Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
    • فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی
    • پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ
    • شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام
    • فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی
    • وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
    • عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا
    • شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    بلاگ

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    جنوری 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Afghanistan: Another story of decline
    آج افغانستان میں رسمی ملازمت غیر متعلقہ ہو گئی ہے، ہنر مند مزدور بھاگ گئے ہیں، پیشہ ور افراد کی جگہ نظریاتی افراد نے لے لی ہے، اہلیت کو اطاعت کے تابع کر دیا گیا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگست 2021 سے قبل افغانستان کوئی مثالی یا کامیاب ریاست نہیں تھا، بدعنوانی موجود تھی، حکومتی رٹ کمزور تھی اور معیشت غیر ملکی امداد کے سہارے کھڑی تھی، ریاستی ادارے کمزور ضرور تھے مگر مکمل طور پر غیر فعال نہ تھے، نظام میں خرابیاں تھیں، لیکن انہیں درست کرنے کی گنجائش بھی موجود تھی، یہی وجہ ہے کہ تمام تر خامیوں کے باوجود افغانستان کو ایک ریاست کہا جا سکتا تھا ۔

    اس دور میں افغانستان کی معیشت ایک قابلِ فہم ڈھانچے کے تحت چل رہی تھی، بجٹ بنتے تھے، وزارتیں اپنا کام کر رہی تھیں، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملتی تھیں اور مرکزی بینک عالمی مالیاتی اصولوں کے دائرے میں کام کر رہا تھا، نجی شعبہ، خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور بینکاری، ایک واضح فریم ورک کے اندر منصوبہ بندی کے پوزیشن میں تھے، اگرچہ امداد نے معیشت کو بگاڑا تھا، لیکن یہ معیشت دنیا سے جڑی ہوئی تھی اور حرکت میں تھی ۔

    اس وقت افیون کی کاشت، سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں موجود تھیں، مگر وہ ریاست کی بنیاد نہیں تھیں بلکہ ایک متوازی حقیقت تھیں، طالبان کے اقتدار کے بعد یہ فرق مٹ گیا، غیر رسمی اور خفیہ معیشت ہی ریاستی نظام کا مرکز بن گئی، ٹیکس کا نظام جبر میں بدل گیا، قانون کی جگہ خوف نے لے لی اور معاشی سرگرمی کا معیار محنت کے بجائے وفاداری بن گیا ۔

    2021 سے پہلے افغانستان کی ریاست لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی تھی، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئرز، تکنیکی ماہرین، یہ سب اس نظام کا حصہ تھے جو معیشت میں گردشِ زر اور معاشرے میں ایک نازک مگر فعال متوسط طبقہ پیدا کرتا تھا، آج یہ تصویر ماند پڑ چکی ہے، ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں اور اہلیت کی جگہ نظریاتی وابستگی نے لے لی ہے ۔

    افغان طالبان سابقہ نظام کو بدعنوان اور بیرونی قرار دیتے ہیں، مگر وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ بدعنوانی کم از کم اداروں کے اندر تھی، آج صورتحال یہ ہے کہ ادارے ہی باقی نہیں رہے، طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز، غیر شفاف اور غیر جوابدہ ہو چکی ہے، فیصلے فرمانوں کے ذریعے ہوتے ہیں، نہ اپیل کا کوئی راستہ ہے اور نہ پالیسی میں کوئی تسلسل، سرمایہ کار افغان معیشت سے نہیں بلکہ طالبان کی من مانی حکمرانی سے خوفزدہ ہیں ۔

    افغانستان کو علاقائی مستقبل سے جوڑنے والے منصوبےTAPI، CASA-1000 اور تجارتی راہداریاں، کبھی امید کی علامت سمجھے جاتے تھے، یہ خیرات نہیں بلکہ اعتماد کا اظہار تھے، مگر طالبان کی حکمرانی نے اس اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، کوئی سنجیدہ سرمایہ کار اربوں ڈالر ایسے ملک میں نہیں لگا سکتا جہاں حکومت تسلیم شدہ نہ ہو اور قانونی تحفظ کا کوئی تصور موجود نہ ہو ۔

    سب سے سنگین نقصان انسانی سرمائے کو پہنچا ہے، جمہوری دور میں تعلیم، خاص طور پر خواتین کی تعلیم میں تمام تر مشکلات کے باوجود پیشرفت ہوئی تھی، طالبان نے چند ہی مہینوں میں ان کامیابیوں کو ختم کر دیا، یہ کسی بیرونی دباؤ یا پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نظریاتی فیصلہ ہے، خواتین کو تعلیم اور روزگار سے باہر کر کے معیشت کے ایک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا گیا ہے، کیونکہ سابق ادوار میں جو فیصلے اور معاشی روانی کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے تھے وہ سب ختم کردیئے گئے ۔

    ایک کمزور اور امداد پر منحصر ریاست کی اصلاح ممکن ہوتی ہے، مگر ایسا نظام جو اپنی نصف آبادی کو نظر انداز کر دے، کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا، افغانستان بدعنوانی سے شفافیت کی طرف نہیں بڑھا، بلکہ کمزوری سے زوال کی طرف چلا گیا،ایک ایسی ٹوٹی ہوئی ریاست سے جو سنبھالی جا سکتی تھی، ایک ایسے ٹوٹے ہوئے تصور تک جو سنبھلنے سے انکار کر رہا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی
    Next Article پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

    جون 11, 2026

    فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی

    جون 11, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ

    جون 11, 2026

    شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام

    جون 11, 2026

    فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی

    جون 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.