پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے برطانیہ کی حالیہ سیاسی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم کے استعفے اور اس کے بعد ہونے والے بعض فیصلے کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
اپنے بیان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ سابق برطانوی وزیراعظم نے ایران سے متعلق تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت سے گریز کیا، جس کے بعد ان پر مختلف نوعیت کے سیاسی دباؤ بڑھنے لگے اور بالآخر انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔
رضا امیری مقدم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نئے برطانوی وزیراعظم نے منصب سنبھالنے کے فوراً بعد امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے سلسلے میں اہم اقدامات کیے، جن میں فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت اور بعض سفارتی فیصلے بھی شامل تھے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے استعفے اور اس کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت کو محض اتفاق قرار دینا مشکل ہے اور ان معاملات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
تاہم برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے ایرانی سفیر کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔

