Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, جولائی 26, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم شہبازشریف کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • پہلے ٹیسٹ کاپہلا دن:ویسٹ انڈیز کے 3 وکٹوں پر 194 رنز،عباس کے 2 شکار
    • کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی
    • تھانہ رحمان بابا پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن، اشتہاری سمیت متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ، منشیات اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد
    • حکومت کا 27 جولائی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
    • جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، خودکش بمبار سمیت 4 حملہ آور ہلاک
    • کیئر اسٹارمر دباؤ کے تحت مستعفی ہوئے،ایرانی سفیر کا دعویٰ
    • خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    بلاگ

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    جنوری 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Why is there unwarranted criticism of the Pakistan Army in Pakistan?
    جب تنقید حقائق کے بجائے جذبات، سیاسی وابستگی یا ذاتی مفادات پر مبنی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کا شکار ہوا، پاک فوج نے بطور ادارہ ریاست کے دفاع اور بقا میں مرکزی کردار ادا کیا، اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پاک فوج کو اکثر بلا وجہ، بلا تفریق اور بعض اوقات بدنیتی پر مبنی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے، ایک جمہوری معاشرے میں اداروں پر تنقید نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی ہوتی ہے، مگر جب تنقید حقائق کے بجائے جذبات، سیاسی وابستگی یا ذاتی مفادات پر مبنی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں پاک فوج پر ہونے والی بڑی تنقید اسی زمرے میں آتی ہے ۔

    اس تنقید کی ایک بڑی وجہ سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج پر ڈالنے کی روایت ہے۔ جب منتخب حکومتیں گورننس، معیشت، مہنگائی، یا عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو ایک آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ تمام تر ذمہ داری کسی طاقتور ادارے پر ڈال دی جائے، اس عمل سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔

    سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، غیر مصدقہ خبریں، آدھے سچ، بیرونی پروپیگنڈا اور منظم مہمات اب رائے عامہ کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض حلقے دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں، جس کا مقصد اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنا ہوتا ہے ۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں فوجی مداخلت نے جمہوری ارتقا کو نقصان پہنچایا اور اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ برسوں میں پیش آنے والی ہر سیاسی، معاشی یا انتظامی خرابی کو فوج کے کھاتے میں ڈال دینا دیانت داری ہے؟ کیا سول اداروں کی ناکامیوں پر سوال اٹھانا جمہوریت کے خلاف ہے؟ یا پھر صرف ایک ادارے کو ہدف بنانا ہی آسان راستہ بن چکا ہے؟

    پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جس میں لاکھوں افسران اور جوان خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ وہی فوج ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، قدرتی آفات میں سب سے پہلے پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں اور سرحدوں پر دن رات ملک کا دفاع کیا۔ ان حقائق کو نظر انداز کر کے مکمل ادارے کو مشکوک قرار دینا انصاف نہیں ۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن کو تسلیم کیا جائے۔ فوج کو اس کے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے مضبوط بنایا جائے اور سول اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل کیا جائے، اداروں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک ہی ریاست کے ستون سمجھا جائے ۔

    تنقید ہونی چاہیے، مگر تعمیری، باخبر اور نیت کی درستگی کے ساتھ۔ بلا وجہ کی تنقید نہ صرف فوج بلکہ پوری ریاست کو کمزور کرتی ہے، آج جب پاکستان کو اندرونی استحکام اور بیرونی چیلنجز دونوں کا سامنا ہے، تو سب سے زیادہ ضرورت ہوش، توازن اور ذمہ دارانہ رویے کی ہے،نعرے بازی اور نفرت کی نہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    Next Article اسلام آباد: گھر میں گیس لیکج سے دھماکہ، 5 افراد زخمی
    webdesk

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم شہبازشریف کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    جولائی 26, 2026

    پہلے ٹیسٹ کاپہلا دن:ویسٹ انڈیز کے 3 وکٹوں پر 194 رنز،عباس کے 2 شکار

    جولائی 26, 2026

    کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی

    جولائی 26, 2026

    تھانہ رحمان بابا پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن، اشتہاری سمیت متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ، منشیات اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد

    جولائی 26, 2026

    حکومت کا 27 جولائی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

    جولائی 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.