Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اپریل 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس، اسلام آباد امن مذاکرات کی حمایت میں قراداد متفقہ طور پر منظور
    • وزیر اعظم کا خضدار میں جام شہادت نوش کرنے والی خاتون کانسٹیبل ملک ناز بلوچ کو خراج عقیدت
    • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے ملاقات، خطے میں کشیدگی کے پائیدار حل پر زور دیا
    • افغان شہریوں کی طالبان رجیم اور ملا ہیبت اللہ کے خلاف عوامی ردعمل میں شدت، پاکستانی عسکری قیادت سے مدد کی اپیل
    • ایران امریکہ مذاکرات معاملہ، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل کو ہرمز ناکہ بندی پر نظرثانی کی یقین دہانی
    • عالمی امن اور معیشت کے حوالے سے پاکستان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
    • صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا بنوں آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • محسن نقوی کی ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکی سفارتخانے آمد، امریکی سفیر سے ملاقات
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !
    بلاگ

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The key to peace is in Kabul's hands.
    کہ اگر افغان حکومت افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ خیرسگالی اور تعاون کی پالیسی اپنائی اور یہ پوری دنیا سمیت خود افغانستان بھی تسلیم کرتا ہے، پاکستان نے  لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی، مشکل وقت میں سفارتی اور انسانی امداد فراہم کی، حتیٰ کہ عالمی سطح پر افغانستان کے مؤقف کو بھی اجاگر کیا، مگر سوال یہ ہے کہ اس خیرسگالی کے بدلے پاکستان کو کیا ملا؟

    گزشتہ چند برسوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کی  کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس اور خود ٹی ٹی پی کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تنظیم کی قیادت اور تربیتی مراکز افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے دے تو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق یہ محض داخلی معاملہ نہیں رہتا ۔

    افغانستان میں برسراقتدار افغان طالبان نے بارہا یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن یہ زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ، آج تک طالبان نے افغان سرزمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ،اور  زمینی حقائق بھی  ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، سرحد پار سے دراندازی، حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے شواہد پاکستان  نے بارہا اقوام متحدہ سمیت افغان حکام کو بھی دیئے ۔

    یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ کر لے؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی حکومت اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو تو متاثرہ ملک کو محدود اور ہدفی کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے، دنیا میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں ریاستوں نے اپنے دفاع کے لیے سرحد پار آپریشن کیے ۔

    لیکن مسئلے کا حل محض عسکری نہیں،اصل ذمہ داری کابل حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح اور عملی اقدامات کرے۔ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، قیادت کی حوالگی  اور سرحدی نگرانی کا مؤثر نظام ناگزیر ہے، بیانات اور وعدے کافی نہیں ، نتائج درکار ہیں ۔

    اگر  افغان سرزمین سے دہشتگرد تنظیمیں پاکستان پر حملے جاری رکھتی ہیں اور افغان حکومت ان دہشتگردوں کو لگام نہیں ڈالتی تو ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس آپشن کیا بچتا ہے؟ایسے میں پاکستان  کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر افغان حکومت افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائے ، خود بھی محفوظ رہیں اور پاکستان سمیت  خطے کو بھی محفوظ بنانے میں اپنا فرض پورا کرے ۔

    گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، اگر افغان حکومت واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور اس حوالے سے صرف زبانی باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر ایسا کرنا ہوگا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleٹی 20 ورلڈ کپ سُپر ایٹ مرحلہ،جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھارت کو شرمناک شکست
    Next Article پشین میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، خودکش حملہ آور سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس، اسلام آباد امن مذاکرات کی حمایت میں قراداد متفقہ طور پر منظور

    اپریل 20, 2026

    وزیر اعظم کا خضدار میں جام شہادت نوش کرنے والی خاتون کانسٹیبل ملک ناز بلوچ کو خراج عقیدت

    اپریل 20, 2026

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے ملاقات، خطے میں کشیدگی کے پائیدار حل پر زور دیا

    اپریل 20, 2026

    افغان شہریوں کی طالبان رجیم اور ملا ہیبت اللہ کے خلاف عوامی ردعمل میں شدت، پاکستانی عسکری قیادت سے مدد کی اپیل

    اپریل 20, 2026

    ایران امریکہ مذاکرات معاملہ، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل کو ہرمز ناکہ بندی پر نظرثانی کی یقین دہانی

    اپریل 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.