Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, اکتوبر 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • آفریدی دور میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,767 واقعات، 1,149 افراد جاں بحق ہونے کا انکشاف
    • خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کے قانون میں ترمیم پر سوالات، پی ٹی آئی رہنماؤں کو فائدہ پہنچانے کا الزام
    • افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ
    • بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار
    • گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت
    • پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال
    • سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت
    • انٹیلی جنس رپورٹ: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !
    بلاگ فروری 22, 2026

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    Facebook Twitter Email
    The key to peace is in Kabul's hands.
    کہ اگر افغان حکومت افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ خیرسگالی اور تعاون کی پالیسی اپنائی اور یہ پوری دنیا سمیت خود افغانستان بھی تسلیم کرتا ہے، پاکستان نے  لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی، مشکل وقت میں سفارتی اور انسانی امداد فراہم کی، حتیٰ کہ عالمی سطح پر افغانستان کے مؤقف کو بھی اجاگر کیا، مگر سوال یہ ہے کہ اس خیرسگالی کے بدلے پاکستان کو کیا ملا؟

    گزشتہ چند برسوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کی  کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس اور خود ٹی ٹی پی کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تنظیم کی قیادت اور تربیتی مراکز افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے دے تو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق یہ محض داخلی معاملہ نہیں رہتا ۔

    افغانستان میں برسراقتدار افغان طالبان نے بارہا یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن یہ زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ، آج تک طالبان نے افغان سرزمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ،اور  زمینی حقائق بھی  ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، سرحد پار سے دراندازی، حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے شواہد پاکستان  نے بارہا اقوام متحدہ سمیت افغان حکام کو بھی دیئے ۔

    یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ کر لے؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی حکومت اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو تو متاثرہ ملک کو محدود اور ہدفی کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے، دنیا میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں ریاستوں نے اپنے دفاع کے لیے سرحد پار آپریشن کیے ۔

    لیکن مسئلے کا حل محض عسکری نہیں،اصل ذمہ داری کابل حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح اور عملی اقدامات کرے۔ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، قیادت کی حوالگی  اور سرحدی نگرانی کا مؤثر نظام ناگزیر ہے، بیانات اور وعدے کافی نہیں ، نتائج درکار ہیں ۔

    اگر  افغان سرزمین سے دہشتگرد تنظیمیں پاکستان پر حملے جاری رکھتی ہیں اور افغان حکومت ان دہشتگردوں کو لگام نہیں ڈالتی تو ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس آپشن کیا بچتا ہے؟ایسے میں پاکستان  کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر افغان حکومت افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائے ، خود بھی محفوظ رہیں اور پاکستان سمیت  خطے کو بھی محفوظ بنانے میں اپنا فرض پورا کرے ۔

    گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، اگر افغان حکومت واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور اس حوالے سے صرف زبانی باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر ایسا کرنا ہوگا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleٹی 20 ورلڈ کپ سُپر ایٹ مرحلہ،جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھارت کو شرمناک شکست
    Next Article پشین میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، خودکش حملہ آور سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    آفریدی دور میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,767 واقعات، 1,149 افراد جاں بحق ہونے کا انکشاف

    اکتوبر 16, 2026

    خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کے قانون میں ترمیم پر سوالات، پی ٹی آئی رہنماؤں کو فائدہ پہنچانے کا الزام

    اکتوبر 16, 2026

    افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ

    اکتوبر 15, 2026

    بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار

    اکتوبر 15, 2026

    گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت

    اکتوبر 15, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.