Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر نیٹ ورک اور اقراء یونیورسٹی کا میڈیا انڈسٹری اور اکیڈمیہ کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے اہم مشاورتی اجلاس، ‘ایٹم’ (ATOM) کونسل کے قیام پر اتفاق
    • پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت
    • جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال
    • وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی
    • ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز ہوگیا
    • حج 2026: پاکستانی حجاج کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، سردار محمد یوسف
    • وزیراعظم کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کا جائزہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    بلاگ

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    جنوری 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Why is there unwarranted criticism of the Pakistan Army in Pakistan?
    جب تنقید حقائق کے بجائے جذبات، سیاسی وابستگی یا ذاتی مفادات پر مبنی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کا شکار ہوا، پاک فوج نے بطور ادارہ ریاست کے دفاع اور بقا میں مرکزی کردار ادا کیا، اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پاک فوج کو اکثر بلا وجہ، بلا تفریق اور بعض اوقات بدنیتی پر مبنی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے، ایک جمہوری معاشرے میں اداروں پر تنقید نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی ہوتی ہے، مگر جب تنقید حقائق کے بجائے جذبات، سیاسی وابستگی یا ذاتی مفادات پر مبنی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں پاک فوج پر ہونے والی بڑی تنقید اسی زمرے میں آتی ہے ۔

    اس تنقید کی ایک بڑی وجہ سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج پر ڈالنے کی روایت ہے۔ جب منتخب حکومتیں گورننس، معیشت، مہنگائی، یا عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو ایک آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ تمام تر ذمہ داری کسی طاقتور ادارے پر ڈال دی جائے، اس عمل سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔

    سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، غیر مصدقہ خبریں، آدھے سچ، بیرونی پروپیگنڈا اور منظم مہمات اب رائے عامہ کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض حلقے دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں، جس کا مقصد اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنا ہوتا ہے ۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں فوجی مداخلت نے جمہوری ارتقا کو نقصان پہنچایا اور اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ برسوں میں پیش آنے والی ہر سیاسی، معاشی یا انتظامی خرابی کو فوج کے کھاتے میں ڈال دینا دیانت داری ہے؟ کیا سول اداروں کی ناکامیوں پر سوال اٹھانا جمہوریت کے خلاف ہے؟ یا پھر صرف ایک ادارے کو ہدف بنانا ہی آسان راستہ بن چکا ہے؟

    پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جس میں لاکھوں افسران اور جوان خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ وہی فوج ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، قدرتی آفات میں سب سے پہلے پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں اور سرحدوں پر دن رات ملک کا دفاع کیا۔ ان حقائق کو نظر انداز کر کے مکمل ادارے کو مشکوک قرار دینا انصاف نہیں ۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن کو تسلیم کیا جائے۔ فوج کو اس کے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے مضبوط بنایا جائے اور سول اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل کیا جائے، اداروں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک ہی ریاست کے ستون سمجھا جائے ۔

    تنقید ہونی چاہیے، مگر تعمیری، باخبر اور نیت کی درستگی کے ساتھ۔ بلا وجہ کی تنقید نہ صرف فوج بلکہ پوری ریاست کو کمزور کرتی ہے، آج جب پاکستان کو اندرونی استحکام اور بیرونی چیلنجز دونوں کا سامنا ہے، تو سب سے زیادہ ضرورت ہوش، توازن اور ذمہ دارانہ رویے کی ہے،نعرے بازی اور نفرت کی نہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    Next Article اسلام آباد: گھر میں گیس لیکج سے دھماکہ، 5 افراد زخمی
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر نیٹ ورک اور اقراء یونیورسٹی کا میڈیا انڈسٹری اور اکیڈمیہ کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے اہم مشاورتی اجلاس، ‘ایٹم’ (ATOM) کونسل کے قیام پر اتفاق

    مئی 18, 2026

    پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت

    مئی 18, 2026

    جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن

    مئی 18, 2026

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال

    مئی 18, 2026

    وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی

    مئی 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.