Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
    • جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
    • ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے
    • سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی قبرستان مہر گل کلے، میراکچوڑی میں کامیاب کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    • کویت کے وزیرِ دفاع کی راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • پاکستان کی مسلح افواج کویتی فوج کی تربیت و سرحدی دفاع میں معاونت کیلئے معاہدے پر دستخط
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز: امن و استحکام کی ضمانت
    بلاگ جنوری 23, 2026

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز: امن و استحکام کی ضمانت

    Facebook Twitter Email
    Operations against terrorists: Guaranteeing peace and stability
    سوال یہ ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی خود وزیراعظم تھے تو کیا ان کے دور میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز نہیں ہوئے ؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    دہشت گردی نہ صرف شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ ملک کے امن، ترقی اور قومی استحکام کیلئے بھی سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشتگردی کے ہاتھوں ناقابلِ بیان نقصان اٹھایا ہے، اور اس بھاری مالی و جانی نقصان کی گواہی آج دنیا بھی دے رہی ہے ، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، معیشت متاثر ہوئی اور معاشرتی شعور پر گہرا اثر پڑا، ایسے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز ریاستی ذمہ داری کیساتھ ساتھ قومی ضرورت بھی ہیں ۔

    ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کی حفاظت ہوا کرتی ہے، جس ملک میں عوام خود کو محفوظ نہ سمجھیں وہاں انارکی پھیلتی ہے ، دہشت گرد سکولوں، بازاروں، مساجد اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر خوف و دہشت پھیلاتے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے بغیر معاشرے کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں، آپریشنز عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی زندگی اور جان کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔

    دہشت گردی کا سب سے بڑا ہتھیار خوف ہے، جب سیکیورٹی فورسز مؤثر کارروائی کرتی ہیں تو نہ صرف دہشتگرد کمزور ہوتے ہیں بلکہ عوام میں اعتماد بھی بحال ہوتا ہے، کاروبار بحال ہوتے ہیں، تعلیمی ادارے کھلتے ہیں اور زندگی معمول کے مطابق چلتی ہے، یہی امن و امان کی بحالی کا اصل مقصد ہے ۔

    ریاستی رِٹ کا قیام بھی ان آپریشنز کا بنیادی جزو ہے، اگر دہشت گرد آزاد رہیں تو قانون کی بالادستی کمزور پڑ جاتی ہے اور ملک انتشار کا شکار ہو سکتا ہے، دہشتگردوں کے خلاف بروقت کارروائیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ تشدد، قتل اور بغاوت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے ۔

    معیشت اور ترقی بھی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رک جاتی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے، آپریشنز کے نتیجے میں امن قائم ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ پھلنے پھولنے لگتی ہیں ۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جس کی پوری دنیا معترف ہے ، قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی پاک افواج ،دیگر سیکیورٹی اداروں اور عوام کی ان قربانیوں کا احترام کرے اور دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنز کی مکمل حمایت کرے، یہ حمایت دراصل پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز صرف عسکری کارروائیاں نہیں، بلکہ قومی اتحاد، قانون کی بالادستی اور معاشرتی امن کی علامت ہیں، اس لیے ان کی حمایت ہر شہری کا قومی فریضہ ہے ۔

    ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں آج دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر یک زبان ہیں لیکن صرف تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو نہ صرف دہشتگردوں کی حامی نظر آ رہی ہے بلکہ ان بدبختوں کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت بھی کر رہی ہے ، سوال یہ ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی خود وزیراعظم تھے تو کیا ان کے دور میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز نہیں ہوئے ؟ کیا انہوں نے پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز بند کروالئے تھے؟ یقیناََ نہیں ، تو پھر آج مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی
    Next Article ڈی آئی خان: شادی کی تقریب میں اتنڑ کے موقع پر خودکش حملہ، 6 افراد جاں بحق،19 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    اگست 28, 2026

    جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی

    اگست 28, 2026

    بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    اگست 28, 2026

    ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

    اگست 28, 2026

    لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے

    اگست 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.