Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, جولائی 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز، بابراعظم قومی ٹیم کے کپتان مقرر
    • دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ نے بھارت کو چار وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی
    • شہید کیپٹن کرنل شیر خان کی 27ویں برسی، پاک فوج کی سلامی اور خراجِ عقیدت
    • قلعہ عبداللہ میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، کمانڈر عبید اللہ کاکڑ سمیت چار افراد جاں بحق
    • ایران اور امریکہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی کو پاکستان میں متوقع، رپورٹ
    • ترک صدر کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا، وزیراعظم شہبازشریف
    • پشاور: سنگین جرائم کے 25 مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
    • سانحہ سیف اللہ جھیل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، کشتی آپریٹر کو گرفتار کرلیا گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟
    بلاگ

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The announcement of the liberation force, the final decision of political loyalty or conflict
    ملکی سیاست کو اس وقت جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ مکالمے اور ادارہ جاتی استحکام کی ضرورت ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستانی سیاست میں بیانات اکثر محض الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ آئندہ سیاسی چالوں کی تمہید ثابت ہوتے ہیں،خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے’’فورس‘‘بنانے کے اعلان نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے، یہ اعلان محض جذباتی وابستگی کا اظہار ہے یا ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی؟ اس سوال کے جواب کا جائزہ لینا ناگزیر ہے  ۔

    بانی پی ٹی آئی  اس وقت مختلف قانونی مقدمات کے باعث قید میں ہیں اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ایسے میں وزیراعلیٰ کی جانب سے ’’فورس‘‘بنانے کا اعلان دراصل پارٹی بیانیے کو مزید تقویت دینے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس اعلان کے بعد شائد سہیل آفریدی صاحب کو حالات کی نزاکت کا ادراک نہیں  ورنہ وہ ہرگز مزید متنازعہ اععلانات کرنے سے حتی الوسع گریز کرتے ۔

    یہ بات تو وزیراعلیٰ صاحب بھی خوب جانتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرلیں اپنے جارحانہ طرز سیاست کے ذریعے وہ کبھی بھی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کو ممکن نہیں بنا سکتے ، اس حوالے خود ان کے پیشرو وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی صاف بتا چکے ہیں کہ سٹریٹ مومنٹ کے ذریعے عمران خان کو رہا نہیں جا سکتا ۔

    یہ اقدام کارکنان کو متحرک رکھنے، سیاسی جوش برقرار رکھنے اور قیادت کے ساتھ وفاداری ثابت کرنے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے، پاکستانی سیاست میں علامتی اقدامات اکثر زمینی سیاست پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں، اور یہ اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے ۔

    اگر اس اعلان کو ایک اور  زاویے سے دیکھا جائے تو کسی منتخب صوبائی سربراہ کی جانب سے کسی زیرِ حراست سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے ’’فورس‘‘بنانے کا اعلان کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔

    پاکستان کا آئین ریاستی طاقت کے استعمال کو واضح قانونی حدود میں رکھتا ہے، اگر’’فورس‘‘سے مراد کوئی سرکاری یا نیم سرکاری انتظام ہے تو اس کی قانونی حیثیت مبہم ہے۔ اور اگر یہ محض سیاسی رضاکاروں کا گروہ ہے تو اس کے ممکنہ نتائج بھی قابلِ غور ہیں ۔

    اس طرح کے بیانات وقتی طور پر سیاسی فائدہ دے سکتے ہیں، مگر طویل المدتی طور پر سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ اور محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دینا بھی خارج از زمکان نہیں ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وطن عزیز بالعموم اور خیبر پختونخوا بالخصوص ایسے اعلانات اور اقدامات کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کی رہائی اکثر عدالتی فیصلوں یا سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں ہوئی ہے، نہ کہ دباؤ ڈالنے والی عوامی ’’فورسز‘‘ کے ذریعے۔ لہٰذا یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آیا یہ اعلان عملی نتائج دے گا یا محض سیاسی علامت بن کر رہ جائے گا،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ اعلان سیاسی وفاداری کا اظہار ضرور ہے، مگر ایک منتخب عہدیدار کے طور پر ان کی بنیادی ذمہ داری صوبے میں امن و امان، ترقی اور گورننس کو یقینی بنانا ہے۔ جس میں اب تک تحریک انصاف کے تمام سابقہ اور موجودہ وزیراعلیٰ ناکام دکھائی دیتے ہیں، اگر سیاسی بیانات انتظامی ترجیحات پر غالب آ جائیں تو اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، جس کا حال ہی میں صوبے میں بند راستوں کے ذریعے دیکھا جا چکا ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ ایک سیاسی رہنما اپنے قائد کی حمایت کیوں کرتا ہے؛؟بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حمایت آئینی حدود اور جمہوری اقدار کے اندر رہتے ہوئے کی جا رہی ہے؟

    پاکستانی سیاست کو اس وقت جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ مکالمے اور ادارہ جاتی استحکام کی ضرورت ہے۔ اگر ’’فورس‘‘بنانے کا اعلان محض سیاسی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے تو یہ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر جمہوری نظام کے لیے طویل المدتی چیلنج بھی بن سکتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا
    Next Article پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز، بابراعظم قومی ٹیم کے کپتان مقرر

    جولائی 5, 2026

    دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ نے بھارت کو چار وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی

    جولائی 5, 2026

    شہید کیپٹن کرنل شیر خان کی 27ویں برسی، پاک فوج کی سلامی اور خراجِ عقیدت

    جولائی 5, 2026

    قلعہ عبداللہ میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، کمانڈر عبید اللہ کاکڑ سمیت چار افراد جاں بحق

    جولائی 5, 2026

    ایران اور امریکہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی کو پاکستان میں متوقع، رپورٹ

    جولائی 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.