کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں سے شہری زندگی خوف میں جکڑی ہوئی
(بنوں سے فرحت اللہ بابرکی تحریر ) :بنوں میں دہشتگردی کی حالیہ لہر میں اب روایتی ہتھیاروں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے جبکہ کواڈ کاپٹر ڈرون جیسے جدید ہتھیاروں کے استعمال نے اس جنگ کی نوعیت ہی تبدیل کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق عسکریت پسند اب براہ راست حملوں میں نائٹ ویژن گنز، لیزر گنز اور جدید کواڈ کاپٹر ڈرون کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ڈرون نہ صرف مہنگے اور جدید ہیں بلکہ مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے میں انتہائی مؤثر بھی سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم مسلح عسکریت پسندوں اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری اس حالیہ جنگ میں کواڈ کاپٹر ڈرون ایک نئے اور خطرناک ہتھیار کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے بنوں کے مختلف علاقوں میں سرکاری املاک اور رہائشی گھروں پر 20 سے زائد حملے کیے گئے، جن میں 9 شہری شہید جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 35 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
زیادہ تر حملے تحصیل بکاخیل، تھانہ میریان اور تحصیل میریان کے مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئے، جہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی متاثر ہوئے۔
ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے مطابق کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور سال 2025 کے دوران 300 سے زائد ممکنہ حملے ناکام بنائے گئے جبکہ عسکریت پسندوں کے چار کواڈ کاپٹر ڈرون ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔
تاہم کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں کی یہ صورتحال نہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے بلکہ شہریوں کے لیے بھی شدید خوف و ہراس کا باعث بن رہی ہے، جس کے باعث لوگ اب اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
خدری ممندخیل سے تعلق رکھنے والے میر محمد خان نے بتایا کہ ان کے بچے عصر کے وقت گھر کے ساتھ واقع حجرے میں کھیل رہے تھے کہ اچانک اوپر سے کواڈ کاپٹر ڈرون نے حملہ کر دیا۔
“جب ہم مسجد سے نکلے تو بچے خون میں لت پت پڑے تھے۔ حملے میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ باقی خوف کے باعث بے ہوش ہو گئے۔ یہ منظر آج بھی میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔”
اسی طرح تحصیل بکاخیل کے نوجوان کمیٹی کے صدر ملک فیض محمد کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کواڈ کاپٹر ڈرون کی پروازیں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
“خواتین اور بچے خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور معمول کی زندگی متاثر ہو چکی ہے۔”
عوام کا کہنا ہے کہ جب جنگ جدید ہو جائے تو عام شہری سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔
کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں نے پورے علاقے کا سکون چھین لیا ہے، لہٰذا حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کر کے ان حملوں کا سدباب کریں تاکہ شہری، خصوصاً بچے، اس مستقل خوف اور ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کر سکیں

