یہ ہے کہ خود کو پہچانا جائے۔
نیا سال خود فریبی ختم کرنے کا سال بنائیں۔
اپنی کمزوریوں کو مانیں اپنی حدوں کو قبول کریں اور خود کو دوسروں کے سانچوں میں فٹ کرنے کی کوشش چھوڑ دیں۔
چوتھا سنگِ میل: تعلقات میں صفائی لائیں۔
سکون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ زہریلے تعلقات ہوتے ہیں۔ہر رشتہ نبھانے کے قابل نہیں ہوتا اور ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی بعض اوقات یہ خود کو مارنے کے مترادف ہوتی ہے۔
نئے سال میں تعلقات کا حساب کریں۔۔جو رشتہ آپ کو تھکا دے جو بات آپ کو اندر سے توڑ دے
اور جو تعلق آپ کو خود سے دور کر دےاسے وقار کے ساتھ چھوڑ دینا بھی ایک ہنر ہے۔۔۔
یاد رکھیں۔۔کم لوگ مگر صاف دل۔۔یہی پُرسکون زندگی کا فارمولا ہے۔
پانچواں سنگِ میل: وقت کے ساتھ انصاف کریں
ہم سب کے پاس دن کے 24 گھنٹے ہیں مگر کسی کے پاس سکون ہے کسی کے پاس نہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ وقت کو استعمال کرتے ہیں اور کچھ لوگ وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔۔خاص طور پر سوشل میڈیا پر، فضول بحثوں میں، اور بے مقصد دوڑ میں۔
نئے سال میں وقت کی قدر سیکھیں۔۔ روز تھوڑا سا وقت خود کے لیے نکالیں۔۔خاموشی، مطالعہ، دعا یا صرف سوچنے کے لیے۔
یہ چھوٹے لمحات آپ کی زندگی کا بڑا بوجھ ہلکا کر دیں گے۔
چھٹا سنگِ میل: صحت کو ترجیح بنائیں
ہم سب کچھ بچا لیتے ہیں سوائے اپنی صحت کے۔۔۔نیند، خوراک اور جسمانی حرکت۔۔یہ تین چیزیں اگر درست ہو جائیں تو آدھی بیماریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔
نئے سال میں بڑے وعدے نہ کریں بس اتنا کریں کہ روز تھوڑا بہتر کھائیں تھوڑا جلد سوئیں اور تھوڑا سا چل لیں۔
یاد رکھیں: بیمار جسم میں خوش روح قید ہو جاتی ہے۔
ساتواں سنگِ میل: شکرگزاری کا ہنر سیکھیں۔
سکون کی سب سے بڑی کنجی شکر ہے۔
جو کچھ نہیں ملا اس کا رونا ہم سب کو آتا ہے،
مگر جو مل گیا ہے اس کا شکرہم بھول جاتے ہیں۔۔نیا سال شکرگزاری سے شروع کریں۔روز رات سونے سے پہلےصرف تین چیزیں لکھیں
جن پر آپ اللہ کے شکرگزار ہیں۔
چند ہفتوں میں اپ کی نظر بدل جائے گی اور نظر بدلتے ہی زندگی بدلنے لگتی ہے۔
آٹھواں سنگِ میل: خود کو معاف کرنا سمجھیں۔
ہم سب نے غلطیاں کی ہیں ہم سب کہیں نہ کہیں ہارے ہیں مگر جو انسان خود کو معاف نہیں کرتا وہ ماضی کا قیدی بن جاتا ہے۔
نئے سال میں اپنی پرانی ناکامیوں کو سبق بنائیں ، سزا نہیں۔
یاد رکھیں اللہ معاف کرنے والا ہے مگر شرط یہ ہے کہ انسان خود کو معاف کرنا سیکھے۔
اور آخر میں یہ جاننا ضروری ہے کہ سکون کوئی منزل نہیں ایک طرزِ زندگی ہے نیا سال کوئی جادو نہیں کرتا جادو تب ہوتا ہےجب انسان اپنے اندر جھانکنا شروع کرتا ہے۔خوبصورت زندگی مہنگے خوابوں کا نام نہیں،
بلکہ سادہ دن، صاف دل، محدود خواہشات
اور بامقصد زندگی کا نام ہے۔اگر اس نئے سال میں آپ نے خود سے جنگ چھوڑ دی کم چاہنا سیکھ لیا اور شکر کرنا شروع کر دیا تو یقین مانیں سکون خود چل کر آپ کے دروازے پر دستک دے گا کیونکہ سکون باہر نہیں اندر ہوتا ہے بس راستہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔
تحریر: سجاد علی اورکزئی

