Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, جولائی 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز، بابراعظم قومی ٹیم کے کپتان مقرر
    • دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ نے بھارت کو چار وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی
    • شہید کیپٹن کرنل شیر خان کی 27ویں برسی، پاک فوج کی سلامی اور خراجِ عقیدت
    • قلعہ عبداللہ میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، کمانڈر عبید اللہ کاکڑ سمیت چار افراد جاں بحق
    • ایران اور امریکہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی کو پاکستان میں متوقع، رپورٹ
    • ترک صدر کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا، وزیراعظم شہبازشریف
    • پشاور: سنگین جرائم کے 25 مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
    • سانحہ سیف اللہ جھیل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، کشتی آپریٹر کو گرفتار کرلیا گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    بلاگ

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    جنوری 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Afghanistan: Another story of decline
    آج افغانستان میں رسمی ملازمت غیر متعلقہ ہو گئی ہے، ہنر مند مزدور بھاگ گئے ہیں، پیشہ ور افراد کی جگہ نظریاتی افراد نے لے لی ہے، اہلیت کو اطاعت کے تابع کر دیا گیا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگست 2021 سے قبل افغانستان کوئی مثالی یا کامیاب ریاست نہیں تھا، بدعنوانی موجود تھی، حکومتی رٹ کمزور تھی اور معیشت غیر ملکی امداد کے سہارے کھڑی تھی، ریاستی ادارے کمزور ضرور تھے مگر مکمل طور پر غیر فعال نہ تھے، نظام میں خرابیاں تھیں، لیکن انہیں درست کرنے کی گنجائش بھی موجود تھی، یہی وجہ ہے کہ تمام تر خامیوں کے باوجود افغانستان کو ایک ریاست کہا جا سکتا تھا ۔

    اس دور میں افغانستان کی معیشت ایک قابلِ فہم ڈھانچے کے تحت چل رہی تھی، بجٹ بنتے تھے، وزارتیں اپنا کام کر رہی تھیں، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملتی تھیں اور مرکزی بینک عالمی مالیاتی اصولوں کے دائرے میں کام کر رہا تھا، نجی شعبہ، خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور بینکاری، ایک واضح فریم ورک کے اندر منصوبہ بندی کے پوزیشن میں تھے، اگرچہ امداد نے معیشت کو بگاڑا تھا، لیکن یہ معیشت دنیا سے جڑی ہوئی تھی اور حرکت میں تھی ۔

    اس وقت افیون کی کاشت، سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں موجود تھیں، مگر وہ ریاست کی بنیاد نہیں تھیں بلکہ ایک متوازی حقیقت تھیں، طالبان کے اقتدار کے بعد یہ فرق مٹ گیا، غیر رسمی اور خفیہ معیشت ہی ریاستی نظام کا مرکز بن گئی، ٹیکس کا نظام جبر میں بدل گیا، قانون کی جگہ خوف نے لے لی اور معاشی سرگرمی کا معیار محنت کے بجائے وفاداری بن گیا ۔

    2021 سے پہلے افغانستان کی ریاست لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی تھی، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئرز، تکنیکی ماہرین، یہ سب اس نظام کا حصہ تھے جو معیشت میں گردشِ زر اور معاشرے میں ایک نازک مگر فعال متوسط طبقہ پیدا کرتا تھا، آج یہ تصویر ماند پڑ چکی ہے، ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں اور اہلیت کی جگہ نظریاتی وابستگی نے لے لی ہے ۔

    افغان طالبان سابقہ نظام کو بدعنوان اور بیرونی قرار دیتے ہیں، مگر وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ بدعنوانی کم از کم اداروں کے اندر تھی، آج صورتحال یہ ہے کہ ادارے ہی باقی نہیں رہے، طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز، غیر شفاف اور غیر جوابدہ ہو چکی ہے، فیصلے فرمانوں کے ذریعے ہوتے ہیں، نہ اپیل کا کوئی راستہ ہے اور نہ پالیسی میں کوئی تسلسل، سرمایہ کار افغان معیشت سے نہیں بلکہ طالبان کی من مانی حکمرانی سے خوفزدہ ہیں ۔

    افغانستان کو علاقائی مستقبل سے جوڑنے والے منصوبےTAPI، CASA-1000 اور تجارتی راہداریاں، کبھی امید کی علامت سمجھے جاتے تھے، یہ خیرات نہیں بلکہ اعتماد کا اظہار تھے، مگر طالبان کی حکمرانی نے اس اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، کوئی سنجیدہ سرمایہ کار اربوں ڈالر ایسے ملک میں نہیں لگا سکتا جہاں حکومت تسلیم شدہ نہ ہو اور قانونی تحفظ کا کوئی تصور موجود نہ ہو ۔

    سب سے سنگین نقصان انسانی سرمائے کو پہنچا ہے، جمہوری دور میں تعلیم، خاص طور پر خواتین کی تعلیم میں تمام تر مشکلات کے باوجود پیشرفت ہوئی تھی، طالبان نے چند ہی مہینوں میں ان کامیابیوں کو ختم کر دیا، یہ کسی بیرونی دباؤ یا پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نظریاتی فیصلہ ہے، خواتین کو تعلیم اور روزگار سے باہر کر کے معیشت کے ایک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا گیا ہے، کیونکہ سابق ادوار میں جو فیصلے اور معاشی روانی کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے تھے وہ سب ختم کردیئے گئے ۔

    ایک کمزور اور امداد پر منحصر ریاست کی اصلاح ممکن ہوتی ہے، مگر ایسا نظام جو اپنی نصف آبادی کو نظر انداز کر دے، کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا، افغانستان بدعنوانی سے شفافیت کی طرف نہیں بڑھا، بلکہ کمزوری سے زوال کی طرف چلا گیا،ایک ایسی ٹوٹی ہوئی ریاست سے جو سنبھالی جا سکتی تھی، ایک ایسے ٹوٹے ہوئے تصور تک جو سنبھلنے سے انکار کر رہا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی
    Next Article پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    webdesk

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز، بابراعظم قومی ٹیم کے کپتان مقرر

    جولائی 5, 2026

    دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ نے بھارت کو چار وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی

    جولائی 5, 2026

    شہید کیپٹن کرنل شیر خان کی 27ویں برسی، پاک فوج کی سلامی اور خراجِ عقیدت

    جولائی 5, 2026

    قلعہ عبداللہ میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، کمانڈر عبید اللہ کاکڑ سمیت چار افراد جاں بحق

    جولائی 5, 2026

    ایران اور امریکہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی کو پاکستان میں متوقع، رپورٹ

    جولائی 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.