Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, ستمبر 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    • توڑ پھوڑ کيس، پی ٹی آئی کے 8 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز
    • خیبر؛ پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    بلاگ جنوری 21, 2026

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    Facebook Twitter Email
    Why is there unwarranted criticism of the Pakistan Army in Pakistan?
    جب تنقید حقائق کے بجائے جذبات، سیاسی وابستگی یا ذاتی مفادات پر مبنی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کا شکار ہوا، پاک فوج نے بطور ادارہ ریاست کے دفاع اور بقا میں مرکزی کردار ادا کیا، اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پاک فوج کو اکثر بلا وجہ، بلا تفریق اور بعض اوقات بدنیتی پر مبنی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے، ایک جمہوری معاشرے میں اداروں پر تنقید نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی ہوتی ہے، مگر جب تنقید حقائق کے بجائے جذبات، سیاسی وابستگی یا ذاتی مفادات پر مبنی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں پاک فوج پر ہونے والی بڑی تنقید اسی زمرے میں آتی ہے ۔

    اس تنقید کی ایک بڑی وجہ سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج پر ڈالنے کی روایت ہے۔ جب منتخب حکومتیں گورننس، معیشت، مہنگائی، یا عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو ایک آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ تمام تر ذمہ داری کسی طاقتور ادارے پر ڈال دی جائے، اس عمل سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔

    سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، غیر مصدقہ خبریں، آدھے سچ، بیرونی پروپیگنڈا اور منظم مہمات اب رائے عامہ کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض حلقے دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں، جس کا مقصد اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنا ہوتا ہے ۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں فوجی مداخلت نے جمہوری ارتقا کو نقصان پہنچایا اور اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ برسوں میں پیش آنے والی ہر سیاسی، معاشی یا انتظامی خرابی کو فوج کے کھاتے میں ڈال دینا دیانت داری ہے؟ کیا سول اداروں کی ناکامیوں پر سوال اٹھانا جمہوریت کے خلاف ہے؟ یا پھر صرف ایک ادارے کو ہدف بنانا ہی آسان راستہ بن چکا ہے؟

    پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جس میں لاکھوں افسران اور جوان خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ وہی فوج ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، قدرتی آفات میں سب سے پہلے پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں اور سرحدوں پر دن رات ملک کا دفاع کیا۔ ان حقائق کو نظر انداز کر کے مکمل ادارے کو مشکوک قرار دینا انصاف نہیں ۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن کو تسلیم کیا جائے۔ فوج کو اس کے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے مضبوط بنایا جائے اور سول اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل کیا جائے، اداروں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک ہی ریاست کے ستون سمجھا جائے ۔

    تنقید ہونی چاہیے، مگر تعمیری، باخبر اور نیت کی درستگی کے ساتھ۔ بلا وجہ کی تنقید نہ صرف فوج بلکہ پوری ریاست کو کمزور کرتی ہے، آج جب پاکستان کو اندرونی استحکام اور بیرونی چیلنجز دونوں کا سامنا ہے، تو سب سے زیادہ ضرورت ہوش، توازن اور ذمہ دارانہ رویے کی ہے،نعرے بازی اور نفرت کی نہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    Next Article اسلام آباد: گھر میں گیس لیکج سے دھماکہ، 5 افراد زخمی
    webdesk

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026

    تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام

    ستمبر 11, 2026

    پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.