اسلام آباد سے علی شیر کی خصوصی تحریر: ۔
پاکستانی سیاست میں خواتین کی شمولیت طویل عرصے تک علامتی سمجھی جاتی رہی، اقتدار کے ایوان ہوں یا فیصلہ سازی کے مراکز، عورت کو اکثر پردے کے پیچھے رکھا گیا، مگر وقت کے ساتھ کچھ نام ایسے ابھرے جنہوں نے اس تاثر کو توڑا، اور انہی ناموں میں شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نمایاں نظر آتی ہیں ۔ ان کا سیاسی سفر محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پاکستانی سیاست میں خواتین کی جدوجہد کی علامت ہے ۔
مریم نواز کے طرز سیاست، طرز حاکمیت کے ساتھ اختلاف رکھے جاسکتے ہیں، ان کے طرز سیاست اور حاکمیت کا میں بحیثیت قلمکار سخت ناقد رہا اور ہوں مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم تصویر کے صرف ایک ہی رخ کو ترجیح دیں ہم پر یہ فرض ہے کہ جہاں ہم تنقید برائے اصلاح کریں وہی سیاسی جد وجہد اور بہتر سے بہتر کر گزرنے کی کاوشوں کو بھی قلم کی نوک پر رکھیں ۔
مریم نواز کو ابتدا ہی سے سیاسی وراثت کے طعنے دیے گئے، ان کی قابلیت اور سیاسی جدوجہد پر سوالات اٹھائے گئے، ان کا بی بی شہید کے ساتھ موازنہ پر شدید تنقید کی گئی، ظاہر ہے تنقید بنتی بھی تھی محترمہ بےنظیر بھٹو نے اپنے والد کا عدالتی قتل کے بعد پیپلز پارٹی کا علم تھاما سیاسی سفر کا ابتدائیہ ہی مزاحمتی رہا تب جا کر وہ بےنظیر بنی اگر اس تناظر میں دیکھیں تو مریم نواز نے بھی عملا سیاست کا آغاز مزاحمتی سیاست سے شروع کیا جب ان کے والد پر بدترین آمریت کا مظاہرہ ہو رہا تھا طویل عرصے تک مضبوط اعصاب اور ٹکراؤ کی ہر ممکنہ حد تک مریم نواز نے اپنے والد کا دفاع کیا ۔
اس مزاحمتی سیاست نے مریم نواز کا ثابت قدم رہنا ہی نے ناقدین کو خاموش کرا دیا ۔ پانامہ کیس کے بعد جس دباؤ، احتسابی عمل اور قید و بند کا سامنا انہوں نے کیا، اس نے ان کی سیاسی شخصیت کو مزید نکھارا ۔ وہ دور جب سیاست چھوڑ دینا نسبتاً آسان راستہ تھا، مریم نواز نے عوامی سیاست کا انتخاب کیا اور یہی فیصلہ ان کی پہچان بن گیا ۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہونے کے بعد مریم نواز نے یہ واضح کر دیا کہ وہ محض نمائشی قیادت پر یقین نہیں رکھتیں ۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں نظم و نسق ایک سنجیدہ چیلنج ہوتا ہے، اس منصب پر فائز ہوتے ہی پھر سے ناقدین نے ان پر تنقید کے نشتر برسانا شروع کر دئیے، ان کا حکومتی تجربہ نہ ہونا بڑی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی رہی جماعت کے اندر بھی ان کیخلاف چہ میگوئیاں شروع ہوگئی کہ مریم نواز کو پاکستان کے اہم ترین صوبے کا وزیر اعلی بنانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں وہ بھی ایسے مرحلے میں جب جماعت کا گراف آسمان سے زمین ریز ہوا ہے ۔
شدید سیاسی مشکلات، ناتجربہ کاری، جماعتی گراف زوال پزیر جیسے چیلنجز کے ہوتے ہوئے بھی مریم نواز نے حوصلہ نہیں ہارا اور منصب وزیراعلی پر فائز ہوتے ہی عوامی ترجیحات، عوام پر براہ راست سرمایہ کاری کا بیانیہ اپناتے ہوئے ابتدائی مہینوں میں ہی صحت، تعلیم اور عوامی سہولت کے شعبوں میں ٹھوس انقلابی اقدامات اٹھائے جس نے ان کی حکومتی ترجیحات کو واضح کر دیا ۔
سرکاری ہسپتالوں کی بہتری، مفت ادویات، سکولوں کی بحالی اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری ایسے اقدامات ہیں جو کاغذی نہیں بلکہ عملی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں ۔
ان کی حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ فلاحی اقدامات کو محض سیاسی نعرہ نہیں بنایا گیا بلکہ انہیں نظام کا حصہ بنایا ۔ خواتین اور بچوں کے تحفظ، غریب طبقات کے لیے سہولتوں اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں اس سوچ کی عکاس ہیں کہ اقتدار کا اصل مقصد عوامی خدمت ہے ۔
یہ درست ہے کہ سیاست میں اختلاف اور تنقید ناگزیر ہوتے ہیں، اور مریم نواز کی پالیسیوں پر سوالات بھی اٹھتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے خود کو ایک فعال، متحرک اور فیصلہ ساز وزیرِ اعلیٰ کے طور پر منوایا ہے ۔ وہ اب صرف ایک جماعت کی نمائندہ نہیں بلکہ پنجاب کے عوام کے لیے ایک عملی قیادت کی صورت اختیار کر چکی ہیں ۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مریم نواز کا سیاسی سفر صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا وہ سفر ہے جو پاکستانی سیاست میں خواتین کے کردار کو نئی طاقت دے رہا ہے ۔ یہ سفر ابھی جاری ہے، اور اس سفر کے اثرات آنے والے وقت میں ملکی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔

