Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں 80 فیصد خودکش بمبار افغان ہیں،ترجمان پاک فوج
    • کوہاٹ حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار افغان شهری نکلا، افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت
    • کوہاٹ پولیس لائن میں آپریشن مکمل،شہدا کی تعداد 24 ہو گئی، 103 افراد زخمی، حملہ آور تمام دہشتگرد ہلاک
    • آئی ٹی تعلیم کا معیار بہتر بنانا اور گریجویٹس کے روزگار کے مواقع بڑھانا ترجیح ہے، احد چیمہ
    • بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 11 دہشت گرد ہلاک
    • صوبے کی ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مثبت اقدامات کی حمایت کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
    • کوہاټ پولیس لائن خودکش حملے میں شہداء کی تعداد 21 ہو گئی، 15 پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی
    • پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کےخلاف دائر درخواست پر تفصیلی فیصلہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے سخت احکامات جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز: امن و استحکام کی ضمانت
    بلاگ جنوری 23, 2026

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز: امن و استحکام کی ضمانت

    Facebook Twitter Email
    Operations against terrorists: Guaranteeing peace and stability
    سوال یہ ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی خود وزیراعظم تھے تو کیا ان کے دور میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز نہیں ہوئے ؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    دہشت گردی نہ صرف شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ ملک کے امن، ترقی اور قومی استحکام کیلئے بھی سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشتگردی کے ہاتھوں ناقابلِ بیان نقصان اٹھایا ہے، اور اس بھاری مالی و جانی نقصان کی گواہی آج دنیا بھی دے رہی ہے ، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، معیشت متاثر ہوئی اور معاشرتی شعور پر گہرا اثر پڑا، ایسے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز ریاستی ذمہ داری کیساتھ ساتھ قومی ضرورت بھی ہیں ۔

    ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کی حفاظت ہوا کرتی ہے، جس ملک میں عوام خود کو محفوظ نہ سمجھیں وہاں انارکی پھیلتی ہے ، دہشت گرد سکولوں، بازاروں، مساجد اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر خوف و دہشت پھیلاتے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے بغیر معاشرے کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں، آپریشنز عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی زندگی اور جان کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔

    دہشت گردی کا سب سے بڑا ہتھیار خوف ہے، جب سیکیورٹی فورسز مؤثر کارروائی کرتی ہیں تو نہ صرف دہشتگرد کمزور ہوتے ہیں بلکہ عوام میں اعتماد بھی بحال ہوتا ہے، کاروبار بحال ہوتے ہیں، تعلیمی ادارے کھلتے ہیں اور زندگی معمول کے مطابق چلتی ہے، یہی امن و امان کی بحالی کا اصل مقصد ہے ۔

    ریاستی رِٹ کا قیام بھی ان آپریشنز کا بنیادی جزو ہے، اگر دہشت گرد آزاد رہیں تو قانون کی بالادستی کمزور پڑ جاتی ہے اور ملک انتشار کا شکار ہو سکتا ہے، دہشتگردوں کے خلاف بروقت کارروائیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ تشدد، قتل اور بغاوت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے ۔

    معیشت اور ترقی بھی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رک جاتی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے، آپریشنز کے نتیجے میں امن قائم ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ پھلنے پھولنے لگتی ہیں ۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جس کی پوری دنیا معترف ہے ، قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی پاک افواج ،دیگر سیکیورٹی اداروں اور عوام کی ان قربانیوں کا احترام کرے اور دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنز کی مکمل حمایت کرے، یہ حمایت دراصل پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز صرف عسکری کارروائیاں نہیں، بلکہ قومی اتحاد، قانون کی بالادستی اور معاشرتی امن کی علامت ہیں، اس لیے ان کی حمایت ہر شہری کا قومی فریضہ ہے ۔

    ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں آج دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر یک زبان ہیں لیکن صرف تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو نہ صرف دہشتگردوں کی حامی نظر آ رہی ہے بلکہ ان بدبختوں کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت بھی کر رہی ہے ، سوال یہ ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی خود وزیراعظم تھے تو کیا ان کے دور میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز نہیں ہوئے ؟ کیا انہوں نے پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز بند کروالئے تھے؟ یقیناََ نہیں ، تو پھر آج مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی
    Next Article ڈی آئی خان: شادی کی تقریب میں اتنڑ کے موقع پر خودکش حملہ، 6 افراد جاں بحق،19 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں 80 فیصد خودکش بمبار افغان ہیں،ترجمان پاک فوج

    ستمبر 19, 2026

    کوہاٹ حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار افغان شهری نکلا، افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت

    ستمبر 19, 2026

    کوہاٹ پولیس لائن میں آپریشن مکمل،شہدا کی تعداد 24 ہو گئی، 103 افراد زخمی، حملہ آور تمام دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 19, 2026

    آئی ٹی تعلیم کا معیار بہتر بنانا اور گریجویٹس کے روزگار کے مواقع بڑھانا ترجیح ہے، احد چیمہ

    ستمبر 19, 2026

    بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 11 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.