ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا (RSIL) نے پاکستان بار کونسل کی ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن (PBC-DLE) کے اشتراک سے “پاکستان میں قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کا مستقبل: جدت، معیار اور اثرات” کے عنوان سے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے قانون کے شعبے سے وابستہ 200 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں عدالتی اکیڈمیوں کے نمائندے، سابق جج صاحبان، بار کونسل کے ارکان، سینئر و جونیئر وکلاء، ماہرینِ قانونی اصلاحات، اساتذہ، طلبہ اور لیگل ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد شامل تھے ۔
اسلام آباد: کانفرنس میں تین بنیادی موضوعات پر غور کیا گیا: قانون کے طلبہ کی تربیت میں بہتری، وکلاء اور ججوں کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کو مضبوط بنانا اور موجودہ دور کے چیلنجز جیسے قانونی اخلاقیات، عدالتی آداب، کام کی جگہ پر ہراسانی، اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کا جائزہ ۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، پیر مسعود چشتی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے قانونی تعلیم کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی کے دو سالہ انگریزی ایل ایل بی پروگرام محدود وسائل کے باوجود قابل وکلاء تیار کرتے تھے، تاہم بعد میں تین اور پانچ سالہ پروگرامز، نجی شعبے میں تیز رفتار توسیع اور الحاق شدہ لاء کالجز کے باعث معیار میں کمی واقع ہوئی ۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ اصلاحات، جن میں نئے کالجز پر پابندیاں اور چار سالہ ایل ایل بی پروگرام شامل ہیں، معیار اور استطاعت دونوں کو بہتر بنانے کی کوشش ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے مضبوط نصاب، پیشہ ورانہ تربیت، قانونی اخلاقیات، فیس کے نظام کی نگرانی اور نوجوان وکلاء کی رہنمائی پر زور دیا ۔
افتتاحی اجلاس میں مختلف اداروں کے مابین تعاون کے ذریعے پیشہ ورانہ معیار بلند کرنے پر گفتگو ہوئی، اس پینل میں جج نوید احمد سومرو (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و سینئر فیکلٹی ممبر سندھ جوڈیشل اکیڈمی)، عامر سعید راون (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، رکن پاکستان بار کونسل)، اسد رحیم خان (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، پارٹنر اشتر علی اینڈ رحیم ایل ایل پی) اور سحر بندیال (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) شامل تھے ۔
جج نوید احمد سومرو نے قانونی تعلیم اور جدید عدالتی تقاضوں کے درمیان خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے عملی تربیت، تحقیق اور تخصص پر زور دیا، عامر سعید راون نے منظم اپرنٹس شپ، پیشہ ورانہ معیار کے مؤثر نفاذ اور مسلسل قانونی تعلیم کی توسیع کی ضرورت پر روشنی ڈالی، سحر بندیال نے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلوؤں اور خواتین وکلاء کو درپیش رکاوٹوں پر بات کی، جبکہ اسد رحیم خان نے قانونی تعلیم، رہنمائی اور معاشی رسائی میں کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لا-گیٹ کو مضبوط بنانے اور جونیئر وکلاء کے لیے کم از کم وظیفے کی تجویز دی ۔
کانفرنس کی ایک نمایاں سرگرمی قانون اور ٹیکنالوجی پر مبنی نمائش تھی، جہاں وزارتِ قانون و انصاف اور لیگل ٹیکنالوجی کمپنیوں نے جدید ڈیجیٹل اور اے آئی ٹولز پیش کیے، وزارت نے پاکستان کوڈ اور ڈاکومنٹ ریٹریول سسٹم متعارف کرایا، جبکہ اینیبلفائی اے آئی کے بانی شہزار الٰہی نے وکلاء کے لیے اے آئی کے عملی استعمال پر روشنی ڈالی۔ ڈیجی لاویئر، اے آئی اٹارنی اور پاکستان لا بوٹ نے براہِ راست مظاہرے پیش کیے ۔
شرکاء نے گروپ مباحثوں کے ذریعے لاء اسکول کے نصاب کی جدید کاری، بار ووکیشنل کورسز اور مسلسل قانونی تعلیم میں بہتری، اور ججز کے لیے خصوصی و ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت سے متعلق قابلِ عمل تجاویز تیار کیں، جنہیں متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا ۔
وفاقی سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے عدالتی نظام کی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی، جن میں ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم اور پاکستان کوڈ شامل ہیں، جو اردو سمیت تازہ قوانین تک آسان رسائی فراہم کرتے ہیں ۔
اختتامی اجلاس میں احمر بلال صوفی، عاصمہ حمید، منیر احمد ملک اور راجہ نعیم اکبر نے اصلاحات پر عمل درآمد، ٹیکنالوجی کے استعمال اور شمولیتی نظام کی ضرورت پر زور دیا ۔
وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اختتامی کلمات میں کہا کہ قانونی پیشہ مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے ۔

