Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, ستمبر 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    • توڑ پھوڑ کيس، پی ٹی آئی کے 8 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز
    • خیبر؛ پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    بلاگ جنوری 21, 2026

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    Facebook Twitter Email
    Afghanistan: Another story of decline
    آج افغانستان میں رسمی ملازمت غیر متعلقہ ہو گئی ہے، ہنر مند مزدور بھاگ گئے ہیں، پیشہ ور افراد کی جگہ نظریاتی افراد نے لے لی ہے، اہلیت کو اطاعت کے تابع کر دیا گیا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگست 2021 سے قبل افغانستان کوئی مثالی یا کامیاب ریاست نہیں تھا، بدعنوانی موجود تھی، حکومتی رٹ کمزور تھی اور معیشت غیر ملکی امداد کے سہارے کھڑی تھی، ریاستی ادارے کمزور ضرور تھے مگر مکمل طور پر غیر فعال نہ تھے، نظام میں خرابیاں تھیں، لیکن انہیں درست کرنے کی گنجائش بھی موجود تھی، یہی وجہ ہے کہ تمام تر خامیوں کے باوجود افغانستان کو ایک ریاست کہا جا سکتا تھا ۔

    اس دور میں افغانستان کی معیشت ایک قابلِ فہم ڈھانچے کے تحت چل رہی تھی، بجٹ بنتے تھے، وزارتیں اپنا کام کر رہی تھیں، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملتی تھیں اور مرکزی بینک عالمی مالیاتی اصولوں کے دائرے میں کام کر رہا تھا، نجی شعبہ، خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور بینکاری، ایک واضح فریم ورک کے اندر منصوبہ بندی کے پوزیشن میں تھے، اگرچہ امداد نے معیشت کو بگاڑا تھا، لیکن یہ معیشت دنیا سے جڑی ہوئی تھی اور حرکت میں تھی ۔

    اس وقت افیون کی کاشت، سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں موجود تھیں، مگر وہ ریاست کی بنیاد نہیں تھیں بلکہ ایک متوازی حقیقت تھیں، طالبان کے اقتدار کے بعد یہ فرق مٹ گیا، غیر رسمی اور خفیہ معیشت ہی ریاستی نظام کا مرکز بن گئی، ٹیکس کا نظام جبر میں بدل گیا، قانون کی جگہ خوف نے لے لی اور معاشی سرگرمی کا معیار محنت کے بجائے وفاداری بن گیا ۔

    2021 سے پہلے افغانستان کی ریاست لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی تھی، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئرز، تکنیکی ماہرین، یہ سب اس نظام کا حصہ تھے جو معیشت میں گردشِ زر اور معاشرے میں ایک نازک مگر فعال متوسط طبقہ پیدا کرتا تھا، آج یہ تصویر ماند پڑ چکی ہے، ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں اور اہلیت کی جگہ نظریاتی وابستگی نے لے لی ہے ۔

    افغان طالبان سابقہ نظام کو بدعنوان اور بیرونی قرار دیتے ہیں، مگر وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ بدعنوانی کم از کم اداروں کے اندر تھی، آج صورتحال یہ ہے کہ ادارے ہی باقی نہیں رہے، طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز، غیر شفاف اور غیر جوابدہ ہو چکی ہے، فیصلے فرمانوں کے ذریعے ہوتے ہیں، نہ اپیل کا کوئی راستہ ہے اور نہ پالیسی میں کوئی تسلسل، سرمایہ کار افغان معیشت سے نہیں بلکہ طالبان کی من مانی حکمرانی سے خوفزدہ ہیں ۔

    افغانستان کو علاقائی مستقبل سے جوڑنے والے منصوبےTAPI، CASA-1000 اور تجارتی راہداریاں، کبھی امید کی علامت سمجھے جاتے تھے، یہ خیرات نہیں بلکہ اعتماد کا اظہار تھے، مگر طالبان کی حکمرانی نے اس اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، کوئی سنجیدہ سرمایہ کار اربوں ڈالر ایسے ملک میں نہیں لگا سکتا جہاں حکومت تسلیم شدہ نہ ہو اور قانونی تحفظ کا کوئی تصور موجود نہ ہو ۔

    سب سے سنگین نقصان انسانی سرمائے کو پہنچا ہے، جمہوری دور میں تعلیم، خاص طور پر خواتین کی تعلیم میں تمام تر مشکلات کے باوجود پیشرفت ہوئی تھی، طالبان نے چند ہی مہینوں میں ان کامیابیوں کو ختم کر دیا، یہ کسی بیرونی دباؤ یا پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نظریاتی فیصلہ ہے، خواتین کو تعلیم اور روزگار سے باہر کر کے معیشت کے ایک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا گیا ہے، کیونکہ سابق ادوار میں جو فیصلے اور معاشی روانی کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے تھے وہ سب ختم کردیئے گئے ۔

    ایک کمزور اور امداد پر منحصر ریاست کی اصلاح ممکن ہوتی ہے، مگر ایسا نظام جو اپنی نصف آبادی کو نظر انداز کر دے، کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا، افغانستان بدعنوانی سے شفافیت کی طرف نہیں بڑھا، بلکہ کمزوری سے زوال کی طرف چلا گیا،ایک ایسی ٹوٹی ہوئی ریاست سے جو سنبھالی جا سکتی تھی، ایک ایسے ٹوٹے ہوئے تصور تک جو سنبھلنے سے انکار کر رہا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی
    Next Article پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    webdesk

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026

    تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام

    ستمبر 11, 2026

    پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.